
سندھ حکومت نے صوبے کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ کا اجراء کر دیا ہے جو ایک اہم پیشرفت ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں خواتین کی مجموعی شرح خواندگی 47 فیصد ہے لیکن دیہی خواتین میں یہ شرح صرف 27.52 فیصد رہ جاتی ہے پانچ سے 16 سال کی عمر کی 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد بچیاں سکول سے باہر ہیں۔ خواتین کی صحت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زچگی کے دوران اموات کی شرح 314 سے کم ہو کر 224 فی لاکھ تک آ گئی ہے جبکہ نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات بھی کم ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پولیس فورس میں خواتین کا حصہ محض 4.34 فیصد جبکہ عدلیہ میں 13.7 فیصد ہے۔ عام انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 2018ء میں 23 سے بڑھ کر 2024ء میں 53 ہو گئی جو مثبت تبدیلی کا اشارہ ہے۔خواتین کی معاشی شمولیت، ڈیجیٹل رابطے، مالی رسائی، مہارتوں اور کاروباری مواقع میں حائل رکاوٹوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ اس لئے اہم ہے کہ پہلی مرتبہ مختلف شعبوں کے صنفی اعداد و شمار کو ایک جامع فریم ورک میں دیکھا گیا ہے۔ اِس رپورٹ نے راستہ دکھا دیا ہے کہ اب اصل ضرورت اعداد و شمار سے عمل، وعدوں سے نتائج اور پالیسی سے زمینی تبدیلی تک پہنچنے کی ہے۔ سندھ کی ترقی اْسوقت زیادہ جامع اور پائیدار ہوگی جب اِس کے ہر ضلع کی ہر بچی اور ہر عورت کو تعلیم، صحت، تحفظ، روزگار اور فیصلہ سازی میں برابر مواقع میسر ہوں۔
واپس کریں