سہیل احمد شاہد
ماں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کی محبت، شفقت اور قربانیوں کا بدلہ پوری زندگی میں ادا نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا میں بہت سے رشتے ہیں جو انسان کو خوشی، سہارا اور محبت فراہم کرتے ہیں، لیکن ماں کا رشتہ ان تمام رشتوں میں سب سے منفرد اور بے مثال ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی خوشی کے لیے اپنی خواہشات قربان کر دیتی ہے، اس کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتی ہے اور اس کی کامیابی کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی تصور کرتی ہے۔ اس کی محبت کسی غرض، لالچ یا مفاد کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ وہ ہر حال میں اپنی اولاد کے لیے خیر اور بھلائی چاہتی ہے۔
اسلام میں ماں کا بلند مقام
اسلام نے ماں کو نہایت بلند مقام عطا کیا ہے اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی بار بار تاکید کی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
ترجمہ: ’’اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔‘‘
(سورۃ بنی اسرائیل: 23)
اس آیت مبارکہ میں والدین کے احترام، خدمت اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ اگر والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو اور ان سے ادب کے ساتھ بات کرو۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی ماں کی عظمت کو واضح فرمایا۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تمہاری ماں۔‘‘ انہوں نے دوبارہ پوچھا تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ’’تمہاری ماں۔‘‘ تیسری مرتبہ بھی یہی جواب دیا اور چوتھی مرتبہ فرمایا: ’’تمہارا باپ۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں ماں کی خدمت اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
ماں کی قربانیاں اور بے لوث محبت
ماں کی قربانیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہو جاتا ہے جب وہ اپنی اولاد کو اپنے وجود میں محسوس کرتی ہے۔ حمل کی تکالیف برداشت کرنا، ولادت کے درد سے گزرنا اور پھر بچے کی پرورش کے لیے دن رات محنت کرنا ایسی قربانیاں ہیں جنہیں الفاظ میں مکمل طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔
جب بچہ رات کو روتا ہے تو ماں اپنی نیند قربان کرکے اسے سکون دیتی ہے۔ جب بچہ بیمار ہوتا ہے تو ماں کی بے چینی بڑھ جاتی ہے۔ وہ بار بار اس کی خیریت معلوم کرتی ہے، اس کے سرہانے بیٹھتی ہے اور اس کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرتی ہے۔ کبھی وہ خود بھوکی رہ کر بچے کو کھانا کھلاتی ہے اور کبھی اپنی ضروریات کو نظر انداز کرکے اس کی خواہش پوری کرتی ہے۔
ماں کی محبت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بدلے کی توقع نہیں رکھتی۔ وہ اپنی اولاد کو اس لیے نہیں پالتی کہ ایک دن اسے اس سے کوئی فائدہ حاصل ہوگا، بلکہ وہ چاہتی ہے کہ اس کے بچے خوش رہیں، کامیاب ہوں اور زندگی میں اچھے انسان بنیں۔
ماں کی گود پہلی درس گاہ
بچے کی شخصیت کی تعمیر میں ماں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماں ہی بچے کو بولنا سکھاتی ہے، اچھے اور برے کی پہچان کرواتی ہے اور اخلاق، محبت، برداشت اور احترام کا سبق دیتی ہے۔ اس کی گود بچے کی پہلی درس گاہ ہوتی ہے، جہاں سے وہ زندگی کے بنیادی اصول سیکھتا ہے۔
ایک اچھی ماں اپنی اولاد کو صرف تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش نہیں کرتی بلکہ اسے باکردار، ذمہ دار اور انسانیت سے محبت کرنے والا فرد بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ وہ بچوں کو سچ بولنے، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے، بڑوں کا احترام کرنے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی تلقین کرتی ہے۔
معاشرے کی ترقی میں بھی ماؤں کا کردار بہت اہم ہے۔ جب مائیں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرتی ہیں تو اس کے مثبت اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک اچھی ماں ایک اچھے خاندان کی بنیاد رکھتی ہے اور یہی خاندان مل کر ایک اچھا معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
ماں کی دعا اور اس کی اہمیت
