
سوات سے پاکستان تحریک انصاف کے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر امجد نے منگل کے روز صوبائی اسمبلی کے اجلاس سے تقریر کرتے ہوئے لاہور کے حالیہ واقعات کا ایک ایسا سیاسی نقشہ کھینچا جس میں لاہور کے عوام خوف کا بت توڑ کر سڑکوں پر نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کم نہیں کی جا سکتی، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی مقبولیت بھی گرفتاریوں اور پولیس کارروائیوں سے متاثر نہیں ہو سکتی، اور لاہور میں لوگوں کے نکل آنے نے ثابت کر دیا کہ خوف کی زنجیریں ٹوٹ چکی ہیں۔
سیاسی تقریر کے حد تک تو یہ ایک پرجوش بیانیہ ہے، مگر سیاست میں جوش کے ساتھ ہوش سے بھی کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوال بہت سادہ ہے کہ پہلے یہ ثابت کیا جائے کہ خوف کے اس بت کا وجود تھا ہی کہاں جسے توڑا گیا؟
اگر لاہور میں خوف کا کوئی ایسا بت موجود تھا جس کے سائے میں لاکھوں یا کم از کم ہزاروں لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے تھے اور پھر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی گرفتاری کے بعد اچانک خوف کی زنجیریں توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے، تو پھر اس منظر کا حجم بھی دکھائی دینا چاہیے تھا۔ لاہور کوئی چھوٹا قصبہ نہیں، پنجاب کا دارالحکومت ہے، کروڑوں کی آبادی والے صوبے کا سب سے بڑا سیاسی، تجارتی اور ابلاغی مرکز ہے۔ کسی بڑے عوامی ردعمل کو چھپانے کے لیے نہ اندھیری رات کافی ہے، نہ چند رکاوٹیں۔
مگر جو منظر سامنے آیا وہ ڈاکٹر امجد کے بیان سے کہیں مختلف سوال اٹھاتا ہے۔ احتجاجی سرگرمی ہوئی، سیاسی کارکن موجود تھے، پولیس سے تلخی ہوئی، گرفتاریاں ہوئیں اور مقدمات بھی درج ہوئے، لیکن اسے لاہور کے عوام کا سیلاب کہنا ایک الگ دعویٰ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مختلف کارروائیوں میں 14 کارکن گرفتار ہوئے اور مقدمات درج کیے گئے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کارکنوں کا نکلنا اور عوام کا نکلنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ کسی سیاسی جماعت کے کارکن اپنے قائد کے ساتھ کھڑے ہوں تو یہ ان کا سیاسی حق ہے۔ لیکن چند سو کارکنوں، تنظیمی عہدیداروں اور سیاسی قافلے کے شرکا کو پورے پنجاب کا عوامی ردعمل قرار دینا سیاسی مبالغہ ہے، عوامی حقیقت نہیں۔
اور اگر واقعی ڈاکٹر امجد کے دعوے کے مطابق لاہور خوف کا بت توڑ کر سڑکوں پر آ گیا تھا تو پھر دفعہ 144 کا سوال بھی اپنی جگہ کھڑا ہے۔ پنجاب حکومت نے 13 سے 17 ستمبر تک صوبے بھر میں پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے عوامی اجتماع اور جلوس پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اگر اس پابندی کے باوجود کوئی بڑا عوامی سیلاب سڑکوں پر آیا تھا تو بڑے پیمانے کی خلاف ورزی بھی دکھائی دینی چاہیے تھی۔ پھر سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہ ہوئی؟ مقدمات اور گرفتاریاں محدود کیوں رہیں؟
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی ہوئی ہی نہیں۔ ہوئی تو اس پر کارروائی بھی قانون کے مطابق ہوئی۔ مگر یہاں اصل سوال کچھ اور ہے۔ اگر قانون توڑنے والے چند افراد تھے تو اسے پنجاب کے عوام کا خوف توڑنا کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟
جس عوامی طوفان کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کا زمینی حجم کہاں تھا؟
