خیبرپختونخوا: کیا ریاست ایک طویل اور کثیرالجہتی جنگ کے خطرے سے دوچار ہے؟

(پشاور)خصوصی رپورٹ خالد خان سے
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت، فوج اور صوبے کے انتظامی ڈھانچے کو ایک ہی کمان کے تحت لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبائی حکومت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہیں تھا، جبکہ پی ٹی آئی ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اب جب صوبائی حکومت کی سابقہ سیاسی کمان ختم کر دی گئی ہے تو ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انتظامی اختیار کی مرکزیت سے دہشت گردی کا مسئلہ حل ہو جائے گا، یا ریاست ایک ایسے بحران میں داخل ہو رہی ہے جس میں عسکری قوت کے ساتھ عوامی قبولیت، پولیس کی استعداد، مقامی تعاون اور سیاسی اتفاق بھی فیصلہ کن ثابت ہوں گے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کوئی نیا مسئلہ نہیں۔ سابق قبائلی اضلاع اور جنوبی اضلاع ایک طویل عرصے سے مسلح تشدد، دہشت گرد حملوں، سکیورٹی کارروائیوں اور ریاستی رٹ کے مسائل سے دوچار ہیں۔ فوج طویل عرصے سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے، لیکن دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس حقیقت سے ماضی کی تمام کارروائیوں کو ناکام قرار دینا درست نہیں، تاہم یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ عسکری کارروائیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستقل امن، مؤثر پولیسنگ اور قابلِ اعتماد سول انتظامیہ میں تبدیل کیوں نہیں کیا جا سکا۔
موجودہ صورتِ حال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ صوبائی حکومت، وفاق اور فوج کو ایک پیج پر لانے کے باوجود ریاست کو مقامی آبادی کی قبولیت اور تعاون کا مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ حکومت کا انتظامی اختیار اور معاشرے میں اس کی سیاسی قبولیت دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی علاقے میں حکم جاری کرنے، نفری تعینات کرنے اور کارروائی شروع کرنے کی صلاحیت کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کی آبادی بھی اس حکمتِ عملی کو قبول کرتی ہے۔ ریاستی طاقت کے ذریعے وقتی نظم قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار امن کے لیے عوام کا اعتماد اور مقامی اداروں کا تعاون بھی ضروری ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بنوں اور لکی مروت کی پولیس امن کمیٹیوں کا معاملہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگست 2026ء میں ان کمیٹیوں اور پولیس حکام کے درمیان اختلافات اس حد تک بڑھے کہ احتجاج، ڈیوٹی کے بائیکاٹ اور معمول کی پولیسنگ میں خلل کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعدازاں مذاکرات کے ذریعے معاہدہ ہوا، جس کے تحت کمیٹیوں کے ارکان نے قانون کے مطابق کام کرنے، غیر مجاز گرفتاریاں نہ کرنے، سیاسی احتجاج سے الگ رہنے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مجاز اداروں کی ہدایات کے تحت تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ ستمبر میں سامنے آنے والی رپورٹنگ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی باقاعدہ کمان سی ٹی ڈی اور دیگر مجاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس رہنی تھی۔ ان واقعات سے مقامی سکیورٹی کے نظام میں اختیارات، اعتماد اور ادارہ جاتی رابطے کے مسائل نمایاں ہوئے۔
