دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا ہر احتجاج کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ چھپی ہوتی ہے! احتشام الحق شامی
No image پاکستان میں یہ بات اکثر دہرائی جاتی ہے کہ “ہر احتجاج کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ چھپی ہوتی ہے”۔ یہ نظریہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں گہرائی سے جڑ گیا ہے کیونکہ فوجی یا خفیہ ادارے اس ملک کی سیاست میں بار بار براہ راست یا بالواسطہ کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ تاہم، حقیقت اتنی سادہ نہیں کہ ہر مظاہرہ، دھرنا یا لانگ مارچ کو صرف “اسٹیبلشمنٹ کا کھیل” قرار دے دیا جائے۔تاریخی پس منظر اور الزامات پاکستان کی تاریخ میں متعدد مواقع پر سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں نے اسٹیبلشمنٹ پر الزام لگایا ہے کہ وہ احتجاجوں کو منظم، سہولت فراہم یا ہدایت کرتی ہے تاکہ سویلین حکومتوں کو دباؤ میں رکھا جا سکے یا سیاسی توازن تبدیل کیا جا سکے۔2014 کا دھرنا: عمران خان (پی ٹی آئی) اور طاہر القادری کے اسلام آباد دھرنے کے بارے میں پی ایم ایل این رہنماؤں اور کچھ میڈیا رپورٹس نے الزام لگایا کہ آئی ایس آئی اس کے پیچھے تھی تاکہ نواز شریف حکومت کو کمزور کیا جا سکے۔ کچھ سابق حکام نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔
2017 کا فیض آباد دھرنا: تحریک لبیک پاکستان کا یہ دھرنا حکومت کے لیے بڑا چیلنج بنا۔ فوج نے مذاکرات میں کردار ادا کیا اور بعد میں ویڈیوز سامنے آئے جن میں فوجی اہلکار مظاہرین کو رقم تقسیم کرتے نظر آئے۔ سپریم کورٹ نے بھی آئی ایس آئی کے سیاسی معاملات میں مداخلت کے تاثر پر سوال اٹھایا۔ بہت سے تجزیہ کار اسے اسٹیبلشمنٹ کی سویلین حکومت کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
دیگر مثالیں: ماضی میں پی این اے تحریک (1977)، ایم آر ڈی، اور کچھ مذہبی یا نسلی گروہوں کے احتجاجوں کے بارے میں بھی ایسے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں پر بھی الزام لگایا گیا کہ ماضی میں انہیں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل تھی، جبکہ بعد میں وہی پارٹی اسٹیبلشمنٹ مخالف بن گئی۔
اسٹیبلشمنٹ اکثر “غیر جانبدار” رہنے کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن سیاسی انجینئرنگ، الیکشن میں مداخلت اور حکومتوں کے قیام/خاتمے کے الزامات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔دوسری طرف کی حقیقت: خالص عوامی احتجاج بھی ہوتے ہیںہر احتجاج کو اسٹیبلشمنٹ سے جوڑ دینا غلط سادہ کاری ہے۔ بہت سے مظاہرے حقیقی عوامی مسائل سے جنم لیتے ہیں:معاشی اور سماجی مسائل: مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن، بجلی کا بحران، اور بنیادی سہولیات کی کمی اکثر لوگ سڑکوں پر لاتے ہیں۔ یہ مسائل کسی ایک ادارے کے “منصوبے” سے نہیں بلکہ ساختی مسائل سے پیدا ہوتے ہیں۔
حقوق کی تحریکیں: پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)، بلوچ حقوق کے احتجاج، اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے مظاہرے اکثر براہ راست اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ہوتے ہیں۔ ان میں “یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے” جیسے نعروں کا استعمال ہوتا ہے، جو اسٹیبلشمنٹ مخالف جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔
تاریخی مثالیں: 1968-69 کی ایوب خان مخالف تحریک، وکلا کی تحریک (2007)، اور طلبہ تحریکیں زیادہ تر عوامی اور ادارہ جاتی مزاحمت سے جنم لیں۔ یہ مکمل طور پر “منصوبہ بند” نہیں تھیں۔
جب کوئی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو مخالفین کے احتجاج کو “اسٹیبلشمنٹ کا کھیل” قرار دیتی ہے، اور جب خود اپوزیشن میں ہو تو اپنے احتجاج کو “عوامی آواز” کہتی ہے۔ یہ دوہرا معیار خود سیاسی جماعتوں کا بھی ہے۔کیوں یہ تاثر اتنے مضبوط ہے؟پاکستان میں ہائبرڈ نظام رائج رہا ہے جہاں سویلین حکومتیں اکثر اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی سے چلتی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے پاس وسائل، انٹیلی جنس نیٹ ورک، اور میڈیا پر اثر و رسوخ موجود ہے۔ اس لیے جب کوئی بڑا احتجاج ہوتا ہے تو لوگ قدرتی طور پر پوچھتے ہیں کہ “کون سپورٹ کر رہا ہے؟”۔ سوشل میڈیا نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا ہے کیونکہ ہر طرف سازشی نظریات پھیلے ہوئے ہیں۔تاہم، اسٹیبلشمنٹ ہر چیز کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ عوامی غم و غصہ، نسلی مسائل، مذہبی جذبات، اور معاشی بدحالی خود بخود لوگ سڑکوں پر لاتے ہیں۔ کبھی کبھار اسٹیبلشمنٹ احتجاج کو سہولت دے کر اپنے مفاد میں استعمال کرتی ہے، کبھی دبا دیتی ہے، اور کبھی خود اس کا نشانہ بنتی ہے (جیسے 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد)۔نتیجہ“ہر احتجاج کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ” کا نظریہ جزوی طور پر درست ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست میں فوجی اداروں کا کردار غیر معمولی رہا ہے اور کچھ احتجاجوں میں ان کا ہاتھ ثابت یا مضبوط طور پر مشکوک رہا ہے۔ لیکن یہ مکمل سچائی نہیں۔ بہت سے احتجاج حقیقی عوامی مسائل، ناانصافی اور سیاسی مایوسی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ طاقتور ہے، لیکن عوام بھی غیر فعال نہیں۔حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ جمہوری ادارے کمزور ہیں، سیاسی جماعتیں اکثر اصولوں کے بجائے مفادات کی سیاست کرتی ہیں، اور شفافیت کی شدید کمی ہے۔ جب تک سویلین بالادستی مضبوط نہ ہو اور احتساب سب پر یکساں نہ ہو، یہ الزامات اور سازشی نظریات جاری رہیں گے۔ پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں احتجاج عوامی آواز ہو، نہ کہ کسی پوشیدہ قوت کا آلہ۔
واپس کریں