دوسری طرف پنجاب حکومت اور پولیس کے بارے میں بھی ایک دلچسپ صورت حال سامنے آتی ہے۔ اگر حکومت واقعی ایک بڑے عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے غیر معمولی طاقت استعمال کر رہی تھی تو پھر یہ بھی پوچھنا ہوگا کہ مطلوبہ عوامی ہجوم کہاں تھا؟ پولیس کی موجودگی کو بھی محض سیاسی خوف کی علامت بنا دینا درست نہیں۔ دفعہ 144 نافذ ہونے کی صورت میں پولیس کی ذمہ داری قانون پر عمل درآمد، امن و امان برقرار رکھنا اور کسی ممکنہ تصادم کو روکنا ہوتی ہے۔
اصل حقیقت شاید اس سے بھی زیادہ سادہ ہے۔ لوگ نکلے ضرور، مگر اتنے نہیں نکلے کہ اسے پنجاب کی عوامی تحریک کہا جا سکے۔
یہاں ڈاکٹر امجد کے اپنے الفاظ ان کے لیے سب سے بڑا سوال بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو گرفتار کیا گیا، پولیس وین میں بٹھایا گیا، اس کے بعد لوگ نکل آئے، پنجاب کے نوجوانوں کے دل سے خوف نکال دیا گیا اور خوف کا بت ٹوٹ گیا۔
مگر وزیراعلیٰ کے اپنے دعووں اور اس واقعے کی دستیاب ویڈیوز میں ایک اور پیچیدگی سامنے آتی ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ انہیں اغوا کیا گیا، پولیس نے انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا اور سڑک کنارے چھوڑ دیا۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے گرفتاری سے انکار کیا، جبکہ دستیاب ویڈیو میں وزیراعلیٰ کو خود پولیس وین کی طرف جاتے اور اس میں سوار ہوتے دیکھا گیا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت کے ایک افسر نے بھی بتایا کہ وہ زیرحراست کارکنوں کی رہائی کے لیے پولیس وین میں سوار ہوئے اور کارکنوں کی رہائی تک وین سے اترنے سے انکار کیا۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ سیاسی طور پر کس کی بات پسند کی جائے۔ سوال یہ ہے کہ ایک ایسے واقعے کو، جس کی نوعیت ہی فریقین کے بیانات میں متنازع ہے اور جس کی ویڈیو دستیاب ہے، پنجاب کے عوام میں خوف کے خاتمے کا تاریخی واقعہ کیسے بنا دیا گیا؟
اگر گرفتاری تھی تو اس کا قانونی ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔ اگر گرفتاری نہیں تھی تو پھر اغوا کا بیانیہ کیوں؟ اور اگر وزیراعلیٰ کارکنوں کی رہائی کے لیے خود پولیس وین میں سوار ہوئے تھے تو پھر اس پورے واقعے کو سیاسی مزاحمت کی ایسی علامت کیوں بنایا گیا جس کے نتیجے میں پورا پنجاب سڑکوں پر نکل آیا؟
اصل مسئلہ یہی ہے کہ ایک محدود سیاسی سرگرمی کو پہلے بڑا بنایا گیا، پھر اسے پنجاب کا ردعمل کہا گیا اور آخر میں اسے خوف کے بت کے ٹوٹنے کا نام دے دیا گیا۔
لیکن پنجاب کے عوام کا فیصلہ چند سو لوگوں کی موجودگی سے نہیں ہوتا۔ پنجاب نے گزشتہ برسوں میں احتجاجی سیاست کے مختلف مرحلے دیکھے ہیں۔ دھرنے دیکھے، لانگ مارچ دیکھے، سڑکیں بند ہوتی دیکھیں، گرفتاریاں دیکھیں، حکومتیں بدلتی دیکھیں اور سیاسی نعرے بھی سن لیے۔ اس لیے ہر مرتبہ چند لوگوں کے سڑک پر آنے کو عوامی انقلاب کا نام دینا عوام کے سیاسی شعور کو کم سمجھنے کے مترادف ہے۔
شاید اصل حقیقت یہ ہے کہ پنجاب کے بہت سے شہری سڑکوں کی سیاست سے زیادہ اپنے کاروبار، روزگار، بچوں کی تعلیم، امن اور بہتر زندگی کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہر سیاسی کشمکش کو عوام اپنی زندگی کا مسئلہ نہیں بناتے۔
لاہور میں حالیہ محدود شرکت نے کم از کم اتنا ضرور دکھایا ہے کہ ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں کا نکلنا اور پنجاب کے عوام کا اجتماعی ردعمل ایک چیز نہیں۔ لاہور پنجاب کا دارالحکومت ہے، مگر دارالحکومت میں ہونے والی محدود سیاسی سرگرمی کو پورے پنجاب کی عوامی رائے کا پیمانہ قرار دینا بھی درست نہیں۔ اگر پنجاب کے سب سے بڑے سیاسی اور ابلاغی مرکز میں مطلوبہ عوامی حجم پیدا نہیں ہوا تو اسے پنجاب بھر میں خوف کے بت کے ٹوٹنے کا ثبوت کہنا حقیقت سے زیادہ سیاسی تعبیر معلوم ہوتا ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں بھرم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر چند سو لوگوں کے نکلنے کو پنجاب کے عوام کا نکلنا قرار دے دیا جائے، اگر سیاسی کارکنوں کے قافلے کو عوامی سیلاب بنا کر پیش کیا جائے، اگر ایک متنازع پولیس وین کے واقعے کو خوف کے خاتمے کی تاریخی علامت بنا دیا جائے اور پھر اس محدود سرگرمی سے پورے پنجاب کا سیاسی رجحان اخذ کر لیا جائے تو اصل میں ٹوٹتا خوف کا بت نہیں، بلکہ دعوے اور زمینی حقیقت کے درمیان قائم جھوٹا بھرم ٹوٹتا ہے۔