ماں کی دعا اولاد کے لیے محبت، خیر خواہی اور امید کا عظیم اظہار ہے۔ جب انسان زندگی کی مشکلات سے دوچار ہوتا ہے تو ماں کے حوصلہ افزا الفاظ اسے ہمت دیتے ہیں۔ وہ اپنی اولاد کے لیے کامیابی، صحت، عزت، سلامتی اور نیک راستے پر چلنے کی دعا کرتی ہے۔
ماں چاہتی ہے کہ اس کے بچے دنیا میں کامیاب ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق کے مالک بھی بنیں۔ وہ انہیں دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنے، حق دار کو اس کا حق دینے اور کسی کا دل نہ دکھانے کی نصیحت کرتی ہے۔ اس کی دعاؤں کے ساتھ اس کی تربیت اور رہنمائی بھی اولاد کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ اپنی ماؤں کی دعاؤں کی قدر کریں اور اپنے اعمال سے انہیں خوشی فراہم کریں۔ ان کی عزت کرنا، ان کی بات توجہ سے سننا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔
ماں کا بڑھاپا اور اولاد کی ذمہ داری
وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ جو ماں بچپن میں اپنی اولاد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتی ہے، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب اسے خود سہارے اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑھاپے میں ماں کی جسمانی قوت کم ہو سکتی ہے، لیکن اس کے دل میں اولاد کے لیے محبت پہلے کی طرح موجود رہتی ہے۔
افسوس کہ بعض لوگ بڑے ہو کر اپنی مصروفیات میں اتنے مشغول ہو جاتے ہیں کہ والدین کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل سمجھتے ہیں۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی کامیابی اور خوشیوں کے پیچھے ماں کی بے شمار قربانیاں شامل ہیں۔
ماں کے بڑھاپے میں اس کی خدمت کرنا، اس کی بات تحمل سے سننا، اس کی ضروریات پوری کرنا اور اسے تنہائی سے بچانا اولاد کی اہم ذمہ داری ہے۔ ماں کو صرف پیسوں اور سہولتوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے محبت، احترام اور اپنائیت بھی درکار ہوتی ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دولت اور عہدہ دوبارہ حاصل کیے جا سکتے ہیں، لیکن ماں کے ساتھ گزارا ہوا وقت واپس نہیں آتا۔ اس لیے اس کی موجودگی میں اس کی قدر کرنا ہی حقیقی سمجھ داری ہے۔
ماں کی قدر اور معاشرتی رویے
ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں والدین کو عزت دی جائے اور ان کی خدمت کو باعثِ فخر سمجھا جائے۔ ماں کی عظمت کو صرف تقریروں اور تحریروں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ اسے اپنے روزمرہ کے رویوں میں ظاہر کرنا چاہیے۔
اگر ہم اپنی ماں سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کے ساتھ نرم لہجے میں بات کرنی چاہیے، اس کی رائے کا احترام کرنا چاہیے اور اس کی ضروریات کو اہمیت دینی چاہیے۔ اس کے سامنے بدتمیزی کرنا، اسے نظر انداز کرنا یا اس کی قربانیوں کو معمولی سمجھنا ایک نامناسب رویہ ہے۔ماں کی خدمت کسی ایک دن یا خاص موقع کی محتاج نہیں۔ اس کے لیے محبت کا اظہار ہر روز ہونا چاہیے۔ اس کے پاس بیٹھنا، اس کا حال پوچھنا، اس کے کاموں میں ہاتھ بٹانا اور اسے خوش رکھنے کی کوشش کرنا ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو اس کے دل کو خوشی سے بھر سکتی ہیں۔
ماں کی عظمت اور شان کو چند الفاظ یا صفحات میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ وہ محبت کا سمندر، قربانی کی مثال اور اولاد کے لیے بے شمار دعاؤں کا سرچشمہ ہے۔ اس کی گود میں سکون، اس کی باتوں میں شفقت اور اس کی زندگی میں اولاد کے لیے بے لوث محبت پوشیدہ ہوتی ہے۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ماؤں کی عزت کریں، ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں اور ان کے بڑھاپے میں ان کا سہارا بنیں۔ اگر ہماری ماں زندہ ہے تو اس کی قدر کریں، اس کے ساتھ وقت گزاریں اور اس کی خوشی کا خیال رکھیں۔ اگر وہ دنیا سے رخصت ہو چکی ہے تو اس کے لیے دعا و استغفار کریں اور اس کی اچھی تربیت کو اپنی زندگی میں اپنائیں۔
ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی محبت انسان کو حوصلہ، جس کی تربیت زندگی کو سمت اور جس کی موجودگی گھر کو سکون عطا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام ماؤں کو صحت و سلامتی عطا فرمائے، اور جن کی مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
واپس کریں