دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اچھے موقع بھلا بار بار کہاں ملتے ہیں ۔ احتشام الحق شامی
No image سردار عتیق احمد خان کو سیاسی شکست سے دوچار کرنے والے نو منتخب ایم ایل اے اور عوامی دست وبازو پارٹی کے چیئرمین ساجد اقبال کو مسلم لیگ ن کی ممکنہ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے اور وزیر اعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کو الیکشن میں شکست سے دوچار کر دینے والے ن لیگی امیدوار چوہدری محسن عزیز کو (خبروں کے مطابق) آذاد کشمیر اسمبلی میں ٹیکنوکریٹ کی سیٹ آفر کی گئی ہے،گو کہ الیکشن کمیشن نے فیصل ممتاز راٹھور کی کامیابی کا نوٹیفیکشن جاری کر دیا ہے۔
ناچیز کے خیال میں ساجد اقبال اور خاص طور پر محسن عزیز صاحب کو فوری طور پر مذکورہ پیشکش یا کسی بھی حکومتی عہدہ کو قبول کر لینا چاہیئے اور اس کی وجہ ہے کہ چونکہ پی پی پی اور ن لیگ کی غیر اعلانیہ سیاسی انڈر سڈینڈنگ اور نورا کشتی نے خطے میں سیاسی نظریات اور سیاسی میرٹ کو مکمل طور پر دفن کر دیا گیا ہے،لہذا کیوں نہ اپنے اپنے ضمیر شریف کو فی الحال الماری میں رکھ کر انقلابی بننے کے چکر میں پڑنے کے بجائے بہتی گنگا میں ہاتھ کیوں نہ دھو لیئے جائیں اور ہواوں کے رخ کے مخالف کھڑے ہونے سے اجتناب کیا جائے۔ مذکورہ صاحبان کو کم از کم دو فائدے ضرور ہوں گے ایک تو اقتدار کے جھولے جھولنے کو ملیں گے اوردوسرا انہیں کسی نہ کسی حد تک اپنے اپنے حلقوں کے مسائل کو حل کرنے میں حکومتی مدد ملتی رہے گی۔باقی اگر مذکورہ صاحبان یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ یا ان کے ووٹر اور سپوٹرز کیا کہیں گے؟ تو عرض ہے کہ یہ اگر صاحبان انقلابی بن کر ہواوں کے مد مقابل بھی چلیں تو انہیں کسی نے بھی میڈل نہیں دینا بلکہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہی ہو گا۔ اب کوئی اسے ابن الوقتی کہے یا موقع پرستی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ویسے بھی ایسے اچھے موقع بھلا بار بار کہاں ملتے ہیں اور کل کس نے دیکھی ہے۔
واپس کریں