دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
یومِ آزادی جشن نہیں، تجدیدِ عہدِ وفا ہے
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
چودہ اگست محض کیلنڈر پر درج ایک تاریخ نہیں، یہ لاکھوں قربانیوں، ہجرتوں، آنسوؤں اور عزم و یقین سے لکھی گئی ایک قومی داستان کا عنوان ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ایک قوم نے غلامی کی زنجیریں توڑ کر دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ریاست کی بنیاد رکھی۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یومِ آزادی صرف جھنڈیوں، سبز لباس، ملی نغموں اور چراغاں کا نام ہے؟ یا یہ اپنے آپ سے ایک کڑا سوال کرنے کا دن بھی ہے کہ جس پاکستان کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں، کیا ہم اُس پاکستان کا حق ادا کررہے ہیں؟
یہ وطن ہمیں مفت میں نہیں ملا۔ کسی نے گھر چھوڑا، کسی نے کاروبار، کسی نے اپنے پیارے اور کسی نے اپنی جان! جی ہاں جانیں قربان کیں۔
آپ جانتے ہیں! ہجرت کے قافلوں میں چلنے والے بہت سے لوگ پاکستان کی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی قربان ہوگئے۔ اسی لیے پاکستان محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں، قربانیوں کی امانت ہے۔
آج بھی اس امانت کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہورہی۔ افواجِ پاکستان، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں، جبکہ ہر شہری پر بھی وطن کی تعمیر و حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
دشمن ہمیشہ سرحد پار سے نہیں آتا۔ کبھی دہشت گردی، کبھی پروپیگنڈا، کبھی انتشار اور کبھی قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کے ذریعے ریاست کو کمزور کرنے کی سازش کی جاتی ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ بیرونی خطرات اُس وقت زیادہ نقصان دہ ہوتے ہیں جب اندرونی کمزوریاں موجود ہوں۔
کرپشن، نااہلی، قانون شکنی، سیاسی انتقام، میرٹ کی پامالی اور قومی مفاد پر ذاتی مفاد کو ترجیح دینا بھی پاکستان کے لیے بڑے خطرات ہیں۔
آج پاکستان کو صرف نعروں سے نہیں، کردار سے مضبوط کرنا ہوگا۔
ایک استاد دیانت داری سے پڑھاتا ہے تو پاکستان بناتا ہے، ایک ڈاکٹر اخلاص سے مریض کی خدمت کرتا ہے تو پاکستان بناتا ہے، ایک افسر رشوت سے انکار کرتا ہے تو پاکستان بناتا ہے، ایک تاجر ملاوٹ سے بچتا ہے تو پاکستان بناتا ہے اور ایک سیاست دان ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے تو پاکستان مستحکم بناتا ہے۔
چودہ اگست کو جب سبز ہلالی پرچم لہراتا ہے تو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، یہ ہماری شناخت، آزادی اور ذمہ داری کی علامت ہے۔
پرچم لہرانا آسان ہے، مگر اس کی حرمت کا حق ادا کرنا مشکل ہے۔ اس کی حرمت یہ ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں، بدعنوانی سے انکار کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں، نفرت کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں اور پاکستان کے مفاد کو ہر ذاتی و گروہی مفاد پر مقدم رکھیں۔

آئیے آج اس یومِ آزادی پر ہم صرف جشن نہ منائیں بلکہ اک عہد بھی کریں۔

ہم پاکستان کی وحدت اور سلامتی کو مقدم رکھیں گے۔
ہم اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بننے دیں گے۔
ہم دہشت گردی اور ریاست دشمن سرگرمیوں کے خلاف قانون کے دائرے میں مضبوط قومی موقف اختیار کریں گے۔
ہم کرپشن، نااہلی اور قانون شکنی کو معمول نہیں بننے دیں گے۔
اور ہم اپنے حصے کا فرض دیانت داری سے ادا کریں گے۔
یاد رکھیں! پاکستان صرف 14 اگست 1947 کو آزاد نہیں ہوا تھا اس آزادی کی حفاظت ہر نسل کو اپنے کردار سے دوبارہ ثابت کرنا پڑتی ہے۔
آج سبز ہلالی پرچم لہرا رہا ہے، فضائیں ملی نغموں سے گونج رہی ہیں، مگر اس جشن کے شور میں ایک سوال ہمارے ضمیر سے جواب مانگ رہا ہے!
کیا ہم نے پاکستان کو وہ پاکستان بنا دیا ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟
اگر جواب مکمل طور پر ’’ہاں‘‘ نہیں تو مایوسی نہیں، مگر اطمینان کی بھی گنجائش نہیں۔
آئیے صرف پاکستان زندہ باد نہ کہیں، بلکہ اپنے کردار سے ثابت کریں کہ پاکستان ہمارے لیے واقعی مقدم ہے۔
یہی جشنِ آزادی کی اصل روح ہے اور شہداء کے لہو کا تقاضا بھی۔
اس تجدیدِ عہدِ وفا کے ساتھ تمام اہل وطن کو جشن آزادی مبارک۔
واپس کریں