
عمران خان کی بہنوں سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں گرفتاریوں کے لیے چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق پولیس کو پی ٹی آئی کے کارکنوں کی فہرستیں تقریباً ایک ہفتہ پہلے ہی فراہم کر دی گئی تھیں۔ اس وقت پنجاب سمیت ملک کے مختلف حصوں میں پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو ایم پی او تھری کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے ایک ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے اور ان میں پارٹی کے پانچ ارکان قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل، عادل خان بازئی، احسن جمال، داوڑ کنڈی اور میاں غوث بھی شامل ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ڈپٹی سکریٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ کے پی کے صوبے کے بھی ارکان پارلیمنٹ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے بقول حراست میں لیے جانے والوں میں ایک صوبائی وزیر بھی شامل ہیں۔
پی ٹی آئی وسطی پنجاب کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے ان کے گھروں پر مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ گرفتاریوں کا مطلوبہ ہدف پورا کرنے کے لیے کارکنوں کے اہل خانہ کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی ان گرفتاریوں پر تنقید کی ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے عمران خان کی بہنوں کو حراست میں لیے جانے کو قابل مذمت قراردیا ہے۔
پنجاب میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کی جانب سے گرفتاریوں سے بچنے کی ہدایت کے بعد متعدد رہنما اور کارکن زیرِ زمین چلے گئے ہیں۔ پیر کے روز ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں لانگ مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اس مرتبہ تمام اضلاع کی مقامی قیادت کو ہدایت کی گئی ہے کہ مرکزی یا ضلعی رہنماؤں کی گرفتاری کی صورت میں وہ مقامی حالات کے مطابق خود فیصلے کریں، احتجاجی حکمت عملی ترتیب دیں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھیں۔
ادھر خیبر پختونخوا کے ایک سو پندرہ صوبائی حلقوں میں گاؤں کی کونسلوں کے ذریعے احتجاج میں شریک ہونے والے افراد کی حتمی فہرستیں بھی تیار کر لی گئی ہیں۔ اکرام کھٹانہ کے مطابق پارٹی میں یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ اس مرتبہ چھ مختلف راستوں سے اسلام آباد پہنچنے کی کوشش کی جائے۔
بعض سیاسی مبصرین اس امر پر بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کرنے والی جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کو بظاہر ان مشکلات اور پابندیوں کا سامنا نہیں، جن کا سامنا پاکستان تحریک انصاف کو کرنا پڑ رہا ہے۔
حکومت اس مرتبہ لانگ مارچ سے زیادہ پریشان کیوں ہے؟
اس سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار حبیب اکرم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ یہ لانگ مارچ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے خاصا وقت گزر چکا ہے۔ ان کے مطابق پٹرول کی قیمتوں اور معاشی مشکلات نے عام آدمی کو پریشان کر رکھا ہے، جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات میں بھی اٹھائیسویں آئینی ترمیم، نئے صوبوں کے معاملے اور اختیارات کے توازن سمیت متعدد امور پر اختلافات سامنے آئے ہیں۔
حبیب اکرم کے مطابق بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سہیل آفریدی، علی امین گنڈاپور کے مقابلے میں زیادہ سخت مؤقف رکھتے ہیں۔ ان کے خیال میں موجودہ سیاسی اور معاشی حالات میں معمولی سی چنگاری بھی کسی بڑے سیاسی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار سلمان عابد نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی لانگ مارچ شروع بھی نہیں ہوا لیکن اس سے پہلے ہی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے ذریعے حکومت خود سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک مؤثر سیاسی حکمت عملی نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھ سکتی ہے۔
بعض سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورت حال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس سوال کا جائزہ لیا جائے کہ سیاسی کشیدگی میں اضافے سے کس فریق کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور کون سے عناصر حالات کی خرابی کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
حکومت کا سخت ردعمل
ادھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان تحریک انصاف کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد پر ”دھاوا‘‘ بولا گیا تو اس کا نقصان خود پی ٹی آئی کو ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم موجود ہے، اس لیے قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں سختی سے نمٹا جائے گا۔
محسن نقوی کے مطابق احتجاج سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا، البتہ ملکی معیشت کو نقصان ضرور پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں موجود ”سمجھدار سیاستدان‘‘ بھی لانگ مارچ کے حق میں نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، کہ نیت کا تو پتا نہیں، طبیعت ان کی ٹھیک کر لیں گے۔
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری اور پنجاب پولیس سے بھی ان الزامات اور گرفتاریوں کے حوالے سے مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا، تاہم متعدد کوششوں کے باوجود ان کا مؤقف دستیاب نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ ستائیس ستمبر کو پوری طاقت کے ساتھ، لیکن پرامن طریقے سے نکلے گی۔ پارٹی کے مطابق پرامن احتجاج اس کا آئینی حق ہے اور گرفتاریوں یا دیگر حکومتی اقدامات کے باوجود لانگ مارچ کیا جائے گا۔
پی ٹی آئی نے اپنے ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد سے منتخب ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریاں آئین، جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے منافی ہیں۔
تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ منتخب ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاریوں سے نہ عوام کی آواز دبائی جا سکتی ہے اور نہ ہی اس کی آئینی اور سیاسی جدوجہد کو روکا جا سکتا ہے۔
’’حکومت دل بڑا کرے، مگر مظاہرین بھی لاٹھیوں کے ساتھ نہ آئیں‘‘
مذاکرات کی پیشکش
اس تمام کشیدگی کے درمیان سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک بااختیار ٹیم تشکیل دے اور سیاسی قوتوں کے درمیان بامعنی بات چیت شروع کی جائے۔ ان کے مطابق اگر سیاسی لوگ مل بیٹھیں تو موجودہ بحران کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
یوں ستائیس ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل ایک جانب حکومت سخت اقدامات اور قانونی کارروائی کا عندیہ دے رہی ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف احتجاج کو اپنا آئینی حق قرار دیتے ہوئے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ اسی دوران مذاکرات کی پیشکش یہ سوال بھی سامنے لاتی ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں تصادم کی موجودہ فضا برقرار رہے گی یا فریقین کسی سیاسی راستے کی طرف بڑھیں گے۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں