سہیل وڑائچ
’’صبح کے 9 بج چکے ہیں- بیپ - بیپ - بیپ اب آپ آفّاک دروغ گو سے بلا تبصرہ سچی اور تازہ خبریں سنیں- بیپ - بیپ - بیپ-سسٹم ناکام ہو چکا ہے مگر حکومت یہی رہے گی۔ یہ سسٹم دس سال بھی چلے تو کچھ نہیں بدلے گا مگر یہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی، شہباز صاحب 18 گھنٹے کام کرتے ہیں گھر کانظام بہتر نہیں ہو رہا مگر وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔ معیشت چل رہی ہے نہ سیاست مگر حکومت یہی رہے گی ۔ پاکستان 75 سال سے کچھ نہیں کر سکا نہ اب کچھ کرپارہا ہے مگر حکومت سے کوئی شکایت نہیں، حکومت یہی رہے گی، شہباز شریف 13 سال وزیر اعلیٰ رہےاوراب 4سال سے وزیر اعظم ہیںان 17 برسوں میں کوئی بڑی تبدیلی یا انقلاب نہ آیا مگر حکومت انہی کی رہے گی17بجٹ آچکے معیشت میں کوئی بدلاؤ نہ آیا مگر یہی حکومت سب سے اچھی ہے یہی رہے گی، پچھلے17 برسوں سے کوئی ڈھنگ کا بلدیاتی قانون نہیں بن سکا بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں مل سکے مگر حکومت یہی رہے گی،جنرل مشرف نے ڈپٹی کمشنر ختم کر کے اختیارات ضلع کونسل اور مئیرز کو دیئے تھے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے دوبارہ ڈپٹی کمشنربحال کر دیئےمگر اِن کا نظام کی خرابی میں کوئی قصور نہیں وزیراعظم اور انکی کابینہ اپنی 5سالہ مدت پوری کرے گی، شہباز حکومت وفاق میں 5 بجٹ دے چکی کئی آئینی ترامیم کرچکی بلدیاتی انتخابات کے بارے میں کچھ نہیں کیا مگر وہ سب سے بہتر وزیراعظم ہیں وہ پورے 5سال وزیراعظم رہیں گے، کابینہ ایک مضبوط اورمتحد ٹیم کانام ہوتا ہے یہاں وزیر کابینہ کے اندر نہیں کھلےعام لڑتےاورایک دوسرےکےخلاف بیان دیتےہیں مگر کابینہ اور وزیراعظم یہی سب سے بہتر ہیں، یہی چلیں گے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس سال بمپر فصل ہوئی ہے پر کیا کریں گندم مہنگے داموں درآمد کرنی پڑ گئی ہے سستے داموں اپنے زمینداروں سے نہیں خرید سکے مگر اس حکومت کی پالیسیاں شاندار ہیں اسے چارج شیٹ کیسے کیا جا سکتا ہے یہی حکومت 5 سال ایسی ہی شاندار پالیسیاں بناتی رہے گی۔ ہر سال دعویٰ کیا جاتا ہے کہ چینی ملکی ضرورت سے زیادہ ہے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی کابینہ چینی برآمد کرنےکی اجازت دے دیتے ہیں سال کے آخر میں چینی کم پڑ جاتی ہے تو مہنگے داموں درآمد کی جاتی ہے مگر یہ کوئی اسکینڈل تھوڑا ہے، حکومت کی ایمانداری اور عقل مندی پر شبہ کرنا بھی گناہ ہے، اسلئے حکومت پانچ سال پورے کریگی۔ وزیراعظم سیکریٹریٹ اور 5وزراء کے درمیان تناؤ کی خبریں بالکل جھوٹی ہیں اسلئے یہی حکومت پوری طاقت اور رفتار سے5سال پورے کریگی۔ ایک جونیئر اور ٹیکنوکریٹ وزیر کو ویٹو پاور حاصل ہونے کی خبر صرف ہوائی ہے، یہ حکومت بہترین دماغوں پر مشتمل ہے یہی حکومت چلے گی اور 5سال پورے کرے گی۔
حکومت اور مقتدرہ نے بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینےکیلئےایس آئی ایف سی طاقتور ون ونڈو بنائی مگر یہ اتنی موثر کیوں ثابت نہ ہو سکی؟ ذمہ دار نوکر شاہی ہے مگر حکومت یہی رہے گی یہ اپنے پانچ سال پورے کرے گی ۔وزیراعظم لمبی لمبی میٹنگز کرتے ہیں کئی کئی گھنٹے محنت کرتے ہیں مگر فیصلہ نہیں کرتے کمیٹی بنا دیتے ہیں، تیز ترین فیصلے نہ کر نے کے باوجود حکومت یہی رہے گی ۔وزیراعظم نے آج تک نہ تو کسی بڑے اجتماع سے خطاب کیا ہے نہ اپنے معاشی ویژن اورپروگرام کی منصوبہ بندی بیان کی ہے مگر اسکے باوجود وزیراعظم یہی سب سے بہتر ہیں وہ پانچ سال پورے کریں گے، لوگ خوامخواہ افواہیں اڑاتے ہیں کہ ایک کابینہ،اور دوسری سپر کابینہ ہے، فیصلے سپر کابینہ کرتی ہے، ظاہر ہے یہ سب غلط ہے اس لئے وزیراعظم اور انکی کابینہ اسی طرح صلاح مشورے کرکے ملک و قوم کی بہتری کیلئے اپنے 5 سال پورے کریں گے۔ وفاق اور پنجاب کی صوبائی حکومت میں دوریاں جھوٹی کہانیاں ہیں اسلئے وزیراعظم کو کوئی خطرہ نہیں۔ نظام خراب ہے تباہ ہو چکا ہے مگر مقتدرہ اور وزیراعظم نہ صرف ایک صفحہ پر ہیں بلکہ اب تو وہ نصاب کا حصہ ہیں، اس لئے حکومت پورےپانچ سال اسی طرح چلتی رہے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف ذاتی طور پر بہت ملنسار اور سب کے ساتھ ملکر کام کرنے میں بہترین ہیں اسلئے ان کا وزیراعظم رہنا ہی بہتر ہے، 5سال وہی رہیں گے۔ عام طور پر وفاقی کابینہ میں منتخب لوگ زیادہ ہوتے ہیں اور وہی اہم ہوتے ہیں چند لوگ ٹیکنوکریٹ ہوتے ہیں وزیراعظم کی اپنی مرضی سے بنائی گئی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ اور پرانے پرسنل اسٹاف آفیسرز کی تعداد اور آواز سب پر بھاری پڑتی ہے مگر وزیراعظم کی کارکردگی اور کابینہ کا چناؤ زبردست ہے ،اس لئے حکومت یہی رہے گی۔ کابینہ میں ایک ہی خاندان کے چار رشتہ دار اور قریبی دوست اور دوسرے خاندان کے دو قریبی رشتہ دار اور کئی قریبی دوست فیصلہ کن حیثیتوں کے مالک ہیں مگر یہ بہترین کابینہ اور سیٹ اپ ہے، اس لئے پانچ سال یہی سیٹ اپ کام جاری رکھے گا۔ مختلف ترقیاتی اداروں اور محکموں کے چیف انجینئرز کی تقرری ،کون سے اہم لوگ کروا کر باقی سب تقرریاں میرٹ پر کرتےہیں ۔ اس طرح کے سوال انتہائی نامناسب ہیں کیونکہ یہ حکومت مکمل طور پر ایمانداری، شفافیت اور میرٹ پر یقین رکھتی ہے اس لئے سب کو واضح پیغام ہے کہ شہباز حکومت اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرے گی۔وزیراعظم اس قدر محنتی ہیں کہ منہ اندھیرے اٹھتے ہیں دفتری اوقات سے پہلے ہی وہ تین میٹنگز کر چکے ہوتے ہیں ایسا وزیراعظم ڈھونڈے سے نہیں ملتا ،وہ پانچ سال پورے کریں گے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ وزیراعظم نہ دفتر خارجہ کی طرح ہفتہ وار بریفنگ دیکر عوام کو اعتماد میں لیتے ہیں اور نہ آئی ایس پی آر کی طرح ملکی اور بین الا قوامی حالات پر تبصرہ کرتے ہیں حالانکہ وزیراعظم عوام کو آگہی کی فراہمی کے پابند ہوتے ہیں مگر اس لغزش کے باوجود وہ سب سے اچھے ہیں کیونکہ باقی تو غیر ذمہ داری سے Blunder کرتے رہے ہیں لغزشوں کا کیا ہے وہ سب سے اچھے اور بہترین وزیراعظم ہیں،وہ پارلیمان میں کم کم جاتےہیںاور بہت ہی کم پارلیمان کے سامنے پالیسی بیان دیکر کسی کو اعتماد میں لیتے ہیں مگر ایسا کرنا کوئی ضروری بھی نہیں، اس لئے وزیراعظم وہی رہیں گے اور ان کی حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔ پچھلے دو ہفتوں سے ایوان صدر میں ججوں کی منظوری کی سمری زیر التوا پڑی ہے وزیر قانون وکلاء کا طاقتور گروپ اور مقتدرہ کے حامی اس پر صدر صاحب سے خفا لگتے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ صدر کے دستخط کے بغیر وزیراعظم اپنے اختیار کے تحت ججوں کا تقرر کریں گے صدر کی منظوری اگر ہوئی تو مجبوری کے تحت ہوگی، صدر اور وزیر اعظم کے آفس میں تازہ دوری کے باوجود وزیراعظم یہی رہیں گے البتہ صدر زرداری کے مستقبل پر سوال ضرور اٹھ سکتا ہے، نئے صوبے بنانے کے منصوبے پر نہ صدر زرداری کو پہلے بتایا گیا نہ ان سے مشورہ کرنا ضروری سمجھا گیا حالانکہ سب سے متنازع امر سندھ کی تقسیم پر بات کرنا ہے، سندھ میں حکومت صدر زرداری کی جماعت کی ہے مگروہ بے خبر ہیں وزیراعظم آن بورڈ ہوگئے ہیں بلکہ ہوچکے ہیں جبکہ صدر پاکستان اس معاملے میں Isolate یا تنہا ہوچکے ہیں۔ ایک بات بہرحال طے ہے کہ شہباز شریف ہی پانچ سال وزیراعظم رہیں گے‘‘۔
واپس کریں