دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سانحہ بہاولپور، ذمہ دار کون؟ ثروت علی خان
No image سعودی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کا نقطہ نظر ( انکی یادداشتوں پر مشتمل کتاب The Afghanistan Fileسے ماخوذ)۔

سانحہ بہاولپور کو38 برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر آج بھی اس حوالے سے ملکی و غیر ملکی ذرائع ابلاغ میں تذکرے، تبصرے اور تجزیے ہوتے رہتے ہیں۔ ان میں تازہ ترین اضافہ سعودی انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’دی افغانستان فائل‘‘ ہے، جس میں انھوں نے جہاں سوویت یونین کیخلاف جنگ میں پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ کے مشترکہ کردار پر اپنے مشاہدات بیان کیے ہیں، وہاں 17اگست 1988ء کے سانحہ کے پس پردہ عوامل کا بھی تجزیہ کیا ہے، جس میں جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن اور امریکی سفیر آرنلڈ رافیل سمیت پاکستان کے27افسر اور اہلکار جاں بحق ہو گئے، اور آن واحد میں جنوبی ایشیا کی سیاست کا نقشہ تبدیل ہوگیا تھا۔شہزادہ ترکی الفیصل سعودی عرب کی موجودہ بادشاہت کے بانی شاہ عبدالعزیزکے پوتے اور شاہ فیصل شہید کے صاحب زادے ہیں۔ 1979ء سے 2001ء تک جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ سعودی عرب کے سربراہ رہے ہیں۔ 2005ء سے 2007ء تک امریکہ میں سعودی سفیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یوں، 17اگست 1988ء کے حوالے سے ان کا تجزیہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ترکی الفیصل کہتے ہیںکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل اختر عبدالرحمٰن سے امریکی انتظامیہ ناخوش تھی۔ وہ آئی ایس آئی کی سربراہی سے انکے ہٹانے جانے میں امریکی عمل دخل کو بھی مسترد نہیں کرتے، مگر سانحہ بہاولپور کو ’کے جی بی‘ اور ’خاد‘ سے جوڑتے ہیں، جو سوویت یونین کی افغانستان سے پسپائی پر شدید احساس شکست سے دوچار تھیں اور جنرل ضیاء الحق کو خود بھی انکی طرف سے سخت ردعمل کا خطرہ رہتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنگ کے دوران روسی فوج کے فضائی حملوں کیخلاف افغان کمانڈروں کو سٹنگر میزائلوں سے مسلح کرنیکی بات چیت چل رہی تھی، تو اس پر امریکی انتظامیہ ہی نہیں، جنرل ضیاء الحق بھی متذبذب تھے۔ ان کو خطرہ یہ تھا کہ اگر یہ سٹنگر میزائل ’ کے جی بی‘ اور ’خاد‘ کے ہاتھ لگ گئے، تو ان کا جہازبھی ان میزائلوںکی زد میں آ سکتا ہے۔ ترکی الفیصل اس ضمن میں اس شدید تلخی کا ذکر بھی کرتے ہیں،’’جو اپریل 1987ء میں جنرل ضیاء الحق اور سوویت انتظامیہ کے درمیان اس وقت پیدا ہوئی، جب ایک افغان کمانڈر نے روس کی سرحد کے 30 کلومیٹر اندر جا کر تاجکستان کے قصبہ میں ایک انڈسٹریل پلانٹ پر لگاتار 30 راکٹ فائر کر دیے۔ یہ سوویت یونین کیلئے ناقابل برداشت تھا۔ دراصل، کچھ ہی عرصہ پیشتر اس قصبہ کے قریب قازقستان کے دارالحکومت الماتا میں شدید ہنگامے ہو چکے تھے۔ سوویت انتظامیہ اس پر اس قدر مشتعل ہوا تھا کہ اسلام آباد میں اسکے سفیر نے وزیرخارجہ یعقوب علی خاں سے ملاقات کی، اور دھمکی دی کہ اگر آئندہ کسی افغان کمانڈر نے ایسی حرکت کی تو سوویت یونین براہ راست پاکستان کی دفاعی تنصیبات پر حملہ کر دے گا۔ یہ واقعہ پاکستان، سعودی عرب اور امریکہ کی اس طے شدہ پالیسی کے بھی خلاف تھا کہ افغان جنگ کو افغان حدود سے باہر پھیلنے نہیں دیا جائیگا۔ چنانچہ جنرل ضیاء اور جنرل اختر نے افغان کمانڈروں کو متنبہ کر دیا کہ آئندہ ایسی غلطی کو معاف نہیں کیا جائیگا۔ شہزادہ ترکی الفیصل کے مطابق، سوویت فوج کی واپسی کے باوجود نجیب حکومت کی جنگی صلاحیت کافی مستحکم تھی، اور سینکڑوں روسی افسر اور اہلکار’فوجی مشیروں‘ کے روپ میں افغان کمیونسٹ حکومت کی معاونت کیلئے افغانستان میں موجود تھے۔ ان میں سے کچھ اہلکار میڈیم رینج سکڈ میزائل چلانے کی مہارت بھی رکھتے تھے، جسکا بہت بڑا خیزہ اب بھی نجیب حکومت کی دسترس میں تھا۔ علاوہ اسکے، جنیوا معاہدہ پر عملدرآمد شروع ہونے سے سوویت فوج مزید خطرناک اسلحہ اور فوجی سازو سامان نجیب حکومت کو منتقل کر چکی تھی، اور وہ پاکستان کے اندر کوئی بھی بڑا ایڈونچر کرنیکی بھرپور استعداد رکھتی تھی۔ ترکی الفیصل جنیوا معاہدہ کے ضمن میں کہتے ہیں کہ افغانستان سے ذلت آمیز پسپائی کے باوجود سوویت حکومت اپنے شہریوں کو برابر یہی تاثر دے رہی تھی کہ روسی فوج ، افغانستان میں اپنا مشن مکمل کرکے واپس لوٹ رہی ہے۔ لہٰذا، وہ اسکی ایک فاتح فوج کے طور پر محفوظ واپسی کو یقینی بنانا چاہتی تھی۔ بدقسمتی سے جنیوا معاہدے میں روسی فوج کی واپسی کا Mechanism وضع نہیں کیا گیا تھا۔ معاہدے میں دانستہ یا نادانستہ طور پر چھوڑے جانیوالے اس خلا یا نقص کے باعث سوویت انتظامیہ، افغانستان سے اپنی فوج کی محفوظ واپسی کی یقین دہانی مانگ رہی تھی، جس سے اب امریکہ کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ کشمکش جاری تھی کہ جنیوا معاہدے پر باقاعدہ دستخط ہونے سے عین پہلے10 اپریل 1988ء کو اوجڑی اسلحہ ڈپو میں خوفناک دھماکہ ہوا، اور اس میں ذخیرہ شدہ تمام اسلحہ راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ اوجڑی اسلحہ ڈپو میںیہ دھماکہ کسی اہلکار کی غفلت کا نتیجہ اور محض حادثہ تھا، یا سبوتاژکی کوئی سوچی سمجھی کارروائی، اس سے قطع نظر اس کا تمام تر فائدہ سوویت فوج کو ہوا ، جو اسلحہ کے اس ذخیرےکے افغان کمانڈروں تک پہنچنے کے امکان سے خائف تھی۔ ابھی اس دھماکے کی بُو فضا میں باقی تھی کہ 17 اگست کو جنرل ضیاء الحق کا C-130 بھی گر کے تباہ ہو گیا، جس میں انکے ساتھ انکے دست راست جنرل اختر عبدالرحمان بھی سفر کر رہے تھے، جنھوں نے افغانستان میں سوویت یونین کی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ آج تک اس واقعہ کی پراسراریت سے پردہ نہیں اٹھایا جا سکا، مگر ترکی الفیصل کا نقطہ نظر یہی ہے کہ It certainly looked sabotage by the KGB or KHAD.۔ واللہ اعلم
واپس کریں