
کراچی میں فلور ملوں نے سرکاری گندم کو ناقص قرار دے کر اُسے اٹھانے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کراچی کے علاقے لانڈھی میں قائم سرکاری گودام میں موجود گندم کے ذخیرے کے معائنے کے بعد فلور ملز مالکان نے دعویٰ کیا کہ 100 کلوگرام کی قریباً 13 لاکھ بوریوں میں پڑی گندم کا 15 فیصد انسانی استعمال کے لئے موزوں ہے۔ ملز مالکان نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ ذخیرے میں کئی سال پرانی گندم شامل ہے تاہم اِن دعوؤں کی آزادانہ اور سائنسی بنیادوں پر تصدیق کرائی جانی چاہئے۔ ذخیرے کی 85 فیصد گندم اگرواقعتا ناقص ہے تو سوال یہ ہے کہ عوامی سرمائے سے خریدی گئی گندم کی حفاظت کے لئے کیا اقدامات کیے گئے؟ گوداموں میں درجہ حرارت، نمی، صفائی اور کیڑوں سے تحفظ کے انتظامات کی نگرانی کس نے کی؟ کیا ذخیرے کا باقاعدگی سے معائنہ کیا جاتا رہا؟ اگر بڑی مقدار میں گندم طویل عرصے تک نامناسب حالات میں پڑی رہنے کے باعث خراب ہوئی ہے تو اِس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد کی جانی چاہئے۔ سرکاری آڈٹ کے ذریعے خریداری، ذخیرہ کرنے کی مدت، انتظامی اخراجات اور ممکنہ مالی نقصان کا تعین بھی کیا جانا چاہئے۔ سرکاری ذخائر دستیاب نہ ہوں تو رسد متاثر ہو سکتی ہے اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ سندھ حکومت کو چاہئے کہ محفوظ اور معیاری گندم کی فراہمی کے لئے فوری متبادل انتظامات کرے، ویسے بھی غذائی تحفظ صرف گندم خریدنے اور گودام بھرنے کا نام نہیں بلکہ اِس کے لئے مناسب ذخیرہ اندوزی، بروقت تقسیم، شفاف نگرانی اور جواب دہی ضروری ہے۔
واپس کریں