دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں ہائبرڈ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کا اہم ترین کردار
No image تحریر۔ پاکیزہ بیگم ۔ اکیسویں صدی میں انسانی تہذیب کو جن عالمی بحرانوں نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، ان میں ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی سرِفہرست ہیں۔ صنعتی انقلاب کے بعد توانائی کے حصول کے لیے کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیولز پر بڑھتے ہوئے انحصار نے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور باریک معلق ذرات (PM2.5) کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق فضائی آلودگی ہر سال لاکھوں قبل از وقت اموات کا سبب بنتی ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق ٹرانسپورٹ کا شعبہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں نمایاں حصہ رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ہائبرڈ (Hybrid) اور الیکٹرک (Electric) ٹرانسپورٹ کو ماحولیاتی تحفظ کی ایک بنیادی حکمتِ عملی کے طور پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
روایتی پٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں اندرونی احتراقی انجن (Internal Combustion Engine) کے ذریعے ایندھن جلاتی ہیں، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈز اور دیگر مضر گیسیں خارج ہوتی