دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
افغانستان: القاعدہ واپس نہیں آئی، دہشت گردی کا پورا نظام واپس آ رہا ہے
No image (پشاور) خصوصی رپورٹ خالد خان ۔ افغانستان کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کی تازہ رپورٹ نے ایک ایسے خطرے کی طرف دوبارہ دنیا کی توجہ مبذول کرائی ہے جسے شاید 2021 میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد بہت سے لوگوں نے ختم شدہ باب سمجھ لیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے طالبان کی واپسی کے بعد افغانستان میں دوبارہ تربیتی مراکز قائم کیے ہیں اور مختلف مسلح مذہبی تنظیموں کی موجودگی ملک کے 34 میں سے کم از کم 14 صوبوں تک پھیل چکی ہے۔ لیکن اس پوری صورتحال کو صرف یہ کہہ کر سمجھنا کہ ’’القاعدہ افغانستان واپس آگئی ہے‘‘ شاید اصل خطرے کو کم کرکے بیان کرنا ہوگا۔ اصل تبدیلی اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک ہے: افغانستان ایک ایسی جگہ بنتا دکھائی دے رہا ہے جہاں مختلف دہشت گرد تنظیمیں الگ الگ مقاصد کے ساتھ موجود ہیں، ایک دوسرے سے مسابقت بھی کرتی ہیں، بعض جگہ ایک دوسرے سے تعاون بھی کرتی ہیں اور ان کے درمیان تربیت، تجربے، افرادی قوت اور نظریاتی اثرات کا ایک ایسا جال تشکیل پا رہا ہے جس کی سرحدیں افغانستان سے باہر تک پھیل رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برس میں القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں نے افغانستان میں کم از کم آٹھ تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔ ان مراکز میں روایتی جنگی تربیت کے ساتھ ہتھیاروں، دھماکہ خیز مواد اور گوریلا کارروائیوں کی تربیت کے علاوہ خفیہ رابطوں، بغیر پائلٹ طیاروں، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ تاہم اس پوری تصویر کا شاید سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں موجود بنیادی القاعدہ جنگجوؤں کی تعداد تقریباً ایک سو یا اس سے بھی کم بتائی گئی ہے۔ بظاہر یہ تعداد بڑی نہیں، مگر مسئلہ تعداد نہیں بلکہ کردار ہے۔ اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے مطابق القاعدہ اب محض ایک جنگجو تنظیم کے طور پر نہیں بلکہ دوسری تنظیموں کے لیے تربیت، مشاورت، نظریاتی رہنمائی اور رسدی معاونت فراہم کرنے والے ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں افغانستان کی موجودہ صورتحال کو ماضی سے الگ کرکے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 1990 کی دہائی میں القاعدہ نے افغانستان کو اپنے عالمی جہادی منصوبے کے لیے استعمال کیا تھا اور اس کے تربیتی مراکز میں دنیا بھر سے جنگجو آتے تھے۔ آج منظرنامہ بظاہر مختلف ہے۔ القاعدہ دوبارہ ہزاروں غیر ملکی جنگجو جمع کرنے کے بجائے زیادہ محتاط، خاموش اور کم نمایاں طریقہ اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ وہ خود ہر جنگ میں سامنے آنے کے بجائے مقامی اور علاقائی تنظیموں کی صلاحیت بڑھانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں القاعدہ کا حجم شاید کم ہوا ہے، لیکن اس کا ’’اثر‘‘ ضروری نہیں کہ اسی تناسب سے کم ہوا ہو۔
