دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستانیوں کے بیرونِ ملک جانے کے رجحان کا سبب کیا ہے؟
No image حال ہی میں پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے انکشاف کیا کہ برطانیہ میں اسٹوڈنٹ ویزے پر جانے والے دس ہزار پاکستانیوں نے بعد ازاں وہاں سیاسی پناہ کی درخواست دے دی۔ ایف آئی اے نے یہ بھی بتایا کہ آذربائیجان اور بیلاروس جانے والے ہزاروں پاکستانی بھی واپس وطن نہیں لوٹے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بڑی تعداد میں پاکستانی یورپی ممالک میں سیاسی پناہ کی درخواستیں کیوں دے رہے ہیں، اور ہزاروں افراد غیر یورپی ممالک سے بھی واپس کیوں نہیں آ رہے۔ کیا ملک کی طویل عرصے سے زیرِ بحث معاشی صورتحال ہی لوگوں کو وطن چھوڑنے پر مجبور کر رہی ہے، یا اس رجحان کے پیچھے دیگر عوامل بھی کارفرما ہیں؟
کیا لوگ صرف معاشی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑنا چاہتے ہیں؟
معروف ماہرِ معیشت ندیم الحق کے مطابق، "ملک کی ڈوبتی ہوئی معیشت ایک وجہ ضرور ہے، لیکن بنیادی وجہ نہیں۔ لوگ زندگی کے ایک مکمل پیکج کی تلاش میں ملک چھوڑنا چاہتے ہیں، جو انہیں یہاں میسر نہیں۔ اس میں معاشی مواقع کے ساتھ آزادی، اپنی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے مواقع اور ایسا طرزِ زندگی شامل ہے جو لوگوں کو وہاں رہنے پر آمادہ کرتا ہے، خصوصاً جب وہ ان ممالک کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتے ہیں تو واپس آنے کا ارادہ کم ہی کرتے ہیں۔”
ماہرین اگرچہ بیرونِ ملک مستقل سکونت کے لیے غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کی حمایت نہیں کرتے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ حقیقت میں بہت سے لوگوں کو ایک طرح کی "نجات” درکار ہے۔ طنزیہ انداز میں وہ کہتے ہیں کہ اس وقت عام پاکستانیوں کے لیے زندگی کے کئی دروازے بند ہیں، اس لیے ایک طرح سے سیاسی پناہ کے مستحق ہی لگتے ہیں۔ ندیم الحق کے مطابق معاشرے میں ناانصافی بھی لوگوں کو ملک چھوڑنے پر مائل کرتی ہے۔ ان کے بقول، "انسان کو خود کو زندہ محسوس کرنے کے لیے تفریح اور زندگی سے لطف اندوز ہونے کے مواقع بھی درکار ہوتے ہیں۔”
رازداری کی خاطر فرضی نام استعمال کرتے ہوئے زیب احمد، جو کئی بار یورپ جانے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن ناکام رہے، اور اس وقت ایک خلیجی ملک میں یورپی ویزا کے انتظار میں ہیں، کہتے ہیں کہ پیسہ ہونے کے باوجود پاکستان میں وہ خاطر خواہ کام نہیں کر سکتے۔
ان کا کہنا ہے، "کچھ لوگ کاروبار میں کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن ہزاروں ناکام بھی ہوتے ہیں، میں نے خود بہت رقم کھوئی اور متعدد رکاوٹوں کا سامنا کیا۔”
زیب احمد کے مطابق پاکستان کا نظام بعض اوقات معمولی غلطیوں کو بھی معاف نہیں کرتا اور لوگ چھوٹی لغزشوں کی قیمت برسوں تک ادا کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک دوست کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کم عمر میں یورپ جانےکی کوشش کے دوران ترکی جانے کے بعد وہ نہ وقت پر واپس آ سکا اور نہ یورپ پہنچ سکا، بعد میں سعودی عرب میں قانونی ملازمت اختیار کی، مگر چند سال بعد پاکستان واپسی پر اپنا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل پایا، حالانکہ وہ اب مکمل طور پر قانونی طریقے سے کام کر رہا تھا۔
ماہرین کے مطابق ایسے تجربات بھی بعض افراد میں یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ ایک بار غلطی ہوجانے کے بعد نظام انہیں دوبارہ خود کو منوانے کا پورا موقع نہیں دیتا، جس سے بیرونِ ملک مستقل رہائش اختیار کرنے کی خواہش مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانیوں میں بیرونِ ملک سیاحت کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ گیلپ پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران 90 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک سفر پر گئے اور انہوں نے غیر ملکی سیاحت پر تقریباً 4 ارب ڈالر خرچ کیے۔ بعض مبصرین کے نزدیک یہ اعداد و شمار اس بات کی بھی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد بیرونی دنیا کو قریب سے دیکھنا اور نئے مواقع تلاش کرنا چاہتی ہے۔
ندیم الحق کے مطابق مسئلہ یہ نہیں کہ پاکستان میں سیاحت یا گھومنے پھرنے کے مقامات موجود نہیں، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ملک آہستہ آہستہ خوشی، آزادی اور تفریح کا احساس کھوتا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، "میں خود جب کسی آزاد ملک جاتا ہوں، حتیٰ کہ آذربائیجان جیسے مسلم ملک میں بھی چند دن گزارتا ہوں، تو وہاں رہنے کا احساس ہی مختلف اور خوشگوار ہوتا ہے۔”
اگرچہ ملک چھوڑنے کے خواہش مند افراد کی وجوہات بھی مختلف ہیں، لیکن دوسری جانب بین الاقوامی طاقتیں بھی پاکستان پر اس معاملے میں کارروائی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں کیونکہ ان کے ممالک، خصوصاً برطانیہ، میں پاکستانی پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس رجحان کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟
اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان کے ہوائی اڈوں پر نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا ہے۔ مسافروں کی جانچ پڑتال کے دوران یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آیا وہ واقعی جائز مقصد کے لیے سفر کر رہے ہیں یا مستقبل میں غیر قانونی طور پر قیام کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف نوعیت کے انٹرویوز اور جانچ کے طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں، تاہم اس پالیسی کو ملک کے اندر شدید تنقید کا بھی سامنا ہے۔
ایف آئی اے کے سابق ڈائریکٹر حسین اصغر کے مطابق، پاکستان قانونی طور پر ان افراد کو بیرونِ ملک جانے سے نہیں روک سکتا جن کے پاس درست ویزے اور سفری دستاویزات موجود ہوں۔ ان کا کہنا ہے، "اگر کسی شخص کے پاس قانونی ویزا ہے تو اسے صرف اس بنیاد پر نہیں روکا جا سکتا کہ مستقبل میں اس کے ارادے کیا ہو سکتے ہیں۔ کسی کے ممکنہ ارادوں کا تعین کرنا نہایت مشکل اور متنازع معاملہ ہے۔”
حسین اصغر کے مطابق اس رجحان کو روکنے کا واحد پائیدار حل ملک کے اندر نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ان کے خیال میں جب تک لوگوں کو اپنے ملک میں بہتر معاشی مواقع، انصاف، پیشہ ورانہ ترقی اور بہتر معیارِ زندگی میسر نہیں آتا، تب تک صرف انتظامی پابندیوں یا سخت نگرانی کے ذریعے بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کے رجحان کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں