خیبرپختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز ہڑتال پر، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور میں موج مستی، میلے ٹیلے پر

(پشاور) خالد خان ۔ خیبرپختونخوا کی سیاست میں اس وقت ایک ایسی ستم ظریفی سامنے آ رہی ہے جسے محض سیاسی اختلاف کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک طرف وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لاہور میں ایک ایسے سیاسی معاملے کے لیے سرگرم ہیں جس کا مرکزی نکتہ عمران خان کی رہائی، علاج معالجے اور 27 ستمبر کی سیاسی تحریک ہے، جبکہ دوسری طرف انہی کے اپنے صوبے میں ینگ ڈاکٹرز، ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز احتجاج کر رہے ہیں، او پی ڈیز اور بعض غیر ہنگامی طبی خدمات متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں اور عام مریض اس صورت حال کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
یہاں بنیادی سوال عمران خان کے علاج کے حق کا نہیں۔ کسی سزا یافتہ قیدی کو بھی بیماری کی صورت میں علاج کی سہولت سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور اس معاملے پر قانونی و سیاسی بحث اپنی جگہ موجود ہے۔ اصل سوال حکمرانی کی ترجیحات کا ہے۔ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ اگر اپنے سیاسی قائد کے معاملے اور سیاسی تحریک کے لیے صوبے سے باہر رہ کر سرگرمیاں جاری رکھ سکتا ہے تو کیا اپنے صوبے کے ان نوجوان ڈاکٹروں کے لیے بھی وقت نہیں نکال سکتا جو سرکاری ہسپتالوں میں دن رات مریضوں کا علاج کرتے ہیں اور جن کے احتجاج سے اب عام شہری متاثر ہو رہے ہیں؟
اس سوال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ خیبرپختونخوا کوئی چھوٹا صوبہ نہیں۔ 2023 کی مردم شماری کے مطابق صوبے کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 6 لاکھ 41 ہزار ہے اور اس میں تقریباً 85 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے۔ یعنی صحت کا مسئلہ یہاں محض بڑے شہروں کے چند ہسپتالوں کا مسئلہ نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں تک پہنچنے والی ایک بنیادی سرکاری ذمہ داری ہے۔ مردم شماری کے مطابق صوبے کی تقریباً 52 فیصد آبادی 18 سال یا اس سے زیادہ عمر کی ہے، یعنی تقریباً 2 کروڑ 11 لاکھ افراد وہ آبادی ہے جس کے بارے میں صوبائی صحت کے بڑے بیماریوں سے متعلق اعدادوشمار براہ راست زیادہ قابل اطلاق ہیں۔
صحت کے اس وسیع بوجھ کو سمجھنے کے لیے صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں۔ خیبرپختونخوا کے 2016-17 کے جامع آبادی و صحت سروے، جس میں 24 اضلاع اور 20 ہزار سے زیادہ افراد شامل تھے، کے مطابق بالغ آبادی میں بلند فشار خون کی شرح 29.2 فیصد، گردوں کے امراض 7.6 فیصد اور ذیابیطس 6.2 فیصد تھی۔ اگر محض اندازہ لگانے کے لیے یہی شرح تقریباً 2 کروڑ 11 لاکھ بالغ آبادی پر لاگو کی جائے تو بلند فشار خون کے ممکنہ مریضوں کی تعداد تقریباً 62 لاکھ، گردوں کے امراض کے حامل افراد تقریباً 16 لاکھ اور ذیابیطس کے مریض تقریباً 13 لاکھ بنتے ہیں۔ یہ موجودہ مریضوں کی سرکاری گنتی نہیں بلکہ پرانے صوبائی سروے کی شرح کو موجودہ آبادی پر لاگو کرکے صحت کے بوجھ کا اندازہ ہے، اس لیے اسے حتمی مریضوں کی تعداد سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
اسی سروے میں ہیپاٹائٹس سی کی شرح 0.8 فیصد، ہیپاٹائٹس بی کی 0.5 فیصد، تپ دق کی 0.5 فیصد اور ایڈز کی 0.3 فیصد رپورٹ ہوئی تھی۔ صرف اسی بالغ آبادی پر یہ شرحیں لگائی جائیں تو تقریباً 1 لاکھ 69 ہزار افراد ہیپاٹائٹس سی، 1 لاکھ 6 ہزار ہیپاٹائٹس بی اور ایک لاکھ سے زیادہ افراد تپ دق کے بوجھ میں آ سکتے ہیں۔ تاہم ہیپاٹائٹس کے حوالے سے دوسرے مطالعات میں اس سے زیادہ شرحیں بھی سامنے آئی ہیں؛ ایک سابقہ جامع تجزیے نے خیبرپختونخوا میں ہیپاٹائٹس بی کی اوسط شرح تقریباً 2.7 فیصد قرار دی تھی۔ اس لیے بیماریوں کے اعداد میں تحقیق کے سال، نمونے اور طریقۂ کار کا فرق بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔
یہ اعداد اس لیے اہم ہیں کہ جب کسی سرکاری ہسپتال کی او پی ڈی متاثر ہوتی ہے تو وہاں صرف نزلہ، بخار یا معمولی تکلیف والے مریض نہیں آتے۔ گردوں کے مریض، ذیابیطس کے مریض، بلڈ پریشر کے مریض، حاملہ خواتین، مریض بچے، دل کے مریض، سرجری کے منتظر افراد اور ایسے مریض بھی سرکاری نظام سے وابستہ ہوتے ہیں جن کے لیے نجی علاج ان کی مالی استطاعت سے باہر ہوتا ہے۔ ایک غریب خاندان کے لیے ہسپتال کی او پی ڈی بند ہونا محض چند گھنٹوں کی انتظامی رکاوٹ نہیں بلکہ بعض اوقات علاج کے پورے تسلسل میں خلل بن جاتا ہے۔
خیبرپختونخوا کے سرکاری صحت کے ڈھانچے کا حجم بھی اس بحران کی اہمیت واضح کرتا ہے۔ صوبائی حکومت کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 192 سرکاری ہسپتال، 959 ڈسپنسریاں، 126 دیہی مراکز صحت، 57 تپ دق کلینک اور 975 نجی طبی ادارے موجود تھے۔ اس پورے نظام کو تقریباً 4 کروڑ سے زیادہ آبادی کو خدمات فراہم کرنا ہیں۔ اس لیے کسی بڑے تدریسی یا ضلعی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کا اثر صرف اس ہسپتال کی عمارت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اردگرد کے اضلاع اور بنیادی مراکز صحت تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
صوبے کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ دیکھنے کے لیے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی ایک سال کی کارکردگی کافی مثال ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں صرف خیبر ٹیچنگ ہسپتال نے 17 لاکھ 75 ہزار 532 مریضوں کو طبی سہولت دی۔ ان میں 6 لاکھ 18 ہزار 684 مریض او پی ڈی آئے جبکہ 11 لاکھ 56 ہزار 848 افراد نے ایمرجنسی سے رجوع کیا۔ اسی سال ہسپتال میں تقریباً 39 ہزار 651 آپریشن، 15 لاکھ 92 ہزار سے زیادہ لیبارٹری ٹیسٹ، 2 لاکھ 79 ہزار سے زیادہ ایکسرے، ایک لاکھ 23 ہزار سے زیادہ الٹراساؤنڈ، تقریباً 16 ہزار سی ٹی اسکین اور 8 ہزار 925 ایم آر آئی کیے گئے۔
اسی طرح صوابی کے باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں 2024 کے دوران 5 لاکھ 69 ہزار 372 مریضوں کو علاج فراہم کیا گیا۔ ان میں 3 لاکھ 36 ہزار 24 او پی ڈی مریض جبکہ 2 لاکھ 33 ہزار سے زیادہ ایمرجنسی مریض تھے، جبکہ ہسپتال میں 7 ہزار 930 چھوٹے بڑے آپریشن کیے گئے۔
پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے علاوہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس جیسے بڑے مراکز، جبکہ صوبے کے دوسرے حصوں میں باچا خان میڈیکل کمپلیکس، سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال، ایوب میڈیکل کمپلیکس، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، کوہاٹ اور دیگر تدریسی و ضلعی ہسپتال ایسے مراکز ہیں جہاں روزانہ ہزاروں مریض سرکاری نظام سے علاج حاصل کرتے ہیں۔ صرف لیڈی ریڈنگ ہسپتال کی خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی موجودہ فہرست میں گنجائش 2,209 بستروں کی درج ہے، جبکہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے لیے 1,600 بستروں کی گنجائش درج ہے۔
