
حکومت مخالف بلخصوص پی ٹی آئی کے حامی یوٹیوبرز کو ڈالرز کمانے کا طعنہ دیا جاتا ہے۔ پہلی بات ہے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں حقائق یا غلطیوں کو زیادہ دیر تک چھپانا ممکن نہیں رہا اور دوسرا یہ کہ اگر مذکورہ یوٹیورز سوشل میڈیا کے زریعے جھوٹ بول بول کر ڈالرز کما رہے ہیں تو پھر لوگ انہیں مسلسل دیکھتے اور سنتے کیوں ہیں؟ مذکورہ یوٹیوبرز کی لاکھوں کی تعداد میں فالونگ کیوں ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ حکومتی سیاسی اتحادی یعنی پی پی پی اور ن لیگ جھوٹ کی ان فیکٹریوں کا سد باب نہیں کرتے؟
امر واقع یہ ہے کہ مذکورہ سیاسی جماعتوں کے لیڈران ابھی تک 80 کی دھائی میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں ووٹرز اور سپوٹرز اپنے اپنے سیاسی لیڈران کی تقریریں سننا کار ثواب سمجھتے تھے۔وقت بدلا ہے لیکن ان پرانے سیاسی لیڈران کی سوچ نہیں بدلی۔
اس وقت ملک کی آبادی کا نصف سے زیادہ ووٹر نو جوان نسل میں شمار ہوتا ہے جسےG-Z کہا جاتا ہے، اب ظاہر ہے اس جنریشن کا مزاج80 کی دھائی والا نہیں ہو گا۔ سوشل میڈیا سے جڑی ہوئی جین زی کا مزاج لمبی چوڑی اور پرانی کہانیاں سننے کا عادی نہیں یہ دوٹوک اور سیدھی بات سننا پسند کرتے ہیں چاہے اس بات میں مخالفین کے لیئے جھوٹ ہی کیوں نہ شامل ہو۔
یہ اس حکومت پر عوامی اعتماد کا بحران ہی ہے کہ عام پبلک سرکاری بیانیے کو اسٹیبلشمنٹ یا حکومت کا آفیشل پراپیگنڈا سمجھتے ہیں اور جب سرکار کا میڈیا سیل جواب دیتا ہے تو اسے فوراً سرکاری جھوٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مخالفین کا بیانیہ خواہ مبالغہ آمیز ہو اسے عوامی آواز کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔آخر اس حکومت کی وزارت اطلاعات اس حوالے سے توجہ کیوں نہیں دیتی؟
سرکاری میڈیا سیلز روایتی پریس ریلیزز، ٹی وی اور آفیشل اکاؤنٹس پر انحصار کرتے ہیں، جو سوشل میڈیا کی رفتار کا مقابلہ نہیں کر سکتے جبکہ حکومت خود یہ الزام لگاتی ہے کہ بہت سے اکاؤنٹس جعلی ہیں یا غیر ممالک سے چلائے جاتے ہیں۔ اب اسے حکومت کی ناکامی کا اعتراف کہنا بے جا نہ ہو گا۔
کچھ عرصہ قبل جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور گوادر سے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر اشٹبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ”الزام دیا جاتا ہے کہ بیرونی فنڈنگ سے بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو پیسے دے کر ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے کا کام لیا جاتا ہے تو کیا ریاست اپنے ان بے روزگار نوجوانوں کو پیسے دے کر اس بیرونی سازش کا توڑ نہیں کر سکتی اور اس میں کوئی لمبے چوڑے فنڈز بھی خرچ نہیں ہوں گے“
امر واقع یہ بھی ہے کہ سرکاری میڈیا سیلز میں بیوروکریٹک انداز، سست فیصلہ سازی اور کم تخلیقی مواد ہوتا ہے جبکہ سوشل میڈیا میں حکومتی مخالفین خاص طور پر پی ٹی آئی کے پاس متحرک اور پیشہ ورانہ سوشل میڈیا ٹیمز ہیں جو میمز، شارٹ ویڈیوز اور جذباتی مواد بناتی ہیں۔ گو کہ موجودہ حکومت نے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ اور فیکٹ چیکرز بنائے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر سیاسی پراپیگنڈے کے خلاف یہ کافی نہیں۔حکومت پابندیوں، اکاؤنٹس بلاک کرنے، یا قانونی کارروائیوں پر زور دیتی ہے، جو مخالف سوشل میڈیا مخالفین کو ہیرو بنانے اور ان کے بیانیے کو مزید تقویت دینے کا کام کرتا ہے اور حکومت کی جانب سے جس بات کو جتنا دبایا جاتا ہے لوگ اسے زیادہ سننا اور دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے متوقع احتجاج یا لانگ مارچ کے حوالے سے اگر بیرون ممالک بیٹھے یو ٹیوبرز مہم بازی اور غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں تو کیا اس مقبول حکومت کے پاس کوئی ایسی قابل سوشل میڈیا ٹیم بھی دستیاب نہیں جو حکومت مخالف پراپوگنڈے کا توڑ کر سکے؟
حقائق یہ ہیں کہ عوام کا نیشنل میڈیا پر سے اعتماد سرے سے اٹھ گیا ہے، لوگ اب سوشل میڈیا دیکھتے ہیں جہاں کم از کم اس وقت ہر جانب حکومت مخالف بیانیہ ہی نظر آ رہا ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں کوئی بھی حکومت مکمل طور پر پراپوگنڈے کو نہیں روک سکتی، بہترین راستہ عوامی اعتماد بحال کرنا، کارکردگی دکھانا اور آزاد میڈیا کو جگہ دینا ہے۔
واپس کریں