دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
سسٹم کے استحکام کے لیے سیاست میں رواداری کی ضرورت
No image مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سیاسی مخالفت کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پیپلز پارٹی سے اس نوعیت کی شکایت کی امید نہیں تھی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر میں وزیراعظم پیپلز پارٹی کا نہیں تھا، انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کو اکثریت حاصل ہوئی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں دھاندلی کی بات نہیں کی۔ سیاسی اختلافات کو الزامات اور محاذ آرائی کی طرف لے جانے کے بجائے جمہوری روایات کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔
1990ء کی دہائی میں دونوں بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے کی حکومتیں ختم کرنے میں کردار ادا کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جن جمہوری حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے تھی، وہ بار بار سیاسی بحرانوں کا شکار ہوتی رہیں۔ اس دور کی سیاسی کشمکش نے نہ صرف جمہوری اداروں کو کمزور کیا بلکہ عوام کے اندر بھی سیاست اور سیاسی قیادت کے بارے میں مایوسی پیدا کی۔پھر پرویز مشرف کے دور میں دونوں جماعتیں مختلف نوعیت کے سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرتی رہیں تو حالات نے انہیں ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کیا۔ اسی پس منظر میں چارٹر آف ڈیموکریسی ایک اہم سیاسی دستاویز کے طور پر سامنے آیا، جس میں اس بات کا عزم کیا گیا کہ سیاسی جماعتیں جمہوری نظام کے استحکام کے لیے ایک دوسرے کے وجود اور مینڈیٹ کا احترام کریں گی۔
2008ء کے انتخابات کے بعد بھی دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی تعاون کی مثالیں قائم کیں۔ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو مسلم لیگ (ن) کے وزراء بھی حکومت کا حصہ رہے، جبکہ پنجاب میں شہباز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دوران پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر سمیت وزراء نے صوبائی حکومت میں ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سیاسی اختلاف کے باوجود قومی اور صوبائی مفاد میں تعاون ممکن ہے۔ بعد کے برسوں میں یہ سیاسی مفاہمت مستقل روایت نہ بن سکی۔ کبھی دونوں جماعتوں کے درمیان قربت پیدا ہوئی اور کبھی تلخی دیکھنے میں آئی۔ گلگت بلتستان کے انتخابات اور اس کے بعد آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نے اس تلخی کو مزید نمایاں کر دیا۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں؛ جمہوریت میں اختلاف اور تنقید بنیادی حق ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تنقید، الزام، اور کردار کشی ذاتی دشمنی میں تبدیل ہو جائے۔
ٹی وی ٹاک شوز، جلسوں اور سوشل میڈیا پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مخالف جماعت کی قیادت کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کا اثر صرف سیاسی قیادت تک محدود نہیں رہتا۔ کارکن اسی زبان کو آگے بڑھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں سیاسی تقسیم گہری ہوتی جاتی ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب مخالف سیاسی جماعت کا کارکن دوسرے کو سیاسی حریف نہیں بلکہ دشمن سمجھنے لگتا ہے۔ یہی صورتحال جمہوری معاشروں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہوتی ہے۔
بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر کے حوالے سے مسلسل سیاسی اور سفارتی پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو جمہوری حدود میں رکھیں اور کوئی ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دیں جس سے دشمن کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا موقع ملے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ کہنا کہ اگر حکومت عوام کو ڈیلیور نہیں کرے گی تو لوگ ناراض ہوں گے، دراصل موجودہ سیاسی قیادت کے لیے ایک بنیادی سبق ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے بجائے اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
پاکستان کو اس وقت سیاسی استحکام کی جتنی ضرورت ہے، شاید پہلے کبھی نہ تھی۔ معاشی ترقی، سرمایہ کاری، اداروں کی مضبوطی اور عوام کے اعتماد کے لیے ایک پُرامن اور مستحکم سیاسی ماحول ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے بھی ایک واضح سیاسی ضابطۂ اخلاق تشکیل دینا چاہیے تاکہ اختلافِ رائے تہذیب اور دلیل کے دائرے میں رہے۔
سیاسی اختلاف جمہوریت کی خوبصورتی ہے، لیکن سیاسی دشمنی جمہوریت کی کمزوری بن جاتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے ماضی میں سیاسی محاذ آرائی کے نقصانات بھی اٹھائے ہیں اور باہمی تعاون کے فوائد بھی حاصل کئے ہیں۔ اس لیے آج وقت کا تقاضا یہی ہے کہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے بجائے سیاسی مقابلے، الزام تراشی کے بجائے کارکردگی اور محاذ آرائی کے بجائے جمہوری رواداری کو فروغ دیں۔
واپس کریں