مہمان کالم
پی ٹی آئی کے احتجاج اور جماعتِ اسلامی کے لانگ مارچ سے مریم نواز پر ہونے والا ’’جہازی حملہ‘‘ پسِ منظر میں چلا گیا۔ کئی حلقے اسے سنجیدہ پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے تھے، پھر ایک ’’میڈیائی میسنجر‘‘ نے انکشاف کیا کہ ابھی کوئی خطرہ نہیں، جہاز والا رولا صرف شغل ہے۔اس نے مکمل تضحیک آمیز انداز میں کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کو فارغ کرنے کے لیے نہ کسی لمبی چوڑی چارج شیٹ کی ضرورت ہے، نہ پروپیگنڈا کرنے کی۔ جب منصوبہ بنے گا، یک جنبشِ قلم ہٹا دیا جائے گا۔ چٹکی بجاتے ہی کام ختم ہو جائے گا۔وزیرِ اعلیٰ نے جہاز والے معاملے پر ملتان میں ایک تقریب کے دوران جواب دیا اور رسیدیں بھی دکھا دیں۔ ان کا انداز اپوزیشن کے کسی لیڈر جیسا تھا، جو اپوزیشن کے دور میں ہی اچھا لگتا ہے۔ وزیر اعلی ہو کر یوٹیوبرز اور وی لاگرز پر تنقید کرنا محض سمع خراشی کا تاثر پیدا کرتا ہے۔موجودہ پنجاب حکومت کے کارہائے نمایاں اپنی جگہ ہوں گے، لیکن عام آدمی مشکلات کے شکنجے میں ہے۔ سرکاری ملازمین کی پنشن اور بعد از ریٹائرمنٹ مراعات میں بڑی کٹوتی نے شدید اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ نجی ملازمتوں کا ویسے ہی کوئی حال نہیں رہا۔ کاروبار کے بارے میں تازہ سروے 91 فیصد لوگوں کی مایوسی ظاہر کر رہا ہے۔ کسان بھائی الگ سے پریشان ہیں۔حکمرانوں کے بارے میں تکبر، غیر سیاسی اور غیر عوامی رویے اور نمود و نمائش کا تاثر پیدا ہونا اچھا نہیں۔ ہمارے ہاں تو ویسے بھی پتا نہیں چلتا کہ کب کیا ہو جائے۔غلطیاں دہرانے یا ان کا جواز تلاش کرنے کی بجائے غلطیوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ٹیم ورک سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ کچن کیبنٹ ہر چیز پر حاوی ہو جائے۔مقبولیت سے عدم مقبولیت کا سفر ڈھلوان کی طرح ہے اور واپسی پہاڑ سر کرنے جیسا امتحان ۔تمام سیاسی جماعتوں اور سیاسی رھنماوں کو تمام پہلو مد نظر رکھنا پڑتے ہیں ۔ متوازن سیاست میں اقتدار محض ایک پڑاؤ ہے ، کبھی موقع مل جاتا ہے اور کبھی تلاش میں رہنا پڑتا ہے ، لیکن یہ سب کرنے کے لیے لازم ہے کہ سیاست اپنے وجود کا احساس دلایا جاتا رہے ۔ خصوصا ان حالات میں جب نظر آرہا ہو کہ ملکی سیاست ایک بار پھر ہنگامہ خیز دور میں داخل ہونے والی ہے ، ویسے تو کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ملکی حالات نازک موڑ پر آچکے لیکن اس بار کچھ زیادہ گھمبیر صورتحال ہے ، سیاسی اختلافات کو دشمنی کا رنگ دینے سے گریز کرنا ہوگا ، قومی معاملات پر وسیع تر اتفاق رائے اور ہم آھنگی پیدا کرنے کے لیے تمام سٹیک ہولڈروں کا کشادہ دلی اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ ملک اور عوام مسلسل غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا رہنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔
واپس کریں