مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور خلائی مدار میں اسلحہ رکھنے کا امریکی اعتراف

امریکی جنگی جنون دنیا کے امن اور استحکام کو تباہ کر رہا ہے اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا میں کوئی بھی ملک اس کا ہاتھ روکنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ رواں برس فروری کے آخری دن امریکا نے ایران پر جو جنگ مسلط کی اس سے پیدا ہونے والا عدم استحکام آج تک پوری دنیا کے لیے وبال بنا ہوا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں پہلے آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور اب باب المندب جیسی حساس بحری گزرگاہ کی بندش مزید مسائل کا باعث بن رہی ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ابراہیم الہاشمی نے بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ اس اہم آبی راستے کی بندش عالمی سطح پر انتہائی سنگین اور تباہ کن نتائج کی حامل ہوگی۔ یہ بیان اس تلخ حقیقت کا اعتراف ہے کہ خطہ ایک ایسی آگ میں جل رہا ہے جسے بجھانے کی بجائے مسلسل ہوا دی جا رہی ہے۔ بحیرہ¿ احمر کا جنوبی داخلی راستہ عالمی تجارت کی شہ رگ ہے اور اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو اس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یورپ، ایشیا اور امریکا سمیت پوری دنیا کی معیشتیں اس کی زد میں آئیں گی۔ توانائی کی قیمتیں جو پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ناقابلِ برداشت حد سے بھی آگے بڑھ جائیں گی، جہاز رانی کے اخراجات میں ہوش ربا اضافہ ہوگا اور عالمی سپلائی چین درہم برہم ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس بحران کا اصل ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ خطرہ فطری طور پر پیدا ہوا ہے یا یہ اس جنگی پالیسی کا براہِ راست نتیجہ ہے جو واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ میں مسلط کر رکھی ہے؟
ان سوالات کے جوابات سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ دیکھیے جو اس بحران کو مزید سنگین بنانے کا باعث بن رہا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جلد از جلد اور شدت کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے مگر یہ فیصلہ کہ مذاکرات ہوں گے یا نہیں وہ خود کریں گے۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے ایران کو ایک ناکام ہوتی ہوئی ریاست قرار دیا۔ یہ وہی تکبر بھرا لہجہ ہے جو امریکا کو ہمیشہ خود سے کمزور اقوام کے مقابلے میں طاقت کے نشے میں مبتلا کیے رکھتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکا ایران کو ناکام ریاست قرار دے رہا ہے اور دوسری جانب اسی ایران کے خلاف ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں اسے خود ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اگر ایران واقعی اتنا کمزور اور ناکام ہے تو پھر امریکا کو اس کے خلاف اربوں ڈالر کیوں جھونکنے پڑ رہے ہیں؟ یہ تضاد امریکی پروپیگنڈے کی اصل حقیقت کھول کر رکھ دیتا ہے۔
اس سلسلے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کو 33 ارب ڈالر سے زائد کا خرچہ برداشت کرنا پڑا جبکہ درجنوں جدید جیٹ طیارے اور ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ امریکا اپنے وسائل، اپنی افواج اور اپنی ساکھ کو ایک ایسی جنگ میں تباہ کر رہا ہے جس کا کوئی واضح انجام نظر نہیں آتا۔ پینٹاگون کے انسپکٹر جنرل کی پہلی باضابطہ اور تفصیلی رپورٹ کے مطابق فروری سے جاری اس جنگ پر جون کے اختتام تک 33 ارب 40 کروڑ ڈالر سے زائد خرچ ہوئے جن میں 22 ارب 30 کروڑ ڈالر سے زائد کے ہتھیار اور بم استعمال ہوئے جبکہ تین ارب 70 کروڑ ڈالر مالیت کے آلات اور طیارے مکمل طور پر تباہ یا ضائع ہوئے۔ یہ صرف مالی نقصان نہیں بلکہ امریکی عسکری بالادستی کے اس تصور کو بھی زک پہنچاتا ہے جس کے بل بوتے پر واشنگٹن دنیا بھر میں اپنی دھونس جماتا رہا ہے۔
