
بھڑکیں ، دھمکیاں، مظلومیت کا رونا ، ماتم اور ساتھ ساتھ اخلاقیات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا بھاشن ۔ یہ سب کچھ ایران اور اس کے پاسداران بیک وقت کر رہے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا تحریری بیان، جو پارلیمان میں پڑھ کر سنایا گیا، میں فرماتے ہیں:
"مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ امریکی صدر کے دستخط کی کوئی حیثیت یا اعتبار نہیں۔"
حالانکہ مفاہمتی یادداشت تو اسی روز ختم ہو گئی تھی، جب آپ نے سعودی اور قطری جہازوں کو نشانہ بنایا تھا۔ اس وقت آپ کے دستخطوں کی کیا حثیت رہ گئی تھی۔
ایک طرف دھمکی دیتے ہیں:
"امریکہ کو ناقابلِ فراموش سبق سکھایا جائے گا۔"
اور دوسری طرف اقوامِ متحدہ سے امریکی حملوں کو روکنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
ایک دن ایران کی وزارتِ خارجہ اسلام آباد میمورنڈم کو ختم کرنے کا اعلان کرتی ہے، لیکن جب حملوں میں شدت آتی ہے اور انفراسٹرکچر تباہ ہوتا ہے، تو اگلے روز عراقچی فرماتے ہیں:
"ہماری سیکیورٹی میں وہ خامیاں آج بھی موجود ہیں، جن کے سبب آیت اللہ خامنہ ای کو ٹارگٹ کیا گیا۔ ہمیں مذاکرات کی کوشش کرنی چاہیے، چاہے ان کی کامیابی کا امکان صرف دس فیصد ہی کیوں نہ ہو۔ ہمیں مذاکرات کا موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ کی اپنی بھاری قیمت ہوتی ہے۔"
عراقچی فرماتے ہیں کہ امریکہ کا ایران کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے،
لیکن یہ وضاحت نہیں فرماتے کہ ایران کا عرب کے سویلین جہازوں، تیل اور گیس کی تنصیبات کو نشانہ بنانا کس اخلاقی زمرے میں آتا ہے۔
بلکہ کل ہی انہوں نے کویت میں پانی کے اس پلانٹ کو دو بار نشانہ بنایا، جو ۹۰ فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتا ہے۔
یہ وہی منافق ہیں جو چودہ سو سالوں سے یزیدی فوج کے ہاتھوں اہلِ بیت کے پانی کی بندش کا ماتم کرتے آرہے ہیں ۔
اور اب تاریخ میں پہلی بار اقتدار ملا تو وقت کے یزید اور شمر ثابت ہوئے۔
دو دن قبل انہوں نے اردن میں امریکی بیس پر حملہ کیا، جس میں دو امریکی فوجی مارے گئے۔
اس کے جواب میں کل امریکہ نے شدید بمباری کی اور ڈارکھوین نیوکلیئر پاور پلانٹ کو شدید نقصان پہنچایا۔
ایران میں نہ پاکستان کی طرح مادرپدر آزاد میڈیا ہے، نہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر کھل کر بات کرنے کی اجازت،
لیکن صورتِ حال کا اندازہ آپ اس سے لگا لیں کہ ایران کی وزارتِ تعلیم نے اہواز اور بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ ایک طرف بدمعاشی کرتے ہیں تو دوسری طرف مظلومیت کا کارڈ بھی کھیلتے ہیں۔
ایک طرف ہرمز کو بند کرکے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اُڑاتے ہیں، بلکہ کل ہی ان کے نائب وزیرِ خارجہ دھمکی دے رہے تھے کہ:
"آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کے لیے تجویز کردہ جنوبی راستہ ایران کو 'کسی صورت' قبول نہیں۔"
دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔
ایک سادہ سی مثال لیں: دو گھروں کے درمیان ایک عوامی گزرگاہ ہے جس پر ایک عرصے سے لوگ آتے جاتے ہیں ۔ اچانک ایک گھر کا مالک اعلان کرتا ہے کہ میرے گھر کے سامنے سے گزرنے والا ٹیکس دے گا۔ جب لوگ مخالف سمت والے گھر کے سامنے والی راہ اختیار کرتے ہیں، تو وہ اعلان کرتا ہے کہ یہ مجھے منظور نہیں۔ اب اس بدمعاشی کو آپ کیا نام دیں گے؟
یہاں کون سا بین لااقوامی قانون اور اخلاقی قاعدہ لاگو ہوتا ہے۔
ایران کو جنگ چاہیے تھی ایران کو جنگ مل گئی ہے۔ اب رونے کی بجائے لڑیں جنگیں ایسے ہی لڑی جاتی ہیں جنگوں کی کوئی اخلاقیات، اصول نہیں ہوتے۔
جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز ہوتا ہے۔
باقی ان کے دوغلے پن اور جھوٹ کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ نتن یاہو کے مرنے کی جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کا نیا سپریم لیڈر اپنے باپ کے جنازے پر بھی سامنے نہیں آیا۔ وزیرِ خارجہ عراقچی کہتے ہیں کہ ان کی نئے سپریم لیڈر سے ابھی تک ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں وہ زندہ بھی ہے یا نہیں، یا یہ ویسے ہی آئے روز اس کے نام سے جھوٹی تحریریں نشر کر رہے ہیں۔
اب ایرانی میڈیا پر معروف تجزیہ کار مہدی اور سابق ایرانی وزیرِ خارجہ متقی کے حوالے سے نئی بڑھک بھی سن لیں۔
"اگر امریکہ ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم جاری رکھتا ہے تو ایرانی فوج کویت میں داخل ہوگی، جہاں وہ کیمپ بیورنگ (Camp Buehring)، کیمپ عریفجان (Camp Arifjan) اور علی السالم ایئر بیس (Ali Al Salem Air Base) پر قبضہ کر کے 100 امریکی فوجیوں کو قیدی بنا کر ایران لے آئے گی۔"
حالت دیکھیں !
یہ کویت سے امریکی فوجیوں کو پکڑ کر لائیں گے، لیکن جو امریکی پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اپنے پائلٹ کو چھڑانے آئے تھے، ان میں سے ایک کو بھی گرفتار نہ کر سکے۔
بھائیو! ہم تو شروع سے افغان ملاوں کی طرح ان ایرانی تالبان کے بھی خلاف ہیں، اور اسے انسانیت کے نام پر ایک بدنام دھبہ تصور کرتے ہیں۔
لیکن جو الباکستانی ان کے عشق میں گرفتار تھے، ان کی آنکھیں بھی آھستہ آھستہ کھل رہی ہیں — مگر وہ اب یہ کہہ کر ڈنڈی مارتے ہیں کہ پاسداران میں موساد کے ایجنٹ ہیں۔
یعنی یہودیوں سے نفرت کی انتہا دیکھیں کہ خمینی اور اس کے پاسداران کا گند بھی ان کے گلے ڈالیں۔
نہ آپ نے خمینی کا فلسفۂ ولایتِ فقیہہ پڑھا ہے، نہ ان کے پچاس سالہ کرتوتوں کو جانا ہے،
کیونکہ ہماری طرف ذہن سازی کا ٹھیکہ ہم نے مذہبی جماعتوں کو دے رکھا ہے، جو آپ کو امریکہ اور اسرائیل کا دشمن، جبکہ افغان تالبان اور ایران کو برادرز اسلامی ملک دکھاتے ہیں۔
پاکستان میں نوے ہزار معصوم شہری اسرائیل نے نہیں، بلکہ راس العقیدہ دیوبندیوں نے شہید کیے ہیں،
جو آج افغانستان پر قابض ہیں اور جو کسی یہودی یا عیسائی کے نہیں، بلکہ مولانا سمیع الحق اور فضل الرحمان کی روحانی اولاد ہیں۔
اسی طرح شام، عراق، لبنان اور یمن میں خمینیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے مسلمانوں کی تعداد، اسرائیل کے ہاتھوں شہید ہونے والے فلسطینیوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ اس ملک کے مذہبی پیشوا سچ بولیں، یا یہ قوم ان کی پیروی چھوڑ دے۔
خدارا! اب تو ہوش کے ناخن لیں۔
واپس کریں