
یا تو موجودہ والے حکمرانوں نے یہ طے کر لیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں نہیں جانا یا پھر یہ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ 8 فروری2024 کی طرح انہیں دوبارہ سے اقتدار پلیٹ میں سجا کر دے دیا جائے گا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ8 فروری2024 کے عام انتخابات پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک متنازعہ باب بن چکے ہیں۔ ان میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو سب سے زیادہ ووٹ ملنے کے باوجود، نتائج میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کے الزامات سامنے آئے۔
فارم 45اور فارم 47 میں تضادات، چند سرکاری افسران کے اعترافات اور آزاد اداروں کی رپورٹس نے اس انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کیے۔ نتیجتاً ایک ایسا سیاسی و حکومتی اتحاد معرض وجود میں آیا جسے ہمارے قومی سیاسی انیجینئرز "تکنیکی فتح" قرار دیتے ہیں نہ کہ عوامی مینڈیٹ۔
اب تقریباً ڈھائی سال بعد صورتحال یہ ہے کہ مہنگائی، معاشی مسائل، افراط زر، بے روزگاری کے عروج اور صوبائی سطح پر لوکل گورنمنٹ الیکشنز کی تاخیر نے عوام میں مایوسی بڑھا دی ہے۔ اپوزیشن مسلسل نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکمران اتحاد استحکام اور معاشی بحالی کے بلند و بانگ کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی اپنے ہی سسٹم کی ناکامی کا نقارہ بھی بجایا جا رہا ہے۔
تاریخی طور پر پاکستان میں جب کوئی حکومت عوامی مقبولیت کھو دیتی ہے تو اسے اکثر "سسٹم" کی جانب سے وقت سے پہلے ختم کر دیا جاتا ہے لیکن موجودہ صورت حال حیران کن ہے۔باالفاظ دیگر سارے کے سارے ہی آپس میں ملے ہوئے ہیں۔
جو صاحبان آج مسند اقتدار میں ہیں،انہیں شاید یہ خوش فہمی ہے کہ پرانے فارمولے ہمیشہ کام کرتے رہیں گے، لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ جب عوام کا صبر جواب دے جاتا ہے تو پھر عوامی غضب سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہتا۔ جی آ
واپس کریں