اقوام متحدہ کی دسمبر 2025 کی رپورٹ اس تشویش کو مزید گہرا کرتی ہے۔ اس کے مطابق افغانستان میں بیس سے زیادہ بین الاقوامی اور علاقائی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں جن میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک، اسلامی تحریک ازبکستان اور جماعت انصار اللہ شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے بیشتر تنظیمیں اپنے علاقائی اثرات بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور داعش خراسان کے سوا عمومی طور پر طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ طالبان کی جانب سے افغانستان میں کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی موجودگی سے انکار قابل اعتبار نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہاں ایک اور عدد پوری تصویر بدل دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کی تعداد سات ہزار تک ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق ٹی ٹی پی نے کم از کم چار افغان صوبوں میں القاعدہ اور طالبان کی شمولیت کے ساتھ تربیتی مراکز قائم کیے ہیں اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف متعدد حملے کیے گئے ہیں۔ اگر القاعدہ کے تقریباً ایک سو بنیادی ارکان ایک طرف رکھ دیے جائیں اور دوسری طرف سات ہزار تک ٹی ٹی پی جنگجوؤں کو دیکھا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ موجودہ مسئلہ القاعدہ کی عددی طاقت سے کہیں بڑا ہے۔ القاعدہ ایک بڑے مسلح لشکر کے بجائے ایک ایسے نیٹ ورک کے کردار میں دکھائی دیتی ہے جو دوسرے گروہوں کی صلاحیت بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ افغانستان کا خطرہ اب صرف کابل یا قندھار کا مسئلہ نہیں رہا۔ یہ پاکستان، وسطی ایشیا اور بالآخر عالمی سلامتی کا سوال بن چکا ہے۔ داعش خراسان کے تقریباً دو ہزار جنگجوؤں کا ذکر بھی اسی تناظر میں سامنے آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش خراسان نے شمالی افغانستان کو اپنی تربیت اور وسطی ایشیا میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے اہم مرکز بنایا ہوا ہے۔ یعنی افغانستان میں صرف ایک تنظیم واپس نہیں آرہی بلکہ مختلف نظریات، مختلف اہداف اور مختلف علاقائی ترجیحات رکھنے والی تنظیموں کا ایک پورا ماحولیاتی نظام تشکیل پا رہا ہے۔
اس صورت حال کا سب سے خطرناک پہلو شاید یہ ہے کہ القاعدہ اور داعش خراسان ایک دوسرے کی حریف ہیں۔ اگر دونوں ایک دوسرے کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہیں تو یہ بھی افغانستان کے لیے خطرہ ہے اور اگر مختلف مواقع پر مختلف تنظیمیں اپنے مشترکہ دشمنوں کے خلاف ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتی ہیں تو خطرہ اس سے بھی زیادہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ اسی ماحول میں ٹی ٹی پی، القاعدہ برصغیر، جماعت انصار اللہ اور دوسری علاقائی تنظیمیں اپنی اپنی ترجیحات کے ساتھ سرگرم ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق صرف القاعدہ برصغیر کے ارکان کی تعداد دو سو سے تین سو کے درمیان ہے اور اس تنظیم نے پاکستان پر اپنی توجہ بڑھائی ہے۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ برصغیر اور ٹی ٹی پی کے درمیان باہمی تعاون اور تربیت کے تعلقات موجود ہیں۔ القاعدہ برصغیر کی قیادت میں شامل افراد کا تعلق پاکستان کے قبائلی علاقوں سے بھی رہا ہے۔ اس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی کا مسئلہ محض افغان داخلی سیاست تک محدود نہیں بلکہ سرحد پار ایک وسیع تر سلامتی کے ڈھانچے سے جڑا ہوا ہے۔
پاکستان گزشتہ کئی برس سے یہی مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیاں ہو رہی ہیں، جبکہ طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی رہی ہے۔ جون 2026 میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی افغانستان میں موجود ایسے مسلح گروہوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی جو سرحد پار حملوں سے علاقائی امن کو متاثر کر رہے ہیں۔ اسی کشیدگی کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور فوجی کارروائیاں بھی ہوئی ہیں۔
