صرف چند سو افراد سے نبرد آزما ہونے کے لیئے حکومتی انتظامات

مقبول ترین عوامی حکومت کے مطابق عوام میں مسترد شدہ پی ٹی آئی کے متوقع لانگ مارچ میں صرف چند سو افراد ہوں گے۔اب زرا ملاحظہ فرمائیں کہ ان چند سو افراد سے نبٹنے کے لیئے کیا انتظامات کیئے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا اور آذاد زرائع کے مطابق جڑواں شہروں کے داخلی و خارجی راستوں فیض آباد، چنگی نمبر 26، راوات، چکری، اڈیالہ روڈ، پیرودھائی، بھارا کہو اور 17 میل پر بڑے کنٹینرز کچھ میں 8 انچ کے اسپائکس بھی نصب کیے گئے ہیں،۔ریڈ زون سیل کیا جا رہا ہے، تقریباً 600 سے 1000 کنٹینرز کا ہدف تقریباً پورا کر لیا گیا ہے جس کی تصدیق آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اونرز ایسو سی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے بھی کر دی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی بندش سے متعلق عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی کر رہی ہے اور یہ کہ اسلام آباد بند کرنے کے لیے زبردستی پکڑے گئے ایک ہزار کنٹینرز کو فی الفور چھوڑا جائے۔
چند سو افراد کو روکنے کے لیئے ڈی چوک سے ریڈ زون اینٹری مکمل سیل کر دی گئی ہے۔ توسیع شدہ ریڈ زون کے پانچوں راستوں پر کنٹینرز کی دو تہیں لگائی جائیں گی۔ کنٹینرز کے اندر باہر مٹی کی ڈھیریاں بھی رکھی جائیں گی۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چند سو افراد کو روکنے کے لیئے جہلم پل سمیت جی ٹی روڈ کے کئی مقامات پر خندقیں کھودی گئی ہیں۔
چند سو افراد کا مقابلہ کرنے کے لیئے صوبوں سے 23,500 اضافی پولیس اہلکار طلب پنجاب سے 15,000، سندھ سے 8,000 اور بلوچستان سے 500۔ بشمول 8 ڈی آئی جیز اور 15 ایس ایس پیز جن کی تعیناتی 22 ستمبر سے شروع ہو گی جبکہرینجرز، پنجاب کانسٹیبلری، اینٹی رائٹ فورس اور دیگر یونٹس علیحدہ ڈیوٹی دیں گے۔اسلام آباد میں 3,000 سے زائد مقامی پولیس اہلکار ڈیوٹی پر ہوں گے اور پولیس کی تمام چھٹیاں 5 اکتوبر تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔
سیف سٹی کے 1,500 کیمرے فعال، ڈرونز سے نگرانی، آنسو گیس شیلز، ربڑ بلیٹس، آرمرڈ وہیکلز اور دیگر اینٹی رائٹ سامان سے سے چند سو افراد کی نگرانی ہو گی۔ اڈیالہ جیل کے ملزمان کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جائے گا اور جیل کا عملہ بھی سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے گا۔
اطلاعات کے مطابق لانگ مارچ کے چند سو افراد سے نبرد آزما ہونے کے لیئے تعلیمی ادارے، ہوٹلز، مارکیٹس، ٹرانسپورٹ ٹرمینلز اور میٹرو بس سروس بند کیے جانے اور موبائل انٹرنیٹ سروسز معطل ہونے کا امکان ہے جبکہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہو گی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ علیمہ خان کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیاگیاہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
واپس کریں