دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ہاں، میں عادی مجرم ہوں
محمد بلال غوری
محمد بلال غوری
ارادہ تو یہ تھا کہ رہا ہوتے ہی اسیری کی روداد بیان کرونگا مگر یہ مشاہدات اور تجربات اُدھار رہے۔ سردست مجھے ایک اور قرض چکانا ہے ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا شکریہ ادا کرنا ہے۔ انہوں نے جو فرمایا ،سب میراسرمایہ ۔سال میں دو مرتبہ حکومت اپنے منظور نظر افراد کو تمغے اور اعزازدینے کا اعلان کرتی ہے مگر قبلہ طلال چوہدری نے مجھے جو تمغہ امتیاز عطا فرمایا ہے وہ سب سے بیش قیمت اور قابل قدر ہے ۔سرتسلیم خم،میں عادی مجرم ہوں ۔خارزار صحافت میں قدم رکھا تو اساتذہ نے یہی درس دیا کہ ’’ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا‘‘۔یہی وجہ ہے کہ کبھی قلم کی حرمت پامال ہونے یا اساتذہ کے شرمسار ہونے کی نوبت نہیں آئی ۔مسلم لیگ ن کی دوتہائی اکثریت جب پرویز مشرف کے دور میں 15نشستوں تک محدود ہوگئی تو زباں بندی اورقحط صدا کے اس دور میں جاوید ہاشمی جیسے ’’باغیوں‘‘کیلئے آواز اٹھائی ۔آپ شاید تب بھی تنظیم سازی میں مصروف رہتے ہوں گے ۔

مشاہد اللّٰہ خان ، عرفان صدیقی اور صدیق الفاروق جیسے قدآور لوگ تورخصت ہوئے ،جاوید ہاشمی آپ کے نزدیک اب ’’باغی‘‘ نہیں بلکہ ’’داغی‘‘ہوچکے لیکن سینیٹر پرویز رشید حیات ہیں ،آپ نے ان سے ہی رجوع کرلیا ہوتا تو میرے جرائم کی طویل ترین فہرست دستیاب ہوجاتی ۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف سے ہی دریافت کیا ہوتا کہ جب وہ پابند سلاسل تھیں تو میرے ناقابل اشاعت کالموں کا مجموعہ ’’لاپتہ کالم‘‘پڑھنے کیلئے کیوںمنگوایا ۔ وفاقی کابینہ میں اپنے ساتھیوں سے تفصیل معلوم کی ہوتی، عطا اللّٰہ تارڑ ،احسن اقبال یا اسحاق ڈار سے پوچھ لیا ہوتا کہ جب سیاسی بندوبست کے تحت پانامہ کی آڑ میںحکومت گرانے کی کوشش کی جارہی تھی تو اس ’’عادی مجرم ‘‘کا کیا کردار رہا؟

جب ثاقب نثار المعروف ’’بابا رحمتا‘‘کی طرف سے نہال ،طلال اور دانیال کو توہین عدالت کے ہتھوڑے سے نااہل قرار دے کر سیاست سے باہر کیا جارہا تھا تو اس ظلم اور جبر کے خلاف آواز اُٹھانے پر میرے اہلخانہ کو اسی قسم کی پریشانیوں کا سامنا رہا ،جس نوعیت کی ابتلا وآزمائش کا سامنا آج کرنا پڑ رہا ہے۔گائوں میں میرے بڑے بھائی کو متنبہ کیا گیا کہ اسے سمجھائو ،باز آجائے ورنہ اس کی لاش بھی نہیں ملے گی ۔قومی احتساب بیورو یعنی نیب کی کند تلوارسے سیاستدانوں کی گردنیں اُتاری جارہی تھیں تو اسی ’’عادی مجرم ‘‘نے نتائج کی پرواکئے بغیر کلمہ حق بلند کیا ۔مگر شاید آپ کو موسمیاتی باغی اور مزاحمت کار پسند ہیں ،وہ جو تب سوال اُٹھائیں جب آپ مشکل میں ہوں لیکن مشکلیں کافور ہوتے ہی لمبی تان کر سو جائیں ،آپ کے برسراقتدار آنے کے بعد کسی مالی منفعت کے پیش نظرخاموش ہوجائیں ۔

آپ کے قائد کی طرح سمسٹر انقلابی ہوں ،جب حالات سازگار نہ ہوں سمسٹر بریک لے لیں ۔وہ جو گوبر کو گلقند قرار دیں ،آنے والوں کی راہ میں گل پاشی کریں اور جانے والوں کے عیب چنیں ۔مگر ہم گوشہ نشیں ،نہ کسی کے حلیف سخن ساز نہ کسی کے حریف دشنام طراز۔کبھی کسی حکمران کی منقبت پڑھی نہ کسی کی شان میں قصیدہ لکھا۔ہر آنے والے کی راہ میں پلکیں بچھانے اور جانے والوں کیلئے ٹسوے بہانے کا کام انہیں مبارک جن کا رزق اس خوشامد اور چاپلوسی سے وابستہ ہے ۔’’عادی مجرم ‘‘شوق کمال اور خوف زوال سے بے نیاز ہوا کرتے ہیں ۔مجھے کسی صلے یا ستائش کی تمنا نہیں، نہ ہی موجودہ حکومت سے ذاتی طور پر کوئی گلہ یا شکوہ ہے ۔ہاں ’’پیکا ایکٹ‘‘کے ذریعے جس طرح صحافت کا پسند سلاسل کردیا گیا ہے اس پر اعتراض ہے ۔

جھوٹی خبر ،حقائق کے برعکس تجزیئے یا من گھڑت الزامات پر احتساب ضرور ہونا چاہئے لیکن اسے قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے کر دراصل اظہار رائے کی آزادی کا تصور ختم کردیا گیا ہے ۔2021ء میں جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی طرف سے مجھے نوٹس ملا کہ آپ کے خلاف انکوائری ہورہی ہے اور میں نے اسے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تو جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ایکٹ کی دفعہ 20کے حوالے سے واضح کیا کہ جو شخص سمجھتا ہے کہ اس کی توہین ہوئی ہے وہ خود شکایت درج کرواسکتا ہے اس کی جگہ کوئی اور شخص شکایت کنندہ نہیں ہوسکتا مثلاً محکمہ زراعت کے کسی ڈائریکٹر کو لگتا ہے کہ اس کی شان میں گستاخی کی گئی ہے تو وہ خود کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے اس کی جگہ کوئی ماتحت یا خود محکمہ زراعت فریق نہیں بن سکتا ۔متعلقہ قانون میں بھی Natural Personکا ذکر ہے مگر اس کی خلاف ورزی کرکے انصاف کا قتل عام کیا جارہا ہے۔

طریقہ کار تو یہ ہے کہ جسکے خلاف شکایت ہے اسے نوٹس جاری کرکے اپنا موقف اور صفائی پیش کرنے کا موقع دیا جائے مگر میرے حوالے سے اس خصوصی شفقت کا مظاہرہ کیا گیا کہ جس دن وی لاگ آیا ،اسی دن نہ صرف انکوائری مکمل کرلی گئی بلکہ مجھے اٹھا کر مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ۔اس جبر ناروا کی تفصیل تو میں آئندہ کالم میں بیان کروں گا مگر فی الحال صرف یہ کہنا ہے کہ پوری دنیا میں یہ قانون ہے کہ کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کے بعد سب سے پہلے اس کے اہلخانہ تو اطلاع دی جاتی ہے ،وکیل سے رابطہ کرنے کا موقع دیا جاتا ہے مگر یہاں موبائل فون چھین کو کال کوٹھڑی میں پھینک دیا جاتا ہے اور کسی کو معلوم نہیں ہوپاتا کہ یہ اغوا کی واردات ہے ،گمشدگی کا معاملہ ہے یا پھر کسی نے تحویل میں لیا ہے ۔بہر حال اپنے جرم انا کے حق میں مجھے کوئی ادھورا بیان دینے کی ضرورت نہیں ۔طلال چوہدری اور ان کے سیاسی اکابرین سے محض یہی کہنا ہے کہ اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا ۔جب تخت اور بخت منہ موڑلیتا ہے اور آپ راندہ درگاہ ہوجاتے ہیں تو ایسے دیوانوں ،فرزانوں اور’’عادی مجرموں‘‘کی ضرورت پڑتی ہے جو کسی قسم کی منفعت سے بالاتر ہوکر محض اصولوں کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں اور اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ کوئی وزیر مشیر اپنی کرسی بچانے کیلئےانہیں ’’عادی مجرم ‘‘قرار دے گا۔
واپس کریں