یہ تصویر اس لیے بھی مکمل نہیں کہ ہر مریض سرکاری ہسپتال ہی نہیں جاتا۔ صوبائی حکومت کی رپورٹ میں 975 نجی طبی اداروں کا ذکر ہے، جبکہ خیبرپختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی لائسنس یافتہ اداروں کی فہرست میں نجی ہسپتالوں، کلینکس، تشخیصی مراکز اور دوسرے طبی اداروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ پشاور ہی میں 450 بستروں کا محمد ٹیچنگ ہسپتال، 335 بستروں کا نارتھ ویسٹ جنرل ہسپتال، 250 بستروں کا ناصر ٹیچنگ ہسپتال، 250 بستروں کا لائف کیئر ہسپتال اور دیگر بڑے نجی مراکز موجود ہیں۔
لیکن نجی شعبے کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں کہ سرکاری ہسپتالوں پر دباؤ ختم ہو گیا ہے۔ نجی ہسپتال میں علاج کی استطاعت ہر خاندان کے پاس نہیں ہوتی، خصوصاً ایسے صوبے میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈی میں ایک دن کی رکاوٹ بھی کسی متوسط یا غریب خاندان کے لیے اضافی سفر، اضافی اخراجات اور علاج میں تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔
اب آتے ہیں ان نوجوان ڈاکٹروں کے مطالبات کی طرف جن کے احتجاج نے یہ بحث پیدا کی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے 9 ستمبر کو ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے ماہانہ وظائف میں 15 فیصد اضافہ منظور کیا، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے کیا گیا ہے۔ حکومت نے یہ بھی طے کیا ہے کہ وظائف میں آئندہ ہر سال مزید 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ تاہم ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیموں نے اسے ناکافی قرار دیتے ہوئے کم از کم 30 فیصد فوری اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹرز کا مؤقف صرف رقم بڑھانے تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے وظائف میں 2015 کے بعد خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا، جبکہ مہنگائی اور رہائش، خوراک اور سفر کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا ہے کہ بہت سے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی ڈاکٹروں کو ہسپتالوں میں رہائشی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، جس سے ان کے اخراجات مزید بڑھ جاتے ہیں۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہی نوجوان ڈاکٹر تدریسی اور بڑے ہسپتالوں میں چوبیس گھنٹے طبی خدمات کا اہم حصہ ہیں۔
حکومت کی طرف سے ایک مثبت قدم یہ بھی ہے کہ کابینہ نے 114 نئے معاوضہ دار ہاؤس جاب عہدوں کی منظوری دی ہے۔ یعنی حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ طبی افرادی قوت بڑھانے کی ضرورت موجود ہے۔ دوسری طرف محکمہ صحت نے مارچ 2026 میں مزید 2,439 طبی آسامیوں کا اعلان کیا، جن میں 1,425 میڈیکل آفیسرز، 250 ڈینٹل سرجنز اور 764 نرسوں کی آسامیاں شامل تھیں۔ صوبائی وزیر صحت کے مطابق حکومت نے صحت کے شعبے میں 22 ہزار سے زیادہ نئی آسامیاں پیدا کی ہیں اور میڈیکل آفیسرز کی تعداد 2,520 سے بڑھ کر 6,531 ہو چکی ہے۔
یہ اعداد حکومت کے خلاف یک طرفہ مقدمہ نہیں بناتے بلکہ مسئلے کی اصل نوعیت سمجھاتے ہیں۔ ایک طرف حکومت کہہ رہی ہے کہ اس نے صحت کے بجٹ کو بڑھایا، نئی آسامیاں پیدا کیں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی بھرتی کی اور ہاؤس آفیسرز کے وظائف میں 15 فیصد اضافہ کیا۔ دوسری طرف ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ موجودہ اضافہ مہنگائی، ذمہ داری اور کام کے دباؤ کے مقابلے میں ناکافی ہے۔ چنانچہ اصل اختلاف یہ ہے کہ حکومت نے جو اضافہ کیا ہے وہ کافی ہے یا نہیں اور کیا اسے فوری طور پر 30 فیصد تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
یہاں ایک بات بہت واضح رہنی چاہیے کہ خیبرپختونخوا میں ینگ ڈاکٹرز کی مجموعی تعداد کا کوئی ایسا تازہ اور قابل اعتماد سرکاری عدد سامنے نہیں آیا جسے ذمہ داری سے اس تحریر میں لکھا جا سکے۔ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ملک بھر میں رجسٹرڈ طبی ماہرین کی تعداد بتاتی ہے، لیکن اس سے خیبرپختونخوا کے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کی موجودہ تعداد الگ سے اخذ نہیں کی جا سکتی۔ اس لیے کسی غیر مصدقہ ذریعے سے ہزاروں کی تعداد لکھ کر مضمون کو مصنوعی طور پر مضبوط بنانے کے بجائے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ یہی نوجوان ڈاکٹر بڑے تدریسی اور تیسرے درجے کے ہسپتالوں کی روزمرہ طبی خدمات کا اہم حصہ ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سہیل آفریدی کی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ ایک طرف 27 ستمبر کی تحریک کے لیے لاہور میں سیاسی سرگرمیاں، کارکنوں کی متحرک سازی اور عمران خان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر آنے کی تیاری ہے، دوسری طرف اپنے صوبے میں وہ ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں کے اندر مریضوں سے براہ راست معاملہ کرتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ سیاسی کارکنوں سے ملاقات، سیاسی حکمت عملی اور احتجاج کی تیاری کے لیے وقت نکال سکتے ہیں تو کیا وہ اپنے صوبے کے ڈاکٹرز کے ساتھ بیٹھ کر یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے چند گھنٹے نہیں نکال سکتے؟
یہاں سیاسی سرگرمی اور حکمرانی کے درمیان فرق نمایاں ہوتا ہے۔ سیاسی جماعت کا رہنما اپنی جماعت کے مفادات کے لیے احتجاج کر سکتا ہے، تحریک چلا سکتا ہے اور اپنے قائد کی رہائی کا مطالبہ کر سکتا ہے، لیکن وزیراعلیٰ بننے کے بعد اس کی ذمہ داری صرف جماعت تک محدود نہیں رہتی۔ اس کی پہلی ذمہ داری صوبے کے عوام، ہسپتالوں، سکولوں، پولیس، سرکاری اداروں اور انتظامی نظام کے ساتھ ہوتی ہے۔
اگر ایک طرف صوبے کا وزیراعلیٰ 27 ستمبر کے سیاسی احتجاج کی تیاری کو اہمیت دے اور دوسری طرف اسی صوبے کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز احتجاج کریں تو سوال اٹھے گا کہ حکومت کی ترجیح کیا ہے۔ عمران خان کا علاج اور قانونی حقوق اپنی جگہ اہم ہیں، سیاسی کارکنوں کا احتجاج بھی اپنی جگہ ایک سیاسی حق ہے، لیکن مریض کو بروقت علاج فراہم کرنا حکومت کی براہ راست انتظامی ذمہ داری ہے۔ یہ تینوں معاملات ایک دوسرے کی نفی نہیں کرتے، مگر وزیراعلیٰ کے منصب پر بیٹھے شخص کو تینوں کے درمیان ترجیحات اور وقت کا توازن ضرور قائم کرنا پڑتا ہے۔
اس پورے معاملے کی ستم ظریفی شاید یہی ہے کہ جن ڈاکٹروں سے حکومت عوام کی خدمت کی توقع کرتی ہے، وہ خود حکومت سے سننے اور اپنی شکایات دور کرنے کے لیے احتجاج پر مجبور ہیں۔ ڈاکٹرز سڑک پر اپنے مطالبات لے کر کھڑے ہیں اور وزیراعلیٰ سڑک پر اپنے سیاسی مطالبات لے کر آنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ایک کا مطالبہ مالی اور پیشہ ورانہ حالات سے متعلق ہے اور دوسرے کا سیاسی، لیکن ایک بنیادی فرق ضرور ہے۔ ینگ ڈاکٹرز کے مسئلے کا براہ راست تعلق ان مریضوں سے ہے جو آج ہسپتال کے دروازے پر کھڑے ہیں۔
حکومت یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ 15 فیصد اضافہ کیا جا چکا ہے، مزید 5 فیصد سالانہ اضافہ بھی منظور ہے، نئی طبی آسامیاں پیدا کی جا رہی ہیں اور مالی وسائل محدود ہیں۔ یہ سب دلائل سامنے آنے چاہئیں۔ ڈاکٹرز کو بھی اپنے مطالبات کے مالی اثرات اور عملی صورتِ حال حکومت کے سامنے واضح کرنی چاہیے۔ لیکن اگر حکومت سمجھتی ہے کہ 30 فیصد اضافہ ممکن نہیں تو اسے یہ بات اعدادوشمار کے ساتھ ڈاکٹرز کے سامنے رکھنی چاہیے۔ اگر مزید اضافہ ممکن ہے تو مذاکرات کے ذریعے راستہ نکالنا چاہیے، اور اگر رہائشی سہولت کا مسئلہ ہے تو اس کے لیے مرحلہ وار منصوبہ دینا چاہیے۔
