دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
خیبرپختونخوا حکومت: تلاشِ گمشدہ! وزیر سے وزیرِ اعلیٰ تک سب کے سب غائب اعلیٰ
No image رپورٹ خالد خان : خان صاحب کا تیرہ سالہ بچہ ’’جمورا‘‘ گزشتہ تیرہ برس سے لاپتہ ہے۔ سنا ہے ذہنی حالت بھی کچھ درست نہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے اسے ہر جگہ ڈھونڈا، مگر کوئی سراغ نہیں ملا۔ وزرا کے دفاتر میں بھی نظر نہیں آتا، سرکاری افسران کے ہاں بھی موجود نہیں، حکومتی فائلوں میں بھی اس کا کوئی اتا پتا نہیں۔
تلاش کرنے والوں کو البتہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، تباہ حال اداروں، ناکام نظام، بدامنی، دہشت گردی، ماورائے عدالت قتل، مہنگائی، بے روزگاری، مایوسی اور بے چینی میں اس کی واضح تصاویر ضرور ملتی ہیں، مگر خود وہ کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے اداروں کے بچے کھچے ڈھانچوں میں بھی اس کے قدموں کے نشان ملتے ہیں، لیکن تلاش کرنے پر وہاں بھی موجود نہیں ہوتا۔
رنگ برنگے نعرے، ماورائے عقل دعوے اور بلند بانگ بیانات البتہ کہیں عالمِ غیب سے اب بھی حکومتی آواز میں گونجتے رہتے ہیں۔ کبھی تبدیلی کی نوید سنائی دیتی ہے، کبھی انقلاب کی چاپ، کبھی نئے پاکستان کی بشارت اور کبھی ایسے دعوے سننے کو ملتے ہیں جنہیں سمجھنے کے لیے شاید عام آدمی کو پہلے اپنی ذہنی حالت کا معائنہ کرانا پڑے۔
بعض مخبروں کا دعویٰ ہے کہ اسے گوتم بدھ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کبھی غاروں، کبھی جنگلوں اور کبھی ریگستانوں میں ’’قیدی نمبر 804‘‘ کی مالا جپتے دیکھا گیا ہے۔ کچھ باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ آج کل مال کمانے اور دھرنا دھرنا کھیلنے میں مصروف ہے۔ بعض عینی شاہدوں کے مطابق ذہنی توازن کی خرابی کے باعث وہ صوابی کو اسلام آباد، خیبرپختونخوا کو وفاق اور صوبے کے ہر بڑے چوک کو ڈی چوک سمجھ بیٹھا ہے اور اسی غلط فہمی میں مسلسل انتشار کی مشق کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے عوام سخت پریشان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کہیں مل جائے تو اسے گھر لے آئیں گے۔ اسے کچھ نہیں کہیں گے۔ نہ ڈانٹیں گے، نہ پوچھیں گے کہ تیرہ برس کہاں تھا۔ بس اتنا کہیں گے کہ بیٹا، گھر واپس آ جاؤ، صوبہ تمہارا منتظر ہے۔
ایک سرشار حامی کا کہنا ہے کہ اگر تیرہ سال کا بھولا تیرہ سال بعد بھی گھر واپس آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہا جائے گا، بلکہ اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے مزید پانچ سال گم رہنے کی اجازت دے دی جائے گی۔
اللہ جانے کدھر گئے یہ لوگ۔ نہ دفاتر میں ہوتے ہیں، نہ حلقہ ہائے نیابت میں۔ عوام انہیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں، مگر یہ کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ وزیر سے وزیرِ اعلیٰ تک سب ’’غائب اعلیٰ‘‘ بن چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے عوام اب شاید یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت گمشدہ ہے؛ اصل المیہ یہ ہے کہ تلاش کرنے والوں کو بھی اب یقین نہیں رہا کہ جسے وہ ڈھونڈ رہے ہیں، وہ کبھی گھر واپس آنا بھی چاہتا ہے۔
واپس کریں