اور پھر سوال خیبرپختونخوا کی طرف پلٹتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو مسلسل تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا ہے۔ یہ معمولی سیاسی اعتماد نہیں۔ اس اعتماد کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے پاس اپنے صوبے کے مسائل حل کرنے کا مینڈیٹ موجود ہے۔ عوام نے اسے صوبہ چلانے، امن قائم کرنے، صحت و تعلیم بہتر بنانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے اور سرکاری اداروں کو جواب دہ بنانے کے لیے منتخب کیا ہے۔
اب اگر صوبے کا وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے مسائل کے درمیان پنجاب کی سڑکوں پر سیاسی تحریک میں زیادہ نمایاں نظر آئے تو سوال اٹھے گا ہی کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے اسے احتجاج کے لیے ووٹ دیا تھا یا حکومت کرنے کے لیے؟
پاکستان کے سامنے خیبرپختونخوا میں تیرہ سالہ پی ٹی آئی حکمرانی کا تجربہ بھی موجود ہے۔ اس طویل عرصے کے بعد بھی اگر سیاسی گفتگو کا مرکز سڑک، احتجاج، گرفتاری، مارچ، پولیس اور تصادم ہی رہے تو پھر حکومت کو اپنے طرز حکمرانی پر بھی غور کرنا چاہیے۔ آخر مسلسل اقتدار عوام کو کیا دے رہا ہے؟ وہ بنیادی سہولتیں کہاں ہیں جن کی بنیاد پر تین مرتبہ مینڈیٹ لیا گیا؟ وہ امن کہاں ہے جس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے؟ وہ روزگار کہاں ہے جس کے لیے نوجوان پریشان ہیں؟ وہ انتظامی کارکردگی کہاں ہے جس سے عام شہری کو حکومت اپنے گھر کی دہلیز پر محسوس ہو؟
یہ سوال کسی سیاسی جماعت کے خلاف تعصب نہیں۔ یہ اقتدار میں موجود جماعت سے جواب طلبی ہے۔
اور شاید پنجاب کے حالیہ منظر کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے کہ عوام کو ہر وقت سڑک پر نہیں لایا جا سکتا۔ عوام کے بھی گھر ہیں، کاروبار ہیں، بچے ہیں، روزگار ہیں، مسائل ہیں اور مستقبل کی فکر ہے۔ وہ ہر سیاسی کشمکش کو اپنی زندگی کا مسئلہ نہیں بناتے۔ اگر کوئی جماعت یہ سمجھتی ہے کہ ہر گرفتاری کے بعد پورا صوبہ نکل آئے گا، ہر پولیس کارروائی کے بعد خوف کا بت ٹوٹ جائے گا اور ہر سیاسی نعرہ عوامی تحریک میں بدل جائے گا تو اسے عوام کے بدلتے ہوئے مزاج کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر امجد نے اسمبلی میں کہا کہ لاہور کے نوجوانوں نے خوف کا بت توڑ دیا۔
ممکن ہے ان کی نظر میں چند سو سیاسی کارکنوں کا نکلنا اسی بت کا ٹوٹنا ہو۔
مگر اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے:
اگر خوف واقعی موجود تھا تو اس کے آثار کہاں تھے؟ اگر خوف ختم ہو گیا تو اس کے بعد پنجاب کی سڑکوں پر عوام کا سیلاب کہاں تھا؟ اور اگر لوگ بڑی تعداد میں نکل ہی نہیں رہے تو پھر اس خاموشی کو خوف کہنا کیوں ضروری ہے؟
ہو سکتا ہے جواب اس سے کہیں سادہ ہو جسے سیاسی تقریر میں تسلیم کرنا مشکل ہوتا ہے۔
لوگ شاید خوفزدہ نہیں تھے؛ شاید وہ صرف احتجاجی سیاست میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔
اور اگر ایسا ہے تو پھر خوف کا بت توڑنے کے دعوے سے زیادہ اہم عوام کے اس خاموش رویے کو سمجھنا ہے، کیونکہ کبھی کبھی سب سے بڑا سیاسی بھرم اس وقت ٹوٹتا ہے جب دعوے بہت بڑے ہوں اور سڑکیں ویران۔
واپس کریں