
حویلی کہوٹہ سے پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار چوہدری محسن عزیز رات تک اپنے حلقے سے الیکشن جیتے ہوئے تھے، در ودیوار پر ان کی واضع جیت ہر کوئی پڑھ رہا تھا لیکن اگلی صبح پی پی پی کے امیدوار راجہ فیصل راٹھور کی فتح کا اعلان کر دیا گیا،دوسری جانب مقامی افراد اور اطلاعات کے مطابق پی پی پی کے امیدوار صاحبزادہ اشفاق ظفر رات تک الیکشن جیتے ہوئے تھے لیکن صبح مسلم لیگ ن کے امیدوار راجہ فاروق حیدر کی جیت کا اعلان کر دیا گیا یعنی الیکشن کے نام پر کی گئی سلیکشن میں دھاندلی نہیں دھاندلا ہوا ہے اور ہر جانب،ہر حلقے میں ہوا ہے۔
ناچیز کو آذاد کشمیر کے حالیہ الیکشن یا سلیکشن ڈرامے میں ایک فیصد بھی دلچسپی نہیں رہی،اسی دن لکھ دیا کہ اے جے کے میں ن لیگ کی حکومت بنے گی جس دن جی بی کے الیکشن ڈرامے میں پی ٹی آئی کو زیر اعتاب رکھ کر پی پی پی کو سیٹیں دلوائی گئی تھیں، گویا الیکشن نتائج پہلے سے طے تھے صرف رسمی کاروائی کرنا باقی تھی۔ اسی طرح آذاد کشمیر کے حالیہ الیکشن ڈرامے کی نشان دہی بی بی سی اور الجزیرہ کے نمائندے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر پہلے ہی کر چکے ہیں۔ بحرحال یہ کونسا کوئی نیا کام یا انہونی ہوئی ہے، آٹھ فروری دو ہزار چوبیس اور اس سے پہلے دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن کی”پریکٹس“ تا حال جاری و ساری ہے۔
یہ بھی عرض کر دیتا ہوں کہ عین ممکن ہے ایک دوسرے کو لتاڑنے والی شوبدہ باز سیاسی جماعتیں یعنی پی پی پی اور ن لیگ آذاد کشمیر میں آئندہ اسمبلی میں ایک ہی تھالی میں بوٹیاں تناول کر رہی ہوں،ویسے ہی جیسے ن لیگ نے اپنے مخالف فیصل راٹھور کو وزیر اعظم بنانے کے لیئے اپنے ووٹ دیئے تھے۔
ناچیز کو لگتا ہے کہ جس طرح پاکستان میں فارم45 اور فارم47 کا رولا تا حال پڑا ہوا ہے،اسی طرح آذاد کشمیر میں بھی جعلی الیکشن کے نام پر کوئی نیا کٹا نہ کھل جائے اور کوئی نئی احتجاجی تحریک شروع ہو جائے جس کا مقصد خطے میں موجودہ عدم استحکام کو مسلسل دوائم دینا ہو۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی مذکورہ تمام صورت حال پر ہرگز خاموش نہیں بیٹھے گی اور ویسے بھی آئندہ اسمبلی کے سر پر کسی سیاسی خوف کو بٹھانا بھی تو ضروری ہو گا جس کے لیئے پی ٹی آئی اور ایکشن کمیٹی سے موزوں اور کون ہو سکتا ہے!!!
اشٹبلشمنٹ صرف2 جانب نہیں چاروں اطراف کھیلتی ہے اور خوب کھیلتی ہے۔
واپس کریں