ایک جانب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں حالات خراب کر کے دنیا کے امن اور استحکام کو تباہ کر دیا ہے تو دوسری طرف اس نے باضابطہ طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ اس نے خلا کے مدار میں اسپیس کنٹرول ہتھیار تعینات کر رکھے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے سیکرٹری ٹرائے مینک کا کہنا ہے کہ امریکا بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور دشمن کی کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکی افواج کے تحفظ کے لیے مدار میں یہ ہتھیار ضروری تھے۔ حیرت انگیز طور پر انھوں نے ان ہتھیاروں کی صلاحیتوں یا انھیں مدار میں بھیجنے کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکا اپنی کارروائیوں کو کسی بھی جوابدہی سے بالاتر رکھنا چاہتا ہے۔ یہ اعتراف نہ صرف عالمی سلامتی کے لیے ایک نیا خطرہ ہے بلکہ 1967ءکے اس بین الاقوامی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے جس کے تحت خلا میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تعیناتی پر واضح پابندی عائد کی گئی تھی۔
اس صورتحال پر چین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کے خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کی بھرپور مخالفت کی ہے اور واشنگٹن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خلا میں اپنی فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے دوٹوک انداز میں کہا کہ چین خلا کے پر امن استعمال اور اسے محفوظ رکھنے کا زبردست حامی ہے اور خلا میں ہتھیاروں کی دوڑ، اسے اسلحہ خانے میں تبدیل کرنے یا میدانِ جنگ بنانے کی کسی بھی کوشش کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ چین نے امریکا پر زور دیا کہ وہ خلا میں اپنی فوجی طاقت بڑھانے کا سلسلہ بند کرے اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے عالمی تزویراتی استحکام کو برقرار رکھے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا بیان صرف چین کا موقف نہیں بلکہ اقوامِ عالم کے جذبات کی ترجمانی ہے کیونکہ خلا انسانیت کی مشترکہ ملکیت ہے نہ کہ کسی ایک سپر پاور کی جنگی چالوں کا میدان۔
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کی چھیڑی گئی جنگ سے پیدا ہونے والا عدم استحکام اور اب خلائی مدار میں ہتھیار تعینات کرنے کا اعتراف دونوں مل کر اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امریکا ایک غیر ذمہ دار اور غیر مہذب ریاست کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ایسی ریاست جس نے عالمی امن، بین الاقوامی قانون اور انسانیت کی مشترکہ اقدار کو اپنے تنگ نظر مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ باب المندب کی بندش کا خطرہ ہو یا آبنائے ہرمز کا بحران، خلا میں ہتھیاروں کی تعیناتی ہو یا ایران کے خلاف بلاجواز جنگ، یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں اور یہ سلسلہ امریکی سامراجی سوچ کی پیداوار ہے جو دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتی ہے، خواہ اس کے لیے پوری انسانیت کو جنگ کی آگ میں ہی کیوں نہ جھونکنا پڑے۔
عالمِ اسلام اور دیگر پر امن اقوام کو اس وقت اس بات کا شدت سے احساس کرنا ہوگا کہ خاموش تماشائی بننا اب کوئی حل نہیں۔ موجودہ صورتحال پوری عالمی برادری کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ اگر عالمی طاقتیں، خاص طور پر اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل، اس معاملے میں اپنا موثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہیں تو یہ خدشہ حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دنیا ایک ایسے تصادم کی طرف بڑھ جائے گی جس کے نتائج تصور سے کہیں زیادہ خوفناک ہوں گے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ امریکا اپنی جنگی پالیسیوں پر نظرثانی کرے، مذاکرات کا راستہ اپنائے اور زمین کے ہر خطے اور خلا کو تباہی کے دہانے پر لے جانے کی بجائے امن، مکالمے اور باہمی احترام کی راہ اختیار کرے ورنہ تاریخ اسے اسی طرح یاد رکھے گی جس طرح ماضی کی دیگر سامراجی طاقتوں کو یاد رکھا جاتا ہے۔
واپس کریں