دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عوام بدحال‘ نمائندے خوشحال
No image اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات کے حوالے سے دنیا نیوز کی خصوصی رپورٹ ہمارے معاشی اور سیاسی نظام کے ایک نہایت اہم تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک طرف ملک کا عام شہری مہنگائی‘ بیروزگاری‘ کم آمدنی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان پس رہے ہیں مگردوسری جانب منتخب نمائندوں کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اور حیران کن اضافہ ہوا۔ گزشتہ دو دہائیوں کا جائزہ لیا جائے تو 2006ء میں ایک رکن پارلیمنٹ کو تنخواہ اور الاؤنسز کی مد میں تقریباً 52 ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے جبکہ 2026ء میں یہ رقم تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
خطے کے دیگر ممالک کے پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات کیساتھ اس کا موازنہ کیا جائے تو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ نیپال میں رکن اسمبلی کو تقریباً 600‘ سری لنکا میں 1180‘ بنگلہ دیش میں 1400‘ بھارت میں تقریباً 2913 ڈالر ماہانہ ملتے ہیں جبکہ ملک عزیز میں ایک رکن پارلیمنٹ 3530ڈالر سے زائد رقم وصول کرتا ہے۔ ہر ملک میں پارلیمانی نمائندوں کو سہولتیں دی جاتی ہیں مگر مراعات کا تعین ملکی آمدن اور خزانے کی گنجائش کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔ ایسے وقت میں جبکہ ملک قرضوں‘ مالیاتی خسارے اور محدود وسائل کے سنگین مسائل سے دوچار ہے‘ضروری ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کی مراعات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ تنخواہوں اور مراعات میں شفاف‘ معقول اور قابلِ احتساب نظام وضع کیا جانا چاہیے اور ہر اضافے کو کارکردگی اور ملکی معاشی حالات سے مشروط ہونا چاہیے۔
واپس کریں