دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آدھا تیتر آدھا بٹیر اور نظام انصاف
No image اسلام کے اس ہوائی قلعے میں انصاف کے طلب گار مدعی کو گھسیٹے جانے والے نظام انصاف سے پالا پڑتا ہے،جہاں مقدمات کا دس،بارہ سال لٹکنا معمول ہے۔ ہمیں عدالتی نظام دے کر جانے والے انگریز کے ہاں انصاف میں تاخیر کی بلکل گنجائش نہیں، جبکہ یہاں یعنی قلع شریف میں مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر روایت اور ایک قاعدہ بن چکی ہے۔انگریز کابتایا ہوا لباس، وہی گرمیوں کی چھٹیاں،عدالتی زبان اور اٹھنے بیٹھنے کا عدالتی طریقہ کار، سب فرنگی انگریزی سرکار کا فالو کیا جاتا ہے کہ لیکن انصاف فراہم کرنے کے عمل میں مکمل طور پر”دیسی طریقہ کار“ اپنایا جاتا ہے یعنی تاریخوں پر تاریخیں سمیت فیصلوں میں دیگر تاخیری حربے۔
حیرانگی اس امر پر ہے کہ ہمارے سیاسی لیڈران، اپوزیشن میں رہ کر مذکورہ عدالتی دیسی طریقہ کار کا شکار ہوتے ہیں، یعنی اپنے فیصلوں میں تاخیری حربے سہتے ہیں، تاریخوں پر تاریخیں،مخالفین کی جانب سے فرمائیشی اسٹے آرڈرز اور مذید زلیل کرنے کی غرض سے اپیلوں کا سامنا کرتے ہیں لیکن جب اقتدار میں آتے ہیں تو پہلی فرصت میں بجائے عدالتی اصلاحات کرنے کہ اپنے مخالفین کو اسی طریقے سے عدالتی نظام کے زریعے زلیل کرتے ہیں اور پھر دوبارہ اپوزیشن میں آکر اسی عدالتی نظام کے غصب کا شکار ہوتے ہیں اور یوں برس ہا برس سے یہ عدالتی چکر جاری و ساری ہے۔
یوں توانقلابی جج صاحبان اپنی تقریروں میں تو پور ا نظام انصاف بدل کر رکھ دیتے ہیں لیکن اپنی کرسی پر بیٹھ کر ایک سطر بدلنے میں بھی دس دس سال لگا دیتے ہیں۔مائیک پر آتے ہی انقلاب برساتے ہیں لیکن، کسی پرانے مقدمے کی فائل کھولتے ہی برف جم جاتی ہے۔ اپنی تقریروں میں فرماتے ہیں ''انصاف میں تاخیر انصاف نہیں ہونے چاہیئے'' لیکن پھر خود ہی انصاف کو دس دس سال کی پروبیشن پر بھیج دیتے ہیں۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو انقلابی جج صاحبان تقریروں میں ''فوری انصاف'' کا نعرہ لگاتے ہیں، وہی اپنی کرسی پر بیٹھ کر مقدمات کو ''پنڈنگ'' والے خانے میں منتقل کروا دیتے ہیں۔
انگریز کی جانب سے ہمیں جہیز میں دیئے گئے اس نظام انصاف میں اصلاحات آخر کون کرے گا اور کون عدالتوں میں بنائے گئے دیسی طریقہ کار کو درست کرے گا؟ فیصلوں میں تاخیری حربوں پر مشتمل عدالتوں میں آدھے تیتر اور آدھے بٹیر والے دیسی نظام کو کون درست کرے گا تا کہ بغیر سفارش عام سائلین کو بھی جلد انصاف مل سکے۔اس ضمن میں مرکزی،صوبائی بار کونسلیں اور بار ایسوسی ایشنز بھی اپنی اپنی سیاست بازی سے وقت نکال کر عدلیہ کو سائلین کو درپیش مذکورہ بالا سنگین مسائل کی بابت پر زور طریقے سے آگاہ کریں کیونکہ وکلاء اور سائلین کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
واپس کریں