دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اقوام متحدہ کا کشمیر پر اپنا مؤقف تبدیل نہ کرنے کا اعلان
No image اقوام متحدہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور تبازعہ کا حتمی حل اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں،شملہ معاہدے اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے مطابق پُرامن ذرائع سے نکالا جائے گا۔ یہ اعلان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان عزیز حق نے نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اور پانچ اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کشمیر کے حوالے سے ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا، کسی ملک کی جانب سے یکطرفہ اقدام سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور قراردادیں متاثر نہیں ہوتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کا مؤقف اقوام متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت طے ہوتا ہے۔ ان کے بقول اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل 1972ء کے شملہ معاہدے کو بھی یاد دلاتے ہیں جو پاکستان اور بھارت کے مابین دو طرفہ تعلقات کا ایک اہم معاہدہ ہے جبکہ مسئلہ کشمیر پر سلامتی کونسل میں 1949ء میں منظور کی گئی قراردادوں کی حیثیت ہمیشہ کی طرح قائم ہے۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے وقت بھارت کی ہندو بنیاء قیادت نے تقسیم ہند کے فارمولے کے مطابق خود مختار ریاست جموں و کشمیر کا مسلم اکثریتی آبادی کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دے کراور اپنی افواج کے ذریعے کشمیر کے غالب حصے پر تسلط جما کر کشمیر کا تنازعہ خود کھڑا کیا اور پھر اس تنازعہ کے حل کے لئے خود ہی اقوام متحدہ سے رجوع کرلیا ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی نے بھارتی درخواست پر استصواب کے ذریعے جموں و کشمیر کے تنازعہ کا حل نکالا اور بھارت کو کشمیر میں رائے شماری کے اہتمام کی ہدایت کی۔ مگر بھارت یو این قراردادوں پر عملدرامد سے ہی انکاری ہو گیا۔ اس کے برعکس پاکستان نے یو این قراردادوں کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا اور یو این قراردادوں کے مطابق ہی مسئلہ کشمیر کے حل کا اصولی مؤقف اختیار کیا اور آج کے دن تک اپنے اس مؤقف پر قائم ہے جبکہ بھارت نے کشمیر پر اٹوٹ انگ والا ڈھٹائی پر مبنی مؤقف اختیار کیا۔ اس نے نہ صرف اپنی یہ ہٹ دھرمی برقرار رکھی ہوئی ہے بلکہ وہ پاکستان کی سلامتی کے بھی شروع دن سے درپے ہے اور اس پر گذشتہ سال مئی والی جنگ سمیت چار جنگیں بھی مسلط کر چکا ہے اور اپنے ناجائز زیر تسلط کشمیر کے راستے سے پاکستان پر آبی دہشت گردی کا بھی مرتکب ہوتا رہتا ہے۔ اس وقت بھی مون سون کے دوران اس کی پاکستان کو سیلاب کے پانی میں ڈبونے کی سازشیں جاری ہیں ۔
بھارت نے ڈھٹائی کے ساتھ نہ صرف یو این قراردادوں کو عملی جامہ نہیں پہنایا بلکہ مزید ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ اگست 2019ء کو بھارتی لوک سبھا کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت والی آئین کی شقوں 370, اور 35 اے کو آئین سے حذف کراکے مقبوضہ وادی کو بھارتی سٹیٹ یونین کا حصہ بنا لیا جس کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج ہوا اور سلامتی کونسل نے ہنگامی طور پر قراداد منظور کرکے بھارت سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت بحال کرنے کا تقاضہ کیا مگر بھارت کسی بھی قرارداد اور کسی بھی احتجاج پر ٹس سے مس نہیں ہوا اور اس نے کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیئے 2560 روز سے مقبوضہ وادی میں کرفیو اور کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ کشمیویوں نے ان جاری بھارتی مظالم کے خلاف ہی تین روز قبل پانچ اگست کو دنیا بھر میں یومِ سیاہ اور یومِ استحصالِ کشمیر منایا اور عالمی برادری کو بھارتی مظالم اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی جانب متوجہ کیا۔ یقیناً اسی تناظر میں یو این سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان نے گذشتہ روز نیویارک میں اپنی پریس بریفنگ کے دوران دو ٹوک الفاظ میں باور کرایا ہے کہ تنازعہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور یہ مسئلہ یو این قراردادوں کے مطابق ہی حل ہونا ہے۔ ان کے اس واضح بیان نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ بھارت کے آئینی یا انتظامی اقدامات بین الاقوامی سطح پر متنازعہ خطے کی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔ کشمیر آج بھی عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ تنازعہ ہے جس کا حتمی اور منصفانہ حل صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
کشمیریوں نے پانچ اگست کو اسی تناظر میں دنیا بھر میں یومِ استحصالِ کشمیر اور یومِ سیاہ منا کر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے احتجاجی مظاہروں اور سیمینارز کا بنیادی پیغام یہی تھا کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط کو کبھی قبول نہیں کریں گے۔ گذشتہ روز حریت کانفرنس کی جانب سے بھی یہی باور کرایا گیا کہ مودی حکومت کے غیر قانونی اقدامات نے کشمیری عوام کو مزید بے اختیار اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ ہزاروں نوجوان جیلوں میں بند ہیں، سیاسی کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے، املاک ضبط کی جا رہی ہیں اور اختلافِ رائے کو طاقت کے ذریعے دبایا جا رہا ہے۔ بلا شبہ یہ تمام اقدامات انسانی حقوق کے عالمی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ گزشتہ اٹھہتر برسوں کے دوران بھارت اپنی تمام تر فوجی قوت، سیاسی دباؤ اور انتظامی ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیری عوام کے جذبۂ آزادی کو دبا نہیں سکا۔ لاکھوں فوج کی موجودگی، سخت قوانین، کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور سیاسی جبر کے باوجود کشمیری آج بھی اپنے بنیادی حقِ خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور یہ حقیقت اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ کسی بھی قوم کی آزادی کی خواہش کو طاقت کے ذریعے ہمیشہ کے لیے دبایا نہیں جا سکتا۔اندریں حالات اقوامِ متحدہ کو صرف قراردادیں منظور کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی قراردادوں کو نافذ کرانا بھی اسی نمائیندہ عالمی ادارے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر عالمی ادارے اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہیں تو عالمی قانون کی عملداری اور انصاف کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ آج اقوامِ متحدہ کو مصلحتوں اور بڑی طاقتوں کے سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر کشمیر کے مسئلے پر مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھایا جائے تاکہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو آزادانہ استصوابِ رائے کا موقع فراہم کرے۔
پاکستان نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے پرامن، منصفانہ اور با معنی مذاکرات کے ذریعےحل کی حمایت کی ہے اور ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کا ساتھ دیا ہے۔ آج دنیا کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیئے کہ مسئلہ کشمیر صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ ڈیڑھ کروڑ سے زائد کشمیری عوام کے بنیادی انسانی اور سیاسی حقوق اس کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ جب تک انہیں اپنی خواہشات کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیا جاتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اس دیرینہ مسئلہ کی موجودگی میں دو ایٹمی طاقتوں کے مابین مسلسل کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجاتی رہتی ہے چنانچہ اقوامِ متحدہ اور عالمی قیادتوں کو اب خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی آئینی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔ بے شک سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد ہی کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا واحد منصفانہ حل ہے اور اس سے ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
واپس کریں