دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عدالتوں سے بچ کر رہیں ۔ احمد رشید چوہدری ایڈوکیٹ ہائی کورٹ
No image عدالتوں سے دور رہیں میں خود قانون کا طالب علم ہوں روز عدالتوں کے چکر کاٹتا ہوں اور وکالت کے پیشے سے وابستہ ہوں لیکن اج میں اپنے پیشہ وارانہ مفاد سے بالاتر ہو کر ایک پاکستانی اور سچا مسلمان ہونے کے ناطے اپ سب کو ایک مخلصانہ اور بہترین مشورہ دینا چاہتا ہوں خدارا اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات جائیداد کے جھگڑے کاروباری معاملات لوگوں کے ساتھ لین دین عدالت کے باہر اپس میں بیٹھ کر حل کریں لیکن کبھی بھول کر بھی عدالت کے چکر نہ لگائیں عدالتوں کا رخ نہ کریں ، عدالت غلیظ نظام کا ایسا سمندر ہی نہیں بلکہ ایک ایسا دلدل بن چکا ہے جہاں سائل ایک بار پاؤں رکھے تو عمریں گزر جاتی ہیں بلکہ کئی نسلیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں، لیکن فیصلہ نہیں ملتا اگر اپ کو لگتا ہے کہ اپ سچے ہیں اور قانون کی کتابیں ائین ا اپ کے پاس موجود پکے دستویزات اپ کو جیت دلوا دیں گے تو یہ اپ کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے کہ اپ کی کامیابی ہوگی یہاں عدالتوں کا یہ حال ہے کہ جج صاحبان اکثر فائلیں اور دستاویزات یا ثبوت پڑھنے کی زحمت تک نہیں کرتے جب معاملہ کسی طاقتور کا ہو تو قانون کا ترازو کا وزن فوری بدل جاتا ہے لیکن جب بات کسی عام شہری کے حق کی ہو تو پٹواری کے ایک معمولی منشی کی کچی رپورٹ کو بھی ائین سے بڑا درجہ دے کر اپ کا کیس اٹکا دیا جاتا ہے اور اپ جج کے سامنے کھڑے ہو کر جتنا مرضی ائین قانون پکاریں وہ اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اپ کو کسی اور عدالت کا راستہ دکھا دیں گے ایک جج کی اس لاپرواہی اور غلطی تیز چھری غلطی کو سدھارنے کے لیے اپ کو مزید لاکھوں روپے خرچ کر کے بڑھیا عدالتوں میں اپیلیں دائر کرنی پڑتی ہیں یعنی غلطی نظام کی ہوتی ہے اور سزا عام شہری کو کئ نسلوں کے ساتھ ساتھ اپنی جیب اور ذہنی سکون کی تباہی کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے تاریخ در تاریخ کا یہ عذاب انسان کو جیتے جی مار دیتا ہے اس لیے میری اپ سب سے دست بستہ گزارش ہے کہ اپ اپنی جائیداد کا جھگڑا ہے تو تھوڑا بہت سمجھوتہ کر لیں اگر پیسوں کا لین دین ہے تو اپ اس کےلیے معززین کو بٹھا کر معاملات طے کر لیں اگر کاروباری تنازع ہے تو پنچایت یا معززین کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اپنے بزرگوں کی جائیداد کو عدالتوں کے بکھیڑے میں وکیل و اور منشیوں کے چکر میں ضائع نہ کریں اس سے اپ کا وقت بھی ضائع ہوتا ہے پیسہ بھی ضائع ہوتا ہے اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار بھی ہوتے ہیں میں نے بہت سے لوگوں کو شوگر یرقان بلڈ پریشر دل کے عارضے میں مبتلا دیکھا ہے مگر ناجائز مقدمے باز لوگوں کے حقوق پر ڈاکے ڈالنے والے بے غیرت مدعی اور وکیل ے کو اپ سے کوئ ہمدردی نہیں ہوتییں جج اپ سے محبت کرتا ہے نہ منشی کو اپ کی تکلیف سے کوئی تعلق واسطہ ہے جج نوکری کر رہے ہیں تنخواہ لیتے ہیں اور بھاری تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے ہیں وکیل اپ سے پیسے بٹوڑتا ہے منشیی اپ کو بے وقوف بناتا ہے اور اپ عدالتوں میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اپ اپنے ذہنی سکون کا خیال کریں اس نظام سے اپنے اپ کو اپنے بچوں کو اور اپنی انے والی نسلوں کو محفوظ رکھیں بلکہ جتنا ہو سکے دور رکھیں یہاں اپ کو ایسے وکیل بہت کم ملیں گے جو اپ سے کہیں کہ اپ کا کیس کمزور ہے اور عدالت سے بچ جائے صبر کریں حوصلہ رکھیں محنت کریں اللہ تعالی اپ کو اس سے دگنا تگنا رزق عطا فرما دے گا وکیل اپ کی غلط جھوٹی بات کو کو سپورٹ کرتا ہے اپ کا حوصلہ بڑھاتا ہے اپ کو ہمت دے کراپ کو سبز باغ دکھا کر اپ سے پیسے بٹوڑتا ہے یہاں اپ کو ایسے وکلا کی بہت بڑی تعداد ملے گی جو جو اپ کو اپنے فن سے عدالتوں میں الجھا کر رکھتا ہے عدالتوں میں زیادہ تر مقدمات اپس کے عزیز و اقارب کے ہیں جن کو معلوم ہوتا ہے کہ کون حقدار ہے اور کون ناحق ہے اس لیے اپنے وہ عزیز و اقارب جو اپ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالتے ہیں جو گدھ کی طرح تیار بیٹھے ہیں اپ ان رشتہ داروں پر بھی لعنت بھیج کر اللہ کی عدالت میں مقدمات دائر کریں جہاں اسی دنیا میں اپ کو کامیابی اور ان کی ذلت اور رسوائی کے نتائج واضح ملیں گے اخر میں پھر یہ التجا کروں گا کہ ہمارا یہ عدالتی نظام بلکہ ہمارے تمام نظام تباہی و بربادی کی طرف ہمارے معاشرے کو لے کر جا رہے ہیں اپ اس نظام سے بچیں یا جماعت اسلامی سے تعاون کریں تاکہ یہ نظام بدل سکے صرف جماعت اسلامی ہے جو اس نظام کو تبدیل کرنا چاہتی ہے نہ صرف عدالتی نظام کو بلکہ سیاسی نظام کو معاشی نظام کو معاشرتی نظام کو باقی جتنی پارٹیاں ہیں وہ اس نظام کو باقی رکھنا چاہتی ہیں کیونکہ اسی نظام میں ان کی بقا ہے اسی نظام کے تحت وہ لوگوں کو الجھا کر اور غلام بنا کر رکھتے ہیں میری اپ سے گزارش ہے کہ عدالتوں سے بچ کر رہیں یہاں حافظ قران وکیل حافظ قران جج یا حافظ قران منشی پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے تحجد گزار اس نظام کو مضبوط کرنے کا حصہ ہیں دعا کاطالب۔ احمد رشید چوہدری ایڈوکیٹ ہائی کورٹ رحیم یار خان 0300_6710113
واپس کریں