دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسلام آباد دھرنے اور وفاقی وزراء کی وارننگ
No image خزانہ، اطلاعات اور پٹرولیم کے وزراء اور وزیر مملکت محمد اورنگ زیب، عطاء تارڑ، علی پرویز ملک اور طلال چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلہ پر عملدرامد کیا جائے گا اور کسی پُر تشدد جتھے کو اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ گذشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے باود کرایا کہ کاروباری بندش سے روزانہ 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ حکومت عدالتی حکم پر بہر صورت عمل کرے گی۔ عطاء تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم فیول ریلیف سکیم میں 22 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہوئے ہیں جن میں سے 19 لاکھ افراد کو ٹوکن جاری کئے جاچکے ہیں۔ علی پرویز ملک نے خدشہ ظاہر کیا کہ پٹرول کی قلت پیدا ہوئی تو اس کی قیمت 1000 روپے لٹر تک جا سکتی ہے۔ وزیر خزانہ اورنگ زیب کے بقول درپیش چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے اس لئے مارچ، دھرنے اور ہڑتالیں سمجھ سے بالاتر ہیں۔ وفاقی وزراء نے پی ٹی آئی خیبر پی کے کے صدر جنید اکبر کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ مشیر وزیراعظم رانا ثناء اللہ کے بقول کچھ عناصر گڑبڑ کے لیئےموقع کی تلاش میں ہیں۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ شہریوں کو اپنے کسی مسئلہ پر احتجاج کے لیئے سڑکوں پر آنے کا آئینی حق حاصل ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہریوں کے آئینی حقِ احتجاج کو تسلیم کرتے ہوئے دارالحکومت میں احتجاج کے لیے حدود و قیود بھی متعین کر دی ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کی روشنی میں حکومت اور سڑکوں پر احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئین و قانون اور عدالتی احکام کی مکمل پاسداری کریں۔ بے شک احتجاج جمہوری حق ہے مگر اس حق کے استعمال سے دوسرے شہریوں کے بنیادی حقوق، کاروبار، روزمرہ زندگی اور ملکی معیشت متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔ امن و امان برقرار رکھنا بہر صورت حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے تاہم اس کے ساتھ عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا ازالہ بھی حکومت ہی کی ذمہ داری ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی منڈی کے علاوہ ملک کے اندر بے یقینی اور سیاسی کشیدگی کے اثرات پڑنے کی حکومتی وضاحت اپنی جگہ، مگر پٹرول کی قلت کی صورت میں اس کی قیمت ایک ہزار روپے فی لٹر تک پہنچنے کا عندیہ عوام میں مزید اضطراب پیدا کر سکتا ہے۔ اگر پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کی جانب سے ایسی بات کی جائے تو یہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہوگا۔دوسری جانب پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر کا یہ کہنا کہ ’’ہم لاشیں اٹھائیں گے، اسلام آباد کو سومنات بنائیں گے‘‘ اور جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کا یہ اعلان کہ پٹرولیم لیوی ختم کرنا ہوگی بصورت دیگر احتجاج حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہوسکتا ہے، سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کی عکاسی کر رہا ہے۔ بے شک اختلافِ رائے اور احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے مگر تشدد، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں یا شہری املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی صورت گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔حکومت کو بھی یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ مہنگائی، پٹرول، بجلی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کے بڑھتے اخراجات نے عام آدمی کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے اس لیئے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے لئے انہیں اپنے سیاسی مقاصد کے تحت سڑکوں پر لانا آسان ہوگا۔ عوام کو زچ کرنے والی کوئی بھی حکومتی پالیسی بالآخر انہیں سڑکوں پر آنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس لیے حکومت بے بس و مجبور عوام کا مزید امتحان نہ لے، پٹرولیم لیوی اور دیگر مالی بوجھ کے حوالے سے قابلِ عمل ریلیف پر غور کرے اور سیاسی جماعتوں سے بامقصد مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔موجودہ صورتحال کا تقاضا یہی ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنائے اور احتجاج کرنے والی جماعتیں بھی اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں۔ بہتر یہی ہو گا کہ ریاستی طاقت اور سڑکوں پر موجود عوامی طاقت کو بروئے کار لانے کے بجائے آئین اور عدالتی فیصلوں کی پاسداری کی جائے اور مذاکرات کی میز پر ایک دوسرے کے لئے نرم گوشہ پیدا کیا جائے۔ اس سے ہی ملک کو سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کی فضا سے نکالا جا سکتا ہے۔
واپس کریں