دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جب اپنے بنائے ہوئے قوانین اپنے گلے پڑیں گے !!
No image احتشام الحق شامی ۔ حکومت جو نئے نئے قوانین اور ضابطے بنا رہی ہے، جن سے عوام خوفزدہ ہیں، کل یہی قوانین حکومت کے گلے پڑیں گے۔ جب آج کے حکمران کل اقتدار میں نہیں ہوں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار عارضی امانت ہے۔ جو حکمران آج طاقت کے نشے میں قوانین بناتے ہیں، وہ اکثر بھول جاتے ہیں کہ کل وہی قوانین ان کے خلاف بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔ جب حکومتیں عوام کو خوفزدہ کرنے والے سخت قوانین، ضابطے اور پابندیاں نافذ کرتی ہیں، تو وہ دراصل ایک ایسا ہتھیار تیار کر رہی ہوتی ہیں جو مستقبل میں انہی کے خلاف پلٹ سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کے سخت قوانین کل کے حکمرانوں کے لیے گلے کا پھندا بن سکتے ہیں۔
سخت قوانین اور عوام کا خوف حکومتیں اکثر قومی مفاد، سلامتی یا اصلاحات کے نام پر ایسے قوانین بناتی ہیں جو آزادیٔ اظہار، نجی زندگی، کاروبار یا احتجاج کے حق کو محدود کر دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پابندیاں، سخت سائبر قوانین، احتساب کے نام پر من مانی گرفتاریاں، یا معاشی پابندیاں—یہ سب عوام میں خوف پیدا کرتے ہیں۔ لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ حکومت کے خلاف بولنا خطرناک ہو سکتا ہے۔لیکن یہ خوف وقتی ہوتا ہے۔ جب اقتدار تبدیل ہوتا ہے تو وہی قوانین نئی حکومت کے ہاتھ میں آ جاتے ہیں۔ آج جو طاقت استعمال کر کے مخالفین کو دبایا جا رہا ہے، کل وہی طاقت نئے حکمران مخالفین (یعنی سابق حکمرانوں) کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے اور دنیا بھر میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ بہت سی جمہوری اور غیر جمہوری حکومتوں نے سخت قوانین بنائے جو بعد میں انہی کے لیے مصیبت بنے۔ جنوبی ایشیا سمیت متعدد ممالک میں دیکھا گیا ہے کہ ایک دور میں بنائے گئے احتسابی قوانین، میڈیا پابندیوں یا قومی سلامتی کے نام پر نافذ کیے گئے ضابطے بعد میں پلٹ کر سابق حکمرانوں کے خلاف استعمال ہوئے۔یہ اصول تقریباً عالمی ہے۔ جو طاقت آج مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، کل وہی طاقت موجودہ حکمرانوں کو خاموش کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے۔ جو قانون آج “قومی مفاد” کے نام پر بنایا جاتا ہے، کل اسے “انتقام” کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایسے قوانین صرف سیاسی حریفوں کو نہیں بلکہ عام شہریوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جب قوانین منصفانہ نہ ہوں بلکہ طاقتور کے مفاد میں بنائے جائیں تو:معاشرے میں عدم اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ سرمایہ کاری اور کاروبار متاثر ہوتے ہیں،نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے اور
اداروں کی ساکھ مجروح ہوتی ہے۔
سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ایسے قوانین جمہوریت کی جڑیں کمزور کرتے ہیں۔ جب ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کے بنائے گئے سخت قوانین کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرتی ہے تو قانون کی حکمرانی نہیں بلکہ طاقت کی حکمرانی قائم ہوتی ہے۔صحیح راستہ یہی ہے کہ حکمرانوں کو چاہیے وہ ایسے قوانین بنائیں جو آج بھی منصفانہ ہوں اور کل بھی۔ قانون سازی کرتے وقت یہ سوچنا چاہیے کہ:کیا یہ قانون ہم خود اپنے خلاف قبول کر سکتے ہیں؟کیا یہ قانون تمام شہریوں پر یکساں لاگو ہوگا؟ اورکیا یہ قانون طاقتور کے تحفظ کے بجائے کمزور کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے؟
اچھی حکومت وہ ہوتی ہے جو ایسے ادارے اور قوانین چھوڑے جو اس کے جانے کے بعد بھی عوام کے کام آ سکیں۔ بری حکومت وہ ہوتی ہے جو ایسے قوانین چھوڑے جو صرف اس کے دورِ حکومت میں اس کے فائدے کے لیے ہوں۔نتیجہآج کے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ اقتدار ابدی نہیں۔ جو قوانین وہ آج عوام کو خوفزدہ کرنے یا مخالفین کو دبانے کے لیے بنا رہے ہیں، کل وہی قوانین ان کے گلے پڑ سکتے ہیں۔ تاریخ بار بار ثابت کرتی ہے کہ طاقت کا نشہ عارضی ہوتا ہے، لیکن قانون کی میراث دیرپا۔لہٰذا دانشمندی اسی میں ہے کہ قوانین انصاف، مساوات اور مستقبل کی سوچ کے ساتھ بنائے جائیں۔ ورنہ آج کا ہتھیار کل کا پھندا بن سکتا ہے۔
واپس کریں