دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ناچیز شرمندہ اور افسوس کرتا ہے
No image آج ہی میر پور آذاد کشمیر میں انتخابی جلسے سے خطاب میں جنابِ نوز شریف نے کہا ہے ”بلاول برخودار! کشمیر کو کشمور، میرپور کو میرپور خاص نہ سمجھنا“۔بات زیادہ پرانی نہیں بلکہ چند ہی ماہ قبل کی ہے جب پی پی پی کے امیدوار فیصل ممتاز رٹھور کو آذاد کشمیر کا وزیراعظم بنانے کے لیے پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنے ووٹ دیے تھے۔ نومبر 2025 میں سابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف عدم اعتماد تحریک میں بھی مسلم لیگ ن نے پاکستان پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور یوں فیصل راٹھور 36 ووٹوں سے منتخب ہوئے۔ اب 2026 کے آمدہ انتخابات میں یہ دونوں سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے خلاف جلسے کر رہی ہیں اور ووٹ مانگ رہی ہیں۔یہ کوئی نئی بات نہیں، پاکستانی سیاست میں اصول اور نظریہ عارضی ہوتے ہیں جبکہ ان کے کارکنان ایک دوسرے کے گریبان چاک کرتے ہیں۔
جب وفاق میں حکومت بنانی ہو تو مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی''جمہوریت کے تحفظ'' کے نام پر ایک ہو جاتے ہیں (جیسے 2022 کے بعد کی حکومتوں میں) اور جیسا کہ اوپر عرض کیا کہ ابھی حال ہی میں آذاد کشمیر میں بھی مسلم لیگ نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کو سپورٹ کیا تاکہ مخالف پی ٹی آئی یا کسی دیگر کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔
جب عام انتخابات آ جائیں تویہی ''اتحادی'' ایک دوسرے کو ''سندھی/پنجابی مداخلت، شناخت کے بحران، اور کشمیر ہمارا ہے کے نعروں سے گھیرتے ہیں۔ بلاول بھٹو سندھ سے آ کر آذاد کشمیر کے حقوق کی بات کرتے ہیں تو نواز شریف صاحب انہیں ''میرپور خاص'' والا طعنہ دیتے ہیں جبکہ نواز شریف صاحب پنجاب سے آ کر آذاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں۔
نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں ”آزاد کشمیر کو اپنا دوسرا نہیں پہلا گھر سمجھتا ہوں “ لیکن میاں صاحب کے اس گھر میں دو ماہ سے اشیائے خوردونوش اور ادوایات کی سپلائی بند ہے اور سپلائی کا راستہ اسلام آباد اور پنجاب سے ہو کر آتا ہے جہاں ان کی جماعت کی حکومتیں قائم ہیں،میاں صاحب کے اس اپنے گھر میں اپنے بنیادی حقوق کے لیئے نکلے نہتے عوام فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں (چالیس سے زیادہ افراد) جان بحق، درجنوں زخمی ہو چکے ہیں اور یہ سارے ہلاک شدگان یا زخمی دہشت گرد اور گناہ گار نہیں تھے بلکہ بے گناہ مارے گئے لیکن تقریر میں ان بے گناہ افراد کی بیواؤں اور ان کے یتیم ہونے والے بچوں کے حوالے سے کسی قسم کا اظہار افسوس نہیں کیا گیا اور نہ ہی آذاد کشمیر حکومت سے مذکورہ معاملے کی چھان بین یا تحقیات کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور نہ ہی”اپنے گھر“ میں دو ماہ سے احتجاج کرتی عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق کوئی بات کی گئی۔
یہ کھلا تضاد نہیں بلکہ سیاسی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں ہی وفاقی سطح پر ایک دوسرے کے محتاج رہے ہیں، اس لیے آذاد کشمیر جیسے حساس علاقے میں بھی ایک دوسرے کو سپورٹ کر لیتے ہیں جب ضرورت ہو۔ آذاد کشمیر کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہے کہ وہ مذکورہ سیاسی جماعتوں کے ''اتحاد اور تضاد'' کے کھیل میں کس کو منتخب کرتے ہیں
سچ لکھنے اور کہنے سے نہیں گھبراتا کیونکہ زومبی یا زہنی غلام نہیں، ناچیز نے بحثیت کارکن ہمیشہ پاکستان مسلم لیگ ن کی وکالت اور سپورٹ کی لیکن آذاد کشمیر میں جاری ن لیگ اور پی پی پی کا مشترکہ سیاسی تماشہ دیکھ کر ناچیز شرمندہ اور افسوس کرتا ہے۔
واپس کریں