دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
دس روزہ جنگ بندی کی تجویز، امن کو موقع ملنا چاہیے
No image دنیا ایک بار پھر اس نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ چند دنوں کی سفارت کاری تک محدود رہ گیا ہے۔ ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری عالمی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ بالعموم دنیا کے کئی ممالک اور بالخصوص پاکستان اس آگ کو بجھانے کے لیے میدان میں آ چکا ہے۔ ایرانی اور امریکی عہدیداروں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ فریقین بظاہر کتنے ہی سخت موقف کا اظہار کیوں نہ کریں اندرونی طور پر اس جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ یہ امر پاکستان کی سفارتی حیثیت اور اس کے کردار کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے کہ متحارب فریق اپنے پیغامات اور تجاویز کے لیے اسلام آباد کا انتخاب کر رہے ہیں۔
اس سلسلے میں ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کا پیغام لے کر اعلیٰ سطح کے ایرانی وفد کے ہمراہ اہم دورے پر پاکستان پہنچے تو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ان کا استقبال کرتے ہوئے کہا، امید ہے کہ ایرانی وزیر داخلہ اچھی خبر لے کر آئے ہیں۔ سکندر مومنی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کہا کہ دورے کا بنیادی مقصد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینا ہے۔ باہمی تجارتی حجم ابتدائی مرحلے میں دس ارب ڈ الر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا تھا۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کا موجودہ حجم تقریباً تین ارب ڈالر ہے۔ تجارتی ہدف کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک مناسب سہولیات اور بنیادی ڈھانچا بنائیں۔ علاقائی تعاون اور خطے کی صورتحال بھی دورے کے اہم موضوعات میں شامل ہے۔
ادھر، امریکی فوج نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات میزائل و ڈرون لانچ سائٹس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)کے مطابق، امریکی فورسز نے ایرانی فوجی کمانڈ سنٹرز، فضائی دفاع اور ساحلی نگرانی کے مقامات، بحری صلاحیتوں، میزائل اور ڈرون لانچ سائٹس اور مواصلاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا۔ ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر ایک کمرشل جہاز کو ناکارہ بنا دیا جبکہ سات شپس کا رخ موڑ دیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق، امریکی حملوں کے بعد ایران کے5 شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ان میں شمال مغربی ایران کا اہم شہر تبریز اور دو اہم بندرگاہی علاقے بھی شامل ہیں۔ تبریز، جنوب مشرقی ساحلی شہروں چابہار اور کنارک جبکہ جنوب مغربی توانائی مراکز بندر ماہشہر اور بندر امام خمینی میں بھی دھماکے ہوئے۔
جوابی کارروائی میں ایران کی طرف سے اردن کے عقبہ ائیرپورٹ پر امریکی طیاروں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جب تک امریکی کارروائیاں جاری رہیں گی اس وقت تک آبنائے ہرمز ایندھن کی ترسیل کے لیے محفوظ نہیں۔ صوبہ لرستان سے دشمن اہداف کی جانب میزائلوں کی نئی لہر داغی گئی ہے۔ کویت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ ایران نے ملک میں شہری اور اہم تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں مختلف مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔ کویت کی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل سعود عبدالعزیز نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی قابل مذمت جارحیت کے دوران وزارت بجلی، پانی اور قابل تجدید توانائی سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران تنازعہ کے سفارتی حل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے، ایران آبنائے ہرمز کو بطورِ دباؤ استعمال کر رہا ہے، امریکا عالمی بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، تاہم اس ذمہ داری کا بوجھ صرف امریکا پر نہیں ہونا چاہیے، دیگر ممالک کو بھی اس مشترکہ ذمہ داری میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ لبنان کے صدر سے ملاقات کے دوران اور فلپائن روانگی کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگوکرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔ پاکستان بھی فریقین پر زور دے رہا ہے کہ تنازعہ کا واحد حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کسی مفاہمت کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو وہ معاہدہ مؤثر نہیں رہ سکتا۔
