دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چارسدہ کے افضال ۔ خالد خان
No image غربت کے بہت سارے نقائص ہوں گے مگر ایک خرابی یہ بھی ہے کہ بندہ ریاضی میں صفر ہوتا ہے۔ ریاضی دان صفر کو صفر نہیں سمجھتے، لیکن ہم جیسے غربا جن کا تنگ دستی نے ستیا ناس کیا ہو، وہ صفر کو بس محض صفر ہی سمجھتے ہیں۔ کائنات کی بنیاد ریاضی پر ہے اور ریاضی کی بنیاد ہم جیسے ناسمجھوں کے حساب سے گنتی پر ہے۔ گنتی سکول کے تختۂ سیاہ سے بہتر نوٹ گننے سے سمجھ میں آتی ہے اور ہم جیسے فقرے ٹھہرے ناسمجھ۔ سیانے کہتے ہیں کہ کیش نہیں تو عیش نہیں اور موچھ نہیں تو کچھ نہیں۔ ظالم سماج نے اگر ہمیں کیش و عیش سے محروم رکھا تو ہم نے بھی گز بھر کی لمبی مونچھیں رکھ کر ہندی فلمی ڈائیلاگ ’’مونچھیں ہو تو نٹور لال جیسی‘‘ بدل کر رکھ دیا۔ ایک طویل عرصے تک مجھے ریاضی کسی ریاض صاحب کی دخترِ نیک اختر لگتی رہی اور اسی لگائی بجھائی میں ریاضی کے منفی اثرات ہماری زبان تک آ گئے۔ فضل کی جمع لغت میں جو بھی ہو، لیکن ہم اسے افضال سمجھتے ہیں۔ فضل اور افضال سے پختونخوا کے مرحوم سابق وزیر اعلیٰ اور بستہ الف کے سیاستدان میر افضل خان یاد آئے، جن کا نام ایک مرتبہ پاکستان ٹیلی ویژن کے 9 بجے رات کے خبرنامے میں ایک خاتون نیوز کاسٹر نے تین بار میرا فضل خان پڑھا تھا۔ میرے یار چودھری اللہ دتہ کے مطابق یہ پاکستان کا پہلا ابلاغی نکاح تھا جس میں ایک خاتون نے تین بار قبولیت کی گردان کرتے ہوئے میرا فضل خان کہا تھا۔ ہم تو خاتون نہیں ہیں کیونکہ اوپر گز بھر لمبی مونچھوں کے ذکر سے یہ تحقیق کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے کہ گرائمر کے لحاظ سے ہم مرد اور بینک اکاؤنٹ کے حساب سے ہم نامرد ہیں۔ بہرحال نامردی قبول ہے، لیکن شکر ہے کہ خواتین اور خواجہ سراؤں کے قبیلے میں شمار نہیں ہوتے۔ ہماری مردانگی بلکہ چارسدہ کی 18 لاکھ 35 ہزار 504 افراد پر مشتمل آبادی میں 9 لاکھ 50 ہزار 872 مردوں کے دو دو فضل خان ہیں یا دو افضال ہیں۔ اس سے بڑھ کر بھلا مردانگی کا کوئی ثبوت ہو سکتا ہے؟ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ دونوں بڑے خانوادے ہیں۔ دونوں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ہیں۔ دونوں مسلسل اقتدار میں ہیں۔ ایک فضل شکور خان پختونخوا کے صوبائی وزیر ہیں اور دوسرے فضل محمد خان قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔ مرکز اور صوبے کی طاقت باہم مل کر دونوں فضل خانوں کو افضال بناتی ہے۔ مگر یہ حسنِ اتفاق دیکھیے کہ دونوں افضال 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے پہلے گرفتار ہوئے۔ مزید حسنِ اتفاق ملاحظہ کیجیے کہ دونوں افضال موٹروے پر گرفتار ہوئے۔ اور دونوں افضال اس صوبے میں گرفتار اداروں کے ہتھے چڑھے جس صوبے میں بلا شرکتِ غیرے گزشتہ 13 سال سے ان خانوادوں کی حکومت ہے۔ غربت نے زبان کو بہت متاثر کیا ہے۔ ’’گرفتار اداروں‘‘ سے مراد وہ ادارے ہیں جو لوگوں کو گرفتار کرتے ہیں۔ دشمن خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنانے کی کوشش نہ کرے۔ ویسے برسبیلِ تذکرہ بھینگن کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ ہمارے افضال نے حقیقی آزادی کے لیے قید و بند کی اتنی بڑی قربانی دی اور ناعاقبت اندیش قوم اسے فرمائشی اور بھاری ادائیگی پر خریدی ہوئی گرفتاریاں بتاتی ہے۔ خانوادے جو عیش و آرام اور سہولتوں کے انگریز دور سے عادی لوگ ہیں، اس بے شعور قوم کے لیے جیل کی سختیاں جھیلیں گے اور اس ناہنجار قوم کا مذاق تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ بہرحال مجھے افضال کی گرفتاریوں کا انتہائی دکھ ہے۔ چارسدہ کے لیے ان کی بڑی خدمات ہیں۔ چارسدہ کے عوام پر ان کے بہت سارے احسانات ہیں۔ میری تو ان احسانات کے بدلے ان کو ایک کپ چائے پلانے کی بھی حیثیت نہیں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے دربار میں افضال کے لیے ’’غازی اور شہید‘‘ کے دونوں ٹائٹل موجود تھے جن سے یہ بدقسمت افضال محروم رہ گئے۔ خیر جان چوٹی، لاکھوں پائے۔ عزت کا کیا ہے، وہ تو کبھی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ کٹا کے انگلی شہیدوں میں نام کر لیں گے کے مصداق ہم خرما و ہم ثواب والی بات ہو گئی۔ لانگ مارچ سے بھی بچت ہوئی اور ہیروگیری بھی برقرار رہی۔
واپس کریں