اختیار عوام کے دروازے پر کیوں نہیں؟ بلدیاتی نظام کے ساتھ یہ مذاق کب تک

(رپورٹ خالد خان) صوبہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل ایک مرتبہ پھر تاخیر کا شکار ہوگیا ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں کی گئی ترامیم کے باعث صوبے کے سات اضلاع میں جاری حلقہ بندیوں کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے 22 جولائی 2026ء کے اپنے نوٹیفکیشن کے ذریعے خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے سیکشن 6 کی ذیلی دفعہ 5 کی شق (e) میں ترمیم کے بعد الیکشن کمیشن نے ان حلقہ بندیوں کو فوری طور پر اور مزید احکامات تک زیر التوا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جن سات اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل روکا گیا ہے ان میں ضلع خیبر، ضلع کرم، ضلع مانسہرہ، ضلع ملاکنڈ، ضلع شانگلہ، ضلع اپر چترال اور ضلع باجوڑ شامل ہیں۔ یوں ان اضلاع میں بلدیاتی حلقہ بندیوں کا موجودہ عمل فی الحال معطل رہے گا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے آئندہ احکامات کے بعد ہی نئی حلقہ بندیوں کا عمل دوبارہ شروع ہوسکے گا۔ بظاہر یہ ایک قانونی اور انتظامی معاملہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ پاکستان کے بلدیاتی نظام کی اس طویل کہانی کا ایک اور باب ہے جس میں مقامی حکومتوں کو ہمیشہ اختیار، وسائل اور سیاسی ترجیح کے بحران کا سامنا رہا ہے۔
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کب ہوں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ انتخابات ہونے کے بعد منتخب ہونے والی مقامی حکومتوں کے پاس اختیار کتنا ہوگا، وسائل کتنے ہوں گے اور فیصلے کرنے کی آزادی کتنی ہوگی۔ اگر عوام ووٹ دے کر مقامی نمائندے منتخب کریں لیکن ان کے پاس اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے نہ مناسب مالی وسائل ہوں، نہ انتظامی اختیار اور نہ منصوبہ بندی کی آزادی، تو بلدیاتی انتخابات محض ایک انتخابی رسم بن کر رہ جاتے ہیں۔
پاکستان میں تعمیر و ترقی اور عوامی سہولتوں کی بنیادی ذمہ داری مقامی حکومتوں کے پاس ہونی چاہیے۔ گلی، سڑک، نکاسی آب، صفائی، پانی، مقامی بازار، چھوٹے پل، محلہ جاتی سہولتیں اور اس نوعیت کے بیشتر منصوبے وہ معاملات ہیں جنہیں مقامی نمائندے عوام کی ضرورت کے مطابق زیادہ بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ قومی یا صوبائی سطح پر بیٹھا ہوا نمائندہ پورے حلقے کی ہر گلی اور ہر محلے کی روزمرہ ضرورت سے اتنی واقفیت نہیں رکھ سکتا جتنی ایک مقامی نمائندے کو ہوتی ہے۔ مقامی حکومت کا نمائندہ اپنے علاقے میں رہتا ہے، اپنے ووٹروں سے روزانہ ملتا ہے اور اپنی کارکردگی کے ساتھ مسلسل عوامی نگرانی میں رہتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ کس گلی میں پانی کا مسئلہ ہے، کہاں نکاسی آب درکار ہے، کون سی سڑک ٹوٹ چکی ہے، کہاں صفائی کا نظام ناکام ہے اور کس محلے کو فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ یہی قربت مقامی حکومت کو عوامی مشاورت کے ساتھ ترقیاتی ترجیحات طے کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
مقامی منصوبوں کا ایک اور اہم فائدہ ان کا نسبتاً چھوٹا مالی حجم ہے۔ جب ایک منصوبہ کسی مخصوص محلے، گاؤں یا یونین کونسل کی محدود ضرورت سے متعلق ہو تو اس میں اربوں روپے کے بڑے منصوبوں جیسی مالی گنجائش پیدا نہیں ہوتی۔ منصوبہ عوام کی آنکھوں کے سامنے بنتا ہے، اس کی لاگت اور معیار کا اندازہ مقامی لوگ براہ راست کرسکتے ہیں اور اگر کام ناقص ہو تو شکایت بھی فوراً سامنے آتی ہے۔ منصوبے کا چھوٹا حجم، براہ راست عوامی نگرانی اور منتخب نمائندے کی فوری جواب دہی مل کر کرپشن کے امکانات کو نمایاں طور پر محدود کرسکتے ہیں۔ یہ بات کسی مثالی تصور کی بنیاد پر نہیں بلکہ مقامی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی ایک عملی خوبی کے طور پر سمجھی جانی چاہیے۔ شرط صرف یہ ہے کہ مالی معاملات شفاف ہوں، حسابات عوام کے لیے قابل رسائی ہوں اور نگرانی کا نظام مؤثر ہو۔