دوسری جانب، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے لیے ثالثوں کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ ایران ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہوگی جب ایران کو میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہوگی۔ ایرانی خبررساں ادارے کوانٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل عسکری فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے۔ مذاکرات کا درست وقت وہ ہوتا ہے جب آپ فوجی محاذ پر ٹھوس میدانی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کر چکے ہوں۔ عباس عراقچی نے مزید کہا کہ آپ عوام کی زندگیوں اور ملک کے مستقبل کے معاملے میں خطرات مول نہیں لے سکتے، فیصلے درست اور مکمل حساب کتاب کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔
اس دوران ایک خوش آئند خبر یہ سامنے آئی ہے کہ ایرانی اعلیٰ عہدیدار کے مطابق مذاکرات کاروں نے دس روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ عبوری معاہدے کی بحالی اور ایران امریکا کشیدگی میں کمی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ جنگ بندی کا مقصد مفاہمتی یادداشت کو بحال کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہے۔ جنگ بندی تجویز میں آبنائے ہرمز کو دس دنوں سے دو ہفتوں کے لیے کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کشیدگی کے دوران بھی امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے فعال ہیں۔ انھوں نے بھی تصدیق کی ثالثوں کے ذریعے تجاویز ہم تک پہنچائی گئی ہیں۔
اس مثبت پیش رفت کے ساتھ ساتھ خطے میں ایک نیا خطرہ بھی سر اٹھا رہا ہے، یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب سے وابستہ بحری جہازوں کو گزرنے نہ دینے کا اعلان کر دیا ہے جس سے آبنائے باب المندب کی بندش کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث توانائی کے بحران سے نبرد آزما ہے۔ اگر باب المندب بھی بند ہو جائے تو عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ ایشیا اور یورپ تک پہنچیں گے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے کا بحران محض ایران اور امریکا کے درمیان محدود نہیں رہا بلکہ اس نے کئی محاذوں پر پھیلنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے۔ ایسے میں سفارتی کوششوں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ محاذ آرائی جتنی وسیع ہوگی، اس کے خاتمے کے لیے اتنے ہی زیادہ تدبر اور تحمل کی ضرورت پڑے گی۔
پاکستان نے ماضی میں بھی خطے کے مختلف تنازعات میں ثالث اور سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ طویل سرحد اور خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ تعلقات اسے اس نازک صورتحال میں ایک قابلِ اعتماد ثالث بناتے ہیں۔ ایرانی وفد کا اسلام آباد آنا اور دس روزہ جنگ بندی کی تجویز کا پیش کیا جانا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی قیادت نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں امن اور استحکام ہر ملک کے مفاد میں ہے اور اسی سوچ کے تحت اسلام آباد نے فریقین کے درمیان رابطے استوار رکھے۔ اس کوشش میں پاکستان اور قطر جیسے ممالک کا مشترکہ کردار بھی سامنے آیا جو اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے کے مسلم ممالک اجتماعی طور پر اس بحران کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم سبق یہ ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل کردہ فتح کبھی دیرپا امن کی ضمانت نہیں دیتی۔ خواہ کتنی ہی جدید ٹیکنالوجی اور فوجی قوت بروئے کار لائی جائے۔ بالآخر مسائل کا حل مذاکرات کی میز پر ہی تلاش کرنا پڑتا ہے۔ ایران اور امریکا کے مابین جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی بندش، حوثیوں کی جانب سے سعودی جہاز رانی کو درپیش خطرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی عدم استحکام کی کیفیت اس بات کی متقاضی ہے کہ تمام فریق سنجیدگی کے ساتھ امن کی طرف پیش رفت کریں۔ پاکستان اور دوسرے متعلقہ ممالک کو اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہییں اور بین الاقوامی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ ان مصالحتی کاوشوں کی بھرپور حمایت کرے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں