دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ترسیلاتِ زر، مضبوط معیشت کی بنیاد
No image رواں مالی سال کے پہلے مہینے (جولائی) کے دوران ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیادوں پر 13فیصد اضافہ ہوا۔ جولائی میں تین ارب 60 کروڑ ڈالر سمندر پار پاکستانی کارکنوں نے بھیجے‘ جن میں سب سے زیادہ‘ 91 کروڑ 40 لاکھ ڈالر سعودی عرب اور 73 کروڑ 70 لاکھ ڈالر متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ارسال کیے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی معیشت کے استحکام میں سمندر پار پاکستانیوں کے مثبت کردار کو لائقِ تحسین قرار دیا ہے۔ چند سال قبل تک سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات برآمدات کے بعد زرِمبادلہ کا دوسرا بڑا ذریعہ تھیں مگر حالیہ چند برس میں ان کے حجم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اس نے ملکی معیشت کو بڑا سہارا فراہم کیا ہے۔ ایک دہائی قبل کا جائزہ لیں تو مالی سال 2016ء میں برآمدات 21 ارب 70 کروڑ ڈالر جبکہ ترسیلاتِ زر کا حجم 19ارب 73 کروڑ ڈالر تھا۔ لیکن مالی سال 2026ء میں سمندر پار کارکنوں کی ترسیلات41 ارب 60 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ برآمدات کا حجم 30 ارب 80 کروڑ ڈالر رہا۔ یعنی دس سال میں ترسیلاتِ زر میں 110 فیصد اضافہ ہواجبکہ برآمدات میں نمو کی شرح صرف 41 فیصد رہی۔ آج ترسیلاتِ زر کا حجم مجموعی قومی پیداوار کا لگ بھگ دس فیصد ہے۔
یہ صورتحال معیشت کیلئے نہ صرف ایک مضبوط سہارا بلکہ مژدۂ جانفزا ہے کیونکہ صنعتی اور پیداواری شعبے کی کمزوریوں اور توانائی کے مسائل کی وجہ سے برآمدات میں سرِدست بڑا اضافہ ممکن نظر نہیں آتا؛ چنانچہ ترسیلاتِ زر پر ملکی معیشت کا انحصار مزید بڑھ جاتا ہے۔ حالیہ چند برسوں میں اس شعبے نے جس طرح اپنی نمو سے اپنی حیثیت منوائی ہے‘ یہ دیگر شعبہ جات کیلئے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس میں حکومتی پالیسیوں کا عمل دخل تقریباً نہ ہونے کے برابر رہا ہے بلکہ کئی اہم مواقع حکومتی سست روی اور عدم توجہی کے سبب ضائع کر دیے گئے‘ تاہم اب صورتحال بدل رہی ہے۔ اب حکومت کو بھی احساس ہو چکا کہ ہنرمند اور نوجوان افرادی قوت کو بیرونِ ملک کام کے مواقع حاصل کرنے کے قابل بنانے میں حکومتی کردار خاصا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک‘ جہاں مقیم اوور سیز پاکستانی ہر سال 20سے 22ارب ڈالر بھیج رہے‘ ہمارے لیے ایک بڑا معاشی موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برس میں 55فیصد سے زائد ترسیلاتِ زر جی سی سی ممالک سے موصول ہوئیں۔ اب بدلتے عالمی حالات اور خلیج میں پاکستان کے بڑھتے تزویراتی رسوخ نے ہمیں نئے معاشی مواقع فراہم کیے ہیں‘ لہٰذا ان سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
حکومت اگر افرادی قوت کی برآمد بڑھانے کے معاہدات کرے تو پاکستانی ہنرمندوں کیلئے دنیا میں باعزت روزگار کمانے کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ آج بھی باصلاحیت ہنرمند نوجوانوں کی طلب کم نہیں ہوئی اور پاکستان اس خلا کو بہ آسانی پورا کر سکتا ہے‘ کیونکہ اس کی دو تہائی سے زائد آبادی تیس برس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بلاشبہ یہ نوجوان آبادی ملک کیلئے بیش بہا خزانہ ثابت ہو سکتی ہے اگر اس افرادی قوت کی مناسب تعلیم وتربیت کا اہتمام کیا جائے اور انہیں بیرونِ ملک ملازمتیں حاصل کرنے میں مدد دی جائے۔ اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو بھی دور کیا جانا چاہیے۔ ہمیں نوجوانوں کی تعلیم وتربیت اور عالمی مارکیٹ کی طلب کے مطابق افرادی قوت کی تیاری پر توجہ دینی چاہیے۔ سرکاری اور نجی شعبے میں ہنر اور تربیت کے کئی ادارے پہلے سے موجود ہیں مگر ان کی تعداد نہایت محدود‘ نیز جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی کا بڑا خلا موجود ہے۔ حکومت کو اس سلسلے میں آگے آنا ہو گا تاکہ مارکیٹ کی طلب کے مطابق نوجوانوں کو تعلیم وتربیت کے مواقع میسر آ سکیں اور انہیں بہتر رہنمائی اور مدد فراہم کی جا سکے۔ ترسیلاتِ زر قومی معیشت کا ایک مضبوط ستون ہیں مگر اس ستون کو پائیدار اور مزید مضبوط بنانے کیلئے سائنسی و تکنیکی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔
واپس کریں