
زیادہ صوبے بنائیں،صدارتی نظام نافذ کریں،ٹیکنوکریٹس کی حکومت مسلط کریں یا پھر اس ملک میں کوئی نیا تجربہ ۔۔۔۔ بگڑا ہوا نظام اس وقت تک درست نہیں ہو گا جب تک ادارہ جاتی کمزوریاں دور نہیں ہوں گی۔ بیوروکریسی، عدلیہ، پولیس اور احتساب کے اداروں میں اصلاحات کے بغیر کوئی بھی نیا تجربہ یا انتظامی تبدیلی عارضی رہے گی۔ جب تک جوابدہی اور رول آف لاء مضبوط نہ ہو، حکومتی سطح پر کرپشن، اشرافیہ کے مفادات اور سیاسی مداخلت تب تک غالب رہیں گی۔ آپ کوئی سا بھی تجربہ اس ملک پر مسلط کر دیں، بگڑا ہوا نظام ٹھیک سے نہیں چلے گا۔
ملک کو معاشی بنیادوں کو درست کرنا ہو گا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیئے حالات کو ساز گار کرنا ہو گا،مقامی تاجروں کی لیئے آسانیاں پیدا کرنا ہوں گی۔ ٹیکس بیس کو وسیع اور غیر پیداواراتی اخراجات کم کرنا ہوں گے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم (این ایف سی سمیت مقامی سطح تک) کرنا ہو گی۔ موجودہ ملکی صورت حال کا تقاضہ ہے کہ پہلے موجودہ پارلیمانی ڈھانچے، پارلیمنٹ کو بااختیار کو درست اور مضبوط کیا جائے۔ نئے تجربے اور صوبے وغیرہ بعد کی باتیں ہیں۔
ملک عزیز میں ماضی میں بھی سسٹم کو ناکام قرار دے کر بلند و بانگ دعوں کے ساتھ کئی ''تجربے '' کئے گئے، جن میں فوجی حکومتیں، ٹیکنوکریٹک سیٹ اپ، آئینی ترامیم اور مقامی حکومتوں کے مختلف ماڈلز لیکن نتیجہ صفر رہا اور اس کی واحد وجہ ادارہ جاتی تبدیلیاں جن کا زکر اوپر کیا ہے، نہیں کی گئیں۔یعنی جو کام کرنے کے تھے، ان میں ناکام ہونے کے بعد نئے تجربات کی بنیادیں ڈالی گئیں جو کچھ ہی عرصے بعد بیٹھ گئیں۔
مختصر کہ ملک میں حقیقی تبدیلی اسی وقت آئے گی جب اشرافیہ اور طاقتور طبقات اپنے اپنے مفادات قربان کرنے کے لیے تیار ہوں اور تمام ادارے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے قانون کے تحت کام کریں۔
جب تک قومی اتفاق رائے پیدا نہ ہو، کسی بھی قسم کی اصلاحات چاہے وہ نئے صوبوں سے متعلق ہوں یا نظام کی تبدیلی یعنی صدارتی نظام سے متعلق، بغیر سیاسی اور عوامی حمایت کے مکمل طور پر ناکام ہو جائیں گی جیسا کہ ماضی میں بار بار دیکھا گیا لیکن شاید ہمارے پالیسی اور فیصلہ سازوں نے شروع دن سے ہی نت نئے تجربات کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے۔
واپس کریں