ان واقعات کو صرف پولیس اور امن کمیٹیوں کا اندرونی تنازع سمجھنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں پولیس کے بعض اہلکار خود ایک الگ تنظیمی شناخت اور مقامی حمایت کے ساتھ کام کر رہے ہوں، ان کے اپنے مطالبات ہوں اور اعلیٰ پولیس کمان کے ساتھ اختیارات پر اختلاف پیدا ہو جائے تو ریاست کی مجموعی سکیورٹی حکمتِ عملی کتنی مؤثر رہ سکتی ہے؟ مقامی امن کمیٹیاں دہشت گردوں کے بارے میں معلومات، علاقے سے واقفیت اور عوامی رابطوں کے ذریعے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، لیکن اگر ان کے اختیارات واضح نہ ہوں یا وہ اپنی الگ کمان قائم کرنے لگیں تو قانون کی عمل داری اور ادارہ جاتی نظم متاثر ہو سکتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ صرف ان کمیٹیوں کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا نہیں، بلکہ ایسا قانونی اور انتظامی نظام قائم کرنے کا ہے جس میں مقامی تعاون بھی حاصل ہو اور تمام کارروائیاں جواب دہ ریاستی اداروں کے تحت ہوں۔
اس صورتِ حال میں پولیس اور محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کی استعداد ایک بنیادی سوال بن جاتی ہے۔ بڑے آپریشن کے دوران پولیس کو دہشت گردی کے مقدمات، انٹیلی جنس، گرفتاریوں، تفتیش، عام جرائم، سیاسی احتجاجوں اور روزمرہ امن و امان کی ذمہ داریاں بھی نبھانا ہوں گی۔ اگر ان اداروں کی نفری، تربیت، وسائل اور عملی صلاحیت پہلے ہی دباؤ میں ہیں تو ان پر اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ فوج کسی علاقے میں سکیورٹی کارروائی کر سکتی ہے، لیکن اس کے بعد معمول کی پولیسنگ، قانونی گرفتاریوں، مقدمات کی پیروی، شہریوں کے تحفظ اور انتظامی معاملات کے لیے مضبوط سول ادارے درکار ہوتے ہیں۔ اگر یہ ادارے مؤثر نہ ہوں تو فوجی کارروائی سے حاصل ہونے والی کامیابی دیرپا امن میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔
یہاں ایک اور پیچیدگی بھی ہے۔ جنوبی اضلاع اور سابق قبائلی علاقوں میں پولیس اہلکار خود دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ اگر پولیس اور فوج کے درمیان اعتماد، اختیارات یا حکمتِ عملی کے حوالے سے اختلافات بھی موجود ہوں تو مشترکہ کارروائیوں میں دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم اس صورتِ حال کو پورے پولیس محکمے کی فوج مخالف پوزیشن قرار دینے کے بجائے ادارہ جاتی اختلافات اور ان کی وجوہات کی تحقیق ضروری ہے۔ پولیس کے مقامی تجربے، معلومات اور خدشات کو نظرانداز کرنا نقصان دہ ہوگا، جبکہ پولیس یا کسی مقامی کمیٹی کو قانونی اختیار سے تجاوز کرنے کی اجازت دینا بھی درست نہیں۔
دوسری طرف مقامی آبادی کی آپریشن کے بارے میں رائے کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اگر لوگ ماضی کی نقل مکانی، جانی نقصان، گھروں اور کاروبار کی تباہی یا ریاستی وعدوں پر عدم اعتماد کے باعث آپریشن نہیں چاہتے تو ان کے خدشات کو محض دہشت گردوں کی حمایت قرار دینا غلط ہوگا۔ اسی طرح یہ امکان بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بعض علاقوں میں مسلح گروہ خوف، دباؤ یا محدود سماجی روابط کے ذریعے اپنا اثر قائم رکھتے ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں فرق کرنے کے لیے مقامی حالات، شواہد اور آزادانہ معلومات درکار ہیں۔
عوامی تعاون کو صرف اپیلوں یا احکامات سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ اگر شہریوں کو یقین نہ ہو کہ ان کے جان و مال کا تحفظ ہوگا، ان کے گھروں اور روزگار کو نقصان پہنچنے کی صورت میں ازالہ کیا جائے گا، بے گناہ افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اور شکایات پر انصاف ملے گا تو ریاست سے ان کا فاصلہ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر شہریوں کو محفوظ راستے، مناسب انتظامات، قانونی تحفظ اور مقامی فیصلوں میں شرکت کا موقع دیا جائے تو دہشت گردوں کو الگ تھلگ کرنا زیادہ ممکن ہو سکتا ہے۔ حکومت نے اگر نقل مکانی کے بغیر آپریشن کا وعدہ کیا ہے تو اس وعدے کو زمینی حالات کے مطابق قابلِ عمل منصوبے سے جوڑنا ہوگا۔ شہریوں کی سلامتی کو محض ایک انتظامی تفصیل نہیں سمجھا جا سکتا۔