کیونکہ مسئلہ صرف 15 اور 30 فیصد کے درمیان فرق کا نہیں۔ مسئلہ اس اعتماد کا ہے جو حکومت اور طبی عملے کے درمیان ہونا چاہیے۔ ایک ایسا ڈاکٹر جو اپنی تربیت کے انتہائی اہم مرحلے میں کم معاوضے، رہائش کے مسئلے اور بھاری کام کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہو، اگر اسے یہ احساس ہو کہ اس کی بات سننے والا کوئی نہیں تو اس کا اثر بالآخر مریض تک پہنچتا ہے۔
حکومت کے اپنے اعداد بتاتے ہیں کہ صوبے میں طبی افرادی قوت کی کمی اب بھی ایک مسئلہ ہے۔ مارچ 2026 میں محکمہ صحت نے 1,425 میڈیکل آفیسرز سمیت 2,439 نئی آسامیوں کا اعلان اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کیا۔ صوبائی وزیر صحت نے بھی ڈاکٹروں اور ماہرین کی مزید بھرتی کو جاری رکھنے کی بات کی ہے۔ ایسے میں موجودہ نوجوان ڈاکٹروں کو صرف ایک احتجاجی گروہ سمجھنے کے بجائے مستقبل کی طبی افرادی قوت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
خیبرپختونخوا میں صحت کا بحران کسی ایک دن کا مسئلہ بھی نہیں۔ 4 کروڑ سے زیادہ آبادی، 85 فیصد کے قریب دیہی آبادی، سیکڑوں سرکاری طبی مراکز، سینکڑوں نجی ادارے اور بلند فشار خون، ذیابیطس، گردوں کے امراض، ہیپاٹائٹس، تپ دق اور دوسری بیماریوں کا وسیع بوجھ ایک ایسے نظام کا تقاضا کرتا ہے جو سیاسی کشمکش سے اوپر اٹھ کر مسلسل کام کرے۔
حکمرانی کا امتحان مخالفین کو سڑکوں پر نکالنے میں نہیں، اپنے لوگوں کو سڑک پر آنے سے روکنے میں ہوتا ہے۔ سیاسی تحریک چلانا آسان ہو سکتا ہے، لیکن ایک ایسے ڈاکٹر کو مطمئن کرنا مشکل ہے جو اپنی ڈیوٹی چھوڑنے پر اس لیے مجبور ہوا ہو کہ اسے لگتا ہے حکومت اس کی بات نہیں سن رہی۔ سیاسی جلسے میں نعرے لگانے والے کارکن چند گھنٹوں بعد گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں، لیکن سرکاری ہسپتال کی متاثرہ او پی ڈی کے سامنے کھڑا مریض اپنی بیماری، اخراجات اور غیر یقینی کے ساتھ گھر واپس جاتا ہے۔
سہیل آفریدی کے لیے اصل امتحان صرف 27 ستمبر نہیں بلکہ آج ہے۔ 27 ستمبر کی سیاست اپنی جگہ جاری رہے گی، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ بھی سیاسی میدان میں موجود رہے گا اور تحریک انصاف اپنی سیاسی جدوجہد بھی کرتی رہے گی۔ مگر خیبرپختونخوا کے ہسپتال آج موجود ہیں، آج مریض موجود ہیں اور آج ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ اگر اپنے صوبے کے اس مسئلے کو حل کیے بغیر سیاسی تحریک کی قیادت کرتے ہیں تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا کہ وہ اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں یا صرف تحریک انصاف کے ایک سیاسی رہنما؟
یہ سوال عمران خان کے خلاف نہیں، تحریک انصاف کے خلاف بھی نہیں اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی حمایت میں ہے۔ یہ سوال صرف حکمرانی کا ہے۔ سزا یافتہ شخص کو علاج کا حق حاصل ہے، سیاسی کارکن کو احتجاج کا حق حاصل ہے اور ڈاکٹر کو اپنے جائز مطالبات کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔ لیکن کروڑوں شہریوں کو علاج کی سہولت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں سہیل آفریدی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کی پہلی ترجیح کیا ہے: ایک سیاسی تحریک کی قیادت یا اپنے صوبے میں پیدا ہونے والے صحت کے مسئلے کا فوری اور قابل عمل حل۔
کیونکہ سیاسی جلسے اور احتجاج سیاسی تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، مگر اچھی حکمرانی کا اصل پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ جب عام آدمی ہسپتال کے دروازے پر پہنچا تو حکومت اس کے ساتھ کھڑی تھی یا نہیں۔
واپس کریں