طالبان کا تازہ مؤقف بھی قابل ذکر ہے۔ کابل نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی سے انکار کیا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس انکار کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی متعدد رپورٹس موجود ہیں جو نہ صرف القاعدہ کی موجودگی بلکہ طالبان اور مختلف دہشت گرد تنظیموں کے درمیان تعلقات، تربیت اور پناہ کے بارے میں مسلسل معلومات پیش کرتی رہی ہیں۔ 2025 کی اقوام متحدہ کی رپورٹ نے واضح طور پر کہا کہ طالبان القاعدہ کی میزبانی اور حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں اور القاعدہ کے سینئر کمانڈروں کی کابل میں موجودگی کی اطلاعات ہیں۔
تاہم اس صورتحال کو 2001 کی عین واپسی قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ آج القاعدہ نہ تو اس وقت جیسی طاقت رکھتی ہے اور نہ ہی اس کے پاس اسامہ بن لادن جیسی عالمی شخصیت موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ تنظیمیں زیادہ تر علاقائی جنگوں پر توجہ دے رہی ہیں اور طالبان بھی ایسے اقدامات کو محدود رکھنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں جو دوبارہ عالمی طاقتوں کی براہ راست فوجی مداخلت کا سبب بن سکتے ہوں۔ بعض امریکی تجزیوں نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان ابھی 2001 جیسا عالمی دہشت گردی کا مرکز نہیں بنا۔
لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں دنیا کو سب سے زیادہ محتاط ہونا چاہیے۔ دہشت گردی ہمیشہ بڑی فوج اور کھلے میدان سے واپس نہیں آتی۔ کبھی کبھی وہ چھوٹے تربیتی مراکز، محفوظ گھروں، خاموش رابطوں، مقامی جنگجوؤں، سرحد پار سہولت کاروں اور جدید مواصلاتی ذرائع کے ذریعے دوبارہ اپنی بنیاد بناتی ہے۔ القاعدہ کے موجودہ کردار کو اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک تنظیم خود بڑی تعداد میں جنگجو نہ رکھے لیکن دوسری تنظیموں کو تربیت، خفیہ کارروائیوں کا علم، مواصلاتی تحفظ، جنگی تجربہ اور نظریاتی رہنمائی فراہم کرسکے تو اس کی اصل طاقت اس کے اپنے جنگجوؤں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس کے ذریعے پیدا ہونے والی مجموعی جنگی صلاحیت سے ناپی جائے گی۔
افغانستان کے بارے میں اس وقت سب سے بڑا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’کیا القاعدہ دوبارہ وہی القاعدہ بن سکتی ہے جو 2001 میں تھی؟‘‘ اصل سوال یہ ہے کہ ’’کیا افغانستان دوبارہ ایسی جگہ بن رہا ہے جہاں مختلف دہشت گرد تنظیمیں ایک دوسرے سے تجربہ، تربیت، پناہ اور افرادی قوت حاصل کرسکیں؟‘‘ اگر جواب ہاں میں ہے تو خطرہ القاعدہ کی واپسی سے کہیں بڑا ہے۔
اور شاید یہی آج کی سب سے اہم خبر ہے۔
افغانستان میں دہشت گردی شاید دوبارہ ایک تنظیم کی شکل میں واپس نہیں آ رہی؛ وہ ایک نیٹ ورک کی شکل میں واپس آ رہی ہے۔ القاعدہ اس نیٹ ورک کا سب سے بڑا لشکر نہ بھی ہو، تو ممکن ہے اس کا سب سے اہم کردار ادا کرنے والا ادارہ بن جائے۔ سات ہزار تک ٹی ٹی پی جنگجو، تقریباً دو ہزار داعش خراسان ارکان، القاعدہ اور اس کی علاقائی شاخیں، بیس سے زیادہ بین الاقوامی و علاقائی دہشت گرد تنظیمیں اور کم از کم چودہ صوبوں میں مسلح مذہبی گروہوں کی موجودگی—یہ اعداد کسی ایک تنظیم کی واپسی کی خبر نہیں دیتے، بلکہ ایک ایسے نئے افغان نقشے کی نشاندہی کرتے ہیں جسے دنیا نے 2001 کے بعد ختم سمجھ لیا تھا۔
دنیا کو شاید ایک اور گیارہ ستمبر کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تاکہ یہ ثابت ہو کہ خطرہ واپس آچکا ہے۔
واپس کریں