اس بحران کا ایک اہم علاقائی پہلو افغانستان کے ساتھ کشیدگی ہے۔ پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے سرحد پار ٹھکانوں کے الزامات، افغان طالبان کے ساتھ تنازعات، سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات کے باعث داخلی سکیورٹی کا مسئلہ دو طرفہ تعلقات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اگر پاکستان کے اندر دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچتا ہے لیکن انہیں افغانستان میں پناہ گاہیں میسر رہتی ہیں تو ان کی مکمل تنظیمی شکست مشکل ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب سرحد پار کشیدگی بڑھنے سے پاکستان کو ایک ہی وقت میں داخلی کارروائیوں اور بیرونی محاذ پر زیادہ وسائل صرف کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف داخلی اقدامات کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون، سرحدی تحفظ اور سفارتی کوششیں بھی ضروری ہیں۔
اس صورتِ حال کا ایک نہایت سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ریاست بارہ اضلاع میں دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کرتی ہے تو یہ محض ایک اور سکیورٹی آپریشن نہیں ہوگا، بلکہ اسے ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ مسلح گروہوں کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسے تصادم میں ٹی ٹی پی اور دوسرے مسلح گروہ اپنی بقا کے لیے پوری قوت استعمال کر سکتے ہیں، جبکہ افغان طالبان کی ممکنہ معاونت اور بیرونی طاقتوں کے مفادات بھی صورتِ حال کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ تاہم ان تمام عناصر کے عملی کردار اور باہمی تعاون کی نوعیت کو شواہد کی بنیاد پر پرکھنا ہوگا؛ محض خدشے کو ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر لڑائی شدت اختیار کرتی ہے تو اس کا اثر صرف فوج اور دہشت گردوں تک محدود نہیں رہے گا۔ جس زمین پر یہ تصادم ہوگا، وہاں رہنے والے لوگ اس کے جانی، معاشی اور سماجی نتائج بھگتیں گے۔ گھروں اور کاروباروں کو نقصان، نقل مکانی کے خدشات، روزگار کی تباہی، خوف اور عدم تحفظ پہلے سے موجود محرومیوں کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ یہ ہوگا کہ مسلح تصادم کے ساتھ معاشرے میں بداعتمادی، سیاسی تقسیم اور ریاست و عوام کے درمیان فاصلے بھی بڑھ جائیں۔ اگر مقامی آبادی خود کو اس جنگ میں فریق یا اجتماعی سزا کا مستحق سمجھے تو دہشت گردوں کو عوامی ناراضی سے فائدہ اٹھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے ریاست کے سامنے چیلنج صرف دہشت گردوں کی عسکری قوت توڑنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا بھی ہے کہ اس لڑائی کی قیمت عام شہریوں کو غیر متناسب طور پر ادا نہ کرنا پڑے اور تصادم کے بعد معاشرہ پہلے سے زیادہ منقسم اور غیر محفوظ نہ رہ جائے۔
اس خطرے کو سمجھنے کے لیے گوریلا جنگ کی نوعیت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا۔ ایک باقاعدہ فوج اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کے درمیان بنیادی فرق صرف اسلحے یا نفری کا نہیں، جنگ لڑنے کے طریقے کا بھی ہے۔ مسلح گروہ عموماً روایتی فوج کی طرح محاذ قائم کرکے مقابلہ کرنے کے پابند نہیں ہوتے۔ وہ منتشر ہو سکتے ہیں، چھوٹے گروہوں میں کارروائیاں کر سکتے ہیں، شہری آبادی کے قریب چھپ سکتے ہیں، سرحد پار نقل و حرکت کر سکتے ہیں اور ایک علاقے میں دباؤ بڑھنے پر دوسرے علاقے میں حملے کر سکتے ہیں۔ اس لیے کسی گروہ کے افراد یا ٹھکانوں کو تباہ کرنا اس کی تنظیمی صلاحیت کو کمزور ضرور کر سکتا ہے، لیکن لازماً اس کے خاتمے کی ضمانت نہیں بنتا۔ اگر بارہ اضلاع میں کارروائی کے نتیجے میں مسلح گروہوں کو اپنی بقا خطرے میں محسوس ہوئی تو وہ خیبرپختونخوا کے دوسرے علاقوں، بلوچستان یا ملک کے دیگر حصوں میں حملوں کے ذریعے ریاست پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ممکنہ خطرہ ہے، کوئی یقینی پیش گوئی نہیں؛ تاہم اس کے پیشِ نظر ملک گیر انٹیلی جنس، پولیس اور شہری تحفظ کی تیاری کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف مسلح گروہوں کے درمیان ممکنہ تعاون کو نہ تو خودکار طور پر فرض کیا جائے اور نہ اسے سرے سے ناممکن سمجھا جائے۔ افغانستان اور خطے میں سرگرم مختلف تنظیموں کے مقاصد، نظریات، قیادت اور ترجیحات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان میں باہمی رقابتیں بھی موجود ہو سکتی ہیں، لیکن جب کسی گروہ کو مشترکہ خطرے کا سامنا ہو تو وہ اپنے اختلافات عارضی طور پر ایک طرف رکھ کر ایک دوسرے کو پناہ، معلومات، نقل و حرکت یا دیگر مدد فراہم کرنے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ ایسا تعاون لازماً ایک متحدہ محاذ یا مشترکہ کمان کی شکل اختیار نہیں کرتا؛ بعض اوقات محدود اور وقتی مفادات ہی اس کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ تمام گروہ ایک ہو جائیں گے، بلکہ یہ ہے کہ کیا کسی بڑے آپریشن کے نتیجے میں ان کے درمیان موجود رابطے، مشترکہ مفادات یا عملی تعاون مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔ اس امکان کا جائزہ تنظیموں کے ناموں، سیاسی بیانات یا قیاس آرائیوں کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
اس تصادم کا ایک اور پہلو غیر قانونی معیشت سے جڑا ہو سکتا ہے۔ منشیات کی تجارت، اسلحے کی غیر قانونی خرید و فروخت، سمگلنگ، بھتہ خوری اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں بعض مسلح نیٹ ورکس کے لیے آمدنی، رسد اور نقل و حرکت کے ذرائع فراہم کر سکتی ہیں۔ اگر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ ان مالی اور تجارتی نیٹ ورکس کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے تو اس سے صرف مسلح افراد ہی نہیں بلکہ ان سرگرمیوں سے فائدہ اٹھانے والے دوسرے مفاداتی حلقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس پہلو کی اہمیت یہ ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف جنگجوؤں کی تعداد یا ان کے ٹھکانوں تک محدود نہیں؛ اس کے پیچھے موجود مالی وسائل، بھرتی کے ذرائع، رسد اور سہولت کاری کے نظام کو کمزور کیے بغیر پائیدار کامیابی مشکل ہو سکتی ہے۔ تاہم ہر سمگلر، ہر غیر قانونی کاروبار یا ہر مقامی تاجر کو دہشت گردی سے منسلک سمجھنا نہ درست ہوگا نہ منصفانہ۔ مخصوص مالی روابط، لین دین اور معاونت کے شواہد کی بنیاد پر کارروائی ہونی چاہیے، تاکہ غیر قانونی معیشت کے خلاف اقدامات عام شہریوں کے معاش اور قانونی کاروبار کو بلاجواز نقصان نہ پہنچائیں۔
اگر یہ خدشہ درست ثابت ہوتا ہے کہ ایک وسیع آپریشن مختلف مسلح گروہوں اور ان کے مالی و تنظیمی نیٹ ورکس کے لیے بقا کا مسئلہ بن سکتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ اسے ایک طویل تصادم کے طور پر لیں، نہ کہ ایسی روایتی جنگ کے طور پر جس کا فیصلہ چند بڑی کارروائیوں سے ہو جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست انہیں شکست نہیں دے سکتی، یا یہ کہ ہر گروہ لازماً پوری قوت سے متحد ہو کر لڑے گا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عسکری برتری کے باوجود ریاست کو جوابی حملوں، منتشر تشدد، سرحد پار نقل و حرکت، نئی بھرتیوں اور مالی وسائل کے متبادل ذرائع جیسے خطرات کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ کسی بھی فریق کی بقا کا احساس تشدد میں شدت پیدا کر سکتا ہے، لیکن اس شدت کی نوعیت اور مدت کا انحصار زمینی حالات، تنظیمی صلاحیت، مقامی حمایت، سرحد پار پناہ گاہوں اور ریاست کی حکمتِ عملی پر ہوگا۔ اسی لیے اس تصادم کو محض ایک فیصلہ کن فوجی مرحلہ سمجھنے کے بجائے ممکنہ طور پر طویل اور کثیرالجہتی سکیورٹی بحران کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط طرزِ فکر ہوگا۔
اس معاملے میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کو ایک ہی تنظیم سمجھنا بھی درست نہیں۔ ان کے باہمی تعلقات، نظریاتی قربت اور ممکنہ عملی تعاون کی نوعیت اہم ہے، لیکن ان کی تنظیمی ساخت، مقاصد اور فیصلے الگ ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح پی ٹی آئی کی سیاسی مقبولیت، آپریشن کی مخالفت اور دہشت گردوں کی حمایت کو ایک ہی چیز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر وفاقی حکومت کے پاس صوبائی قیادت یا کسی سیاسی جماعت کے ارکان کی جانب سے دہشت گردوں کی عملی معاونت کے شواہد ہیں تو انہیں مخصوص واقعات اور قابلِ تصدیق معلومات کی بنیاد پر پیش کرنا چاہیے۔ سیاسی الزام اور ثابت شدہ عملی گٹھ جوڑ میں فرق برقرار رکھنا ریاست کے اپنے مقدمے کو مضبوط بناتا ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے حوالے سے بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر دہشت گردی کا خطرہ سنگین ہے تو ریاست کے لیے مؤثر کارروائی ضروری ہو سکتی ہے، لیکن غیر معمولی انتظامی اختیارات کی ضرورت، ان کا دائرہ، مدت اور نتائج بھی واضح ہونے چاہییں۔ حکومت کو بتانا ہوگا کہ بارہ اضلاع میں قائم خصوصی انتظامی بندوبست سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں کیا بہتری آئے گی، پولیس کی استعداد کیسے بڑھے گی، مقامی آبادی کو کس طرح تحفظ فراہم ہوگا اور شہریوں کے آئینی حقوق کی نگرانی کون کرے گا۔ کسی اقدام کا سکیورٹی مقصد اس بات کی ضمانت نہیں کہ اس کا ہر طریقۂ کار درست یا مؤثر بھی ہوگا۔ پرامن احتجاج، آزادیٔ اظہار، منصفانہ سماعت اور قانونی تحفظ کو سکیورٹی کے نام پر غیر ضروری طور پر محدود کرنا اعتماد کے بحران کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اس صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے 1971ء کے مشرقی پاکستان کا حوالہ بھی سامنے آتا ہے، جہاں سیاسی مینڈیٹ، سیاسی مذاکرات کی ناکامی، فوجی کارروائی، مقامی مزاحمت، بھارت کی مداخلت اور بین الاقوامی حالات نے مل کر پاکستان کو تباہ کن انجام تک پہنچایا۔ اس تاریخ سے یہ سبق ضرور حاصل ہوتا ہے کہ فوجی قوت سیاسی قبولیت اور مقامی تعاون کا مکمل متبادل نہیں۔ تاہم موجودہ خیبرپختونخوا کے حالات کو مشرقی پاکستان کے حالات کے عین برابر قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ دونوں کی تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی نوعیت مختلف ہے۔ موجودہ بحران کے بارے میں درست نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مماثلتوں کے ساتھ اختلافات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
اس کے باوجود بنیادی خطرہ واضح ہے۔ اگر ریاست دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سیاسی مخالفین، ناراض شہریوں اور مسلح گروہوں کے درمیان فرق برقرار نہ رکھ سکی تو اسے ایسی مزاحمت کا سامنا ہو سکتا ہے جس میں حقیقی دہشت گردوں کو الگ تھلگ کرنا مزید مشکل ہو جائے۔ اگر دوسری طرف سیاسی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف ضروری تعاون سے گریز کریں یا ہر کارروائی کو محض سیاسی انتقام قرار دیں تو وہ بھی مسئلے کے حل میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ اس لیے وفاقی حکومت، فوج، پی ٹی آئی، دیگر سیاسی جماعتوں اور مقامی قیادت کو اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ریاست اس کارروائی کے لیے کامیابی کا معیار کیا مقرر کرتی ہے۔ اگر کامیابی کا مطلب صرف دہشت گردوں کی ہلاکتیں، ٹھکانوں کی تباہی یا گرفتاریوں کی تعداد ہوگا تو یہ پیمانہ نامکمل رہے گا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب حملوں میں پائیدار کمی آئے، شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی جانیں محفوظ ہوں، پولیس اور سی ٹی ڈی مؤثر ہوں، دہشت گردوں کے مالی اور تنظیمی نیٹ ورک کمزور ہوں، مقامی انتظامیہ اپنا کام سنبھالے اور لوگ خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ ریاستی اداروں سے تعاون کر سکیں۔
اس کامیابی کو جانچنے کے لیے دہشت گردی کے مالی ذرائع کے خلاف اقدامات بھی واضح پیمانوں سے پرکھنے ہوں گے۔ صرف گرفتاریوں یا ضبط شدہ سامان کی تعداد کافی نہیں؛ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ غیر قانونی مالی لین دین، دہشت گرد نیٹ ورکس کی رسد، بھرتی اور سہولت کاری میں کتنی کمی آئی، اور کیا یہ کمی وقت گزرنے کے ساتھ برقرار رہی۔ مالی معاونت کے خلاف کارروائی شفاف قانونی طریقۂ کار کے تحت ہو، شواہد عدالت میں قابلِ جانچ ہوں اور عام شہریوں کے جائز کاروبار کو بلاوجہ نشانہ نہ بنایا جائے۔ اگر دہشت گردوں کی آمدنی کے ذرائع کمزور کر دیے جائیں مگر مقامی سطح پر خوف، بے روزگاری، ناانصافی اور ریاستی اداروں پر بداعتمادی برقرار رہے تو ان نیٹ ورکس کے دوبارہ ابھرنے کے امکانات ختم نہیں ہوں گے۔ اس لیے مالیاتی کارروائی کو پولیسنگ، عدالتی عمل، مقامی انتظامیہ اور عوامی اعتماد کی بحالی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔
اس مقصد کے لیے بارہ اضلاع میں واضح اہداف، مقررہ مدت، وسائل اور اخراجات کا منصوبہ ہونا چاہیے۔ کارروائیوں کے دوران شہری نقصانات، بے گھر افراد، گرفتاریوں، مقدمات اور دہشت گرد حملوں کے اعدادوشمار باقاعدگی سے جاری کیے جائیں۔ جہاں غلط کارروائی ہو وہاں آزادانہ تحقیقات اور جواب دہی کا نظام موجود ہو۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کی نفری، تربیت، تحفظ اور تفتیشی صلاحیت بہتر بنائی جائے، جبکہ مقامی آبادی کے ساتھ مشاورت اور شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر طریقۂ کار قائم کیا جائے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور سرحد پار دہشت گردی روکنے کی کوششوں کو بھی داخلی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جائے۔
میرے نزدیک خیبرپختونخوا کا موجودہ بحران ریاست کی عسکری قوت سے زیادہ اس کی مجموعی حکمرانی کی صلاحیت کا امتحان ہے۔ فوجی کارروائی ضروری سمجھی جاتی ہے تو اسے ایسے سیاسی، انتظامی اور سماجی حالات میں انجام دینا ہوگا جہاں ریاست دہشت گردوں کے خلاف مؤثر ہو، مگر عام شہریوں کو اپنے خلاف کھڑا نہ کرے۔ حکومتوں کا ایک پیج پر ہونا فیصلہ سازی میں مدد دے سکتا ہے، لیکن عوامی اعتماد، مضبوط پولیس، قابلِ اعتماد عدالتوں اور مؤثر مقامی انتظامیہ کے بغیر یہ اتحاد دیرپا امن کی ضمانت نہیں بن سکتا۔
اگر ریاست ان شرائط کو نظرانداز کرتی ہے تو ایک بڑا طویل آپریشن، مہنگا اور سیاسی طور پر نقصان دہ تصادم بن سکتا ہے۔ فوج کو بار بار کارروائیاں کرنا پڑ سکتی ہیں، عوامی بے اعتمادی بڑھ سکتی ہے، سول ادارے کمزور رہ سکتے ہیں اور دہشت گردی کی بنیادی وجوہات برقرار رہ سکتی ہیں۔ اس کے برعکس اگر ریاست عسکری دباؤ کو سیاسی مفاہمت، قانونی حکمرانی اور مقامی اعتماد کی بحالی کے ساتھ جوڑ دے تو پائیدار کامیابی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
اصل فیصلہ کن سوال یہ نہیں کہ ریاست کتنی بڑی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا اس نے کارروائی کے بعد امن قائم رکھنے کی تیاری بھی کی ہے۔ دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرنا ایک ہدف ہے؛ ایسا معاشرہ اور ریاستی نظام قائم کرنا جس میں دہشت گرد دوبارہ جگہ نہ بنا سکیں، اصل کامیابی ہے۔ اور اس کامیابی کا بوجھ صرف فوج نہیں اٹھا سکتی؛ اس کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، پولیس، عدلیہ، سیاسی جماعتوں اور مقامی آبادی سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
واپس کریں