اس کے برعکس پاکستان میں ایک عجیب تضاد پیدا کردیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے بنیادی فرائض قانون سازی، پالیسی سازی اور حکومتوں کی نگرانی ہیں، مگر ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کو اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز فراہم کرکے انہیں عملاً ترقیاتی منصوبوں میں بھی شریک کردیا جاتا ہے۔ یوں پارلیمانی نمائندے قانون سازی اور حکومتی احتساب کے بجائے سڑک، نالی، گلی، عمارت اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے حصول کی سیاست میں الجھ جاتے ہیں۔ اگر کسی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی کا بنیادی کام قانون سازی اور حکومت کی نگرانی ہے تو اسے مقامی ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم فراہم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اور اگر مقامی سطح کے ترقیاتی منصوبے مقامی حکومت کی ذمہ داری ہیں تو ان منصوبوں کا اختیار منتخب بلدیاتی نمائندوں کے بجائے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پاس کیوں رہتا ہے؟
یہی تضاد ترقیاتی فنڈز کو بعض اوقات سیاسی اثرورسوخ اور انتخابی مفاد کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔ ترقی جو شہری کا بنیادی حق ہونی چاہیے، سیاسی احسان بن جاتی ہے۔ جس کے پاس اختیار ہو وہ احسان کرتا ہے، جس کے پاس اختیار نہ ہو وہ عوام کو جواب دیتا ہے۔ یہ کسی بھی صحت مند جمہوری اور انتظامی نظام کے لیے ایک ناقص صورت حال ہے۔
مقامی حکومتوں کا المیہ یہ ہے کہ ان سے صفائی، پانی، نکاسی آب، سڑکوں اور دیگر شہری سہولتوں کی توقع کی جاتی ہے، مگر جب انہیں مناسب وسائل اور اختیارات نہیں دیے جاتے تو وہ عملی طور پر بے اختیار ادارے بن جاتی ہیں۔ پھر جب کوئی منصوبہ مکمل نہیں ہوتا، شہر یا گاؤں میں بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں ہوتیں یا عوام شکایت کرتے ہیں تو سوال مقامی نمائندے سے کیا جاتا ہے، حالانکہ فیصلہ اور وسائل کسی دوسرے ادارے کے پاس ہوتے ہیں۔ انتظامی اصول بالکل واضح ہے: جس کے پاس اختیار ہو، اسی کے پاس ذمہ داری ہونی چاہیے اور جس کے پاس ذمہ داری ہو، اسے وسائل بھی ملنے چاہییں۔ اختیار کسی اور کے پاس، پیسہ کسی اور کے پاس اور جواب دہی کسی تیسرے کے پاس ہو تو نظام کبھی مؤثر نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں کبھی ون یونٹ کے ذریعے مرکزیت پیدا کی گئی، آج نئے صوبوں کی بات ہورہی ہے اور نظام کے خاتمے یا انتظامی ڈھانچے کے بوجھ کی بحث بھی جاری رہتی ہے۔ لیکن نئے صوبے بنا دینے سے لازماً نظام بہتر نہیں ہوجاتا۔ اگر ایک بڑے صوبے کے اختیارات ایک نئے صوبے کے دارالحکومت میں منتقل کردیے جائیں اور وہاں سے وہی اختیار نیچے عوام تک نہ پہنچے تو عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اصل سوال یہ نہیں کہ صوبے کتنے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اختیار عوام سے کتنی دور ہے۔ اگر ریاستی اختیار شہری کے قریب نہیں پہنچتا تو انتظامی یونٹ بڑھانے کا فائدہ محدود رہتا ہے۔ پاکستان کو شاید نئے صوبوں سے پہلے اختیارات کی حقیقی نچلی سطح تک منتقلی کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومتیں بھی اس حوالے سے کوئی قابل تقلید مثال قائم نہیں کرسکیں۔ جس جماعت نے تبدیلی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے نعرے کے ساتھ سیاست کی، اسی کے زیر اقتدار صوبے میں بلدیاتی ادارے مکمل مالی، انتظامی اور سیاسی اختیار حاصل نہ کرسکے۔ مقامی حکومتیں اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے بھی صوبائی حکومت کی طرف دیکھتی رہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ آئینی تقاضوں کے مطابق بلدیاتی انتخابات بروقت کرانا بھی ایک مستقل روایت نہیں بن سکا۔ انتخابات میں تاخیر ہوتی ہے، حلقہ بندیاں شروع ہوتی ہیں، قانونی ترامیم آتی ہیں، حلقہ بندیاں رک جاتی ہیں اور عوام دوبارہ انتظار کرتے رہ جاتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں سات اضلاع کی حلقہ بندیوں کا عمل روک دیا جانا اسی غیر یقینی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس تاخیر کی ذمہ داری آخر کس پر عائد ہوتی ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ عوام کے اس بنیادی جمہوری حق کے متاثر ہونے پر جواب دہ کون ہے؟ اگر مقامی حکومتیں جمہوری نظام کا بنیادی حصہ ہیں تو ان کے انتخابات بروقت کیوں نہیں ہوتے؟ اگر انہیں عوام نے منتخب کرنا ہے تو انہیں اختیار اور وسائل کیوں نہیں دیے جاتے؟ اور اگر مقامی ترقی انہی کی ذمہ داری ہے تو اربوں روپے کے ترقیاتی وسائل دوسرے منتخب نمائندوں کے ذریعے کیوں تقسیم کیے جاتے ہیں؟
مقامی حکومت کو مضبوط کرنے کا مطلب منتخب نمائندوں کو کھلی چھوٹ دینا نہیں۔ اختیار کے ساتھ سخت اور شفاف احتساب لازم ہونا چاہیے۔ ہر منصوبے کی لاگت، تخمینہ، ٹھیکہ، مدت تکمیل اور معیار عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ مالی معاملات کا آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے، شہریوں کو معلومات تک رسائی ہونی چاہیے اور اختیارات کے غلط استعمال پر فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ لیکن احتساب کے نام پر اختیار ہی ختم کردیا جائے تو مقامی حکومت کا تصور بے معنی ہوجاتا ہے۔ نمائندے کو کام کرنے کا اختیار بھی دینا ہوگا اور کام کا حساب دینے کا پابند بھی بنانا ہوگا۔
پاکستان کو ایسا نظام درکار ہے جس میں وفاق قومی معاملات اور وفاقی قانون سازی پر توجہ دے، صوبے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں اور مقامی حکومتیں اپنے علاقوں کی تعمیر و ترقی، شہری سہولتوں اور مقامی منصوبہ بندی کی حقیقی ذمہ دار ہوں۔ اس طرح قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان بھی ترقیاتی سکیموں کی سیاست سے نکل کر قانون سازی اور حکومتی نگرانی پر توجہ دے سکیں گے، جبکہ عوام کو اپنے روزمرہ مسائل کے حل کے لیے کسی ایم این اے یا ایم پی اے کے دفتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔
جمہوریت صرف یہ نہیں کہ پانچ سال بعد ووٹ ڈالنے کے لیے عوام کو قطار میں کھڑا کردیا جائے۔ جمہوریت یہ بھی ہے کہ جس گلی میں شہری رہتا ہے، وہاں کی سڑک، پانی، صفائی، نکاسی آب اور دوسری بنیادی سہولتوں کے فیصلے میں اس کی آواز شامل ہو۔ اس کے منتخب نمائندے کو اختیار حاصل ہو، وہ عوام کے سامنے جواب دہ ہو اور ریاستی وسائل اس کی ضرورت کے مطابق اس تک پہنچیں۔ یہی جمہوریت کو عوام کی روزمرہ زندگی سے جوڑتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے سات اضلاع میں حلقہ بندیوں کا عمل رک جانا شاید ایک قانونی اور انتظامی فیصلہ ہو، مگر اس نے ایک بہت بڑے سیاسی سوال کو پھر زندہ کردیا ہے: آخر پاکستان میں مقامی حکومتیں کب تک اختیار کے لیے صوبائی حکومتوں کی طرف دیکھتی رہیں گی؟ کب تک انتخابات تاخیر کا شکار ہوتے رہیں گے؟ کب تک ترقیاتی وسائل اوپر سے نیچے سیاسی اختیار کے ذریعے تقسیم ہوتے رہیں گے؟ اور کب تک عوام کے نام پر قائم جمہوری نظام میں عوام کے سب سے قریب موجود حکومت کو سب سے کمزور رکھا جائے گا؟
پاکستان کو نئے صوبوں سے پہلے شاید ایک نئے انتظامی شعور کی ضرورت ہے۔ اختیار جتنا عوام کے قریب ہوگا، حکومت اتنی ہی جواب دہ ہوگی۔ منصوبے جتنے مقامی ہوں گے، عوامی نگرانی اتنی ہی مؤثر ہوگی۔ اور جب مقامی حکومتوں کو اختیار، وسائل اور ذمہ داری ایک ساتھ دی جائے گی تو قومی اور صوبائی اسمبلیاں بھی اپنے اصل کام، یعنی قانون سازی اور احتساب، کی طرف واپس جاسکیں گی۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ریاست عوام کے دروازے تک پہنچ سکتی ہے اور ترقی سیاسی احسان کے بجائے شہری کا حق بن سکتی ہے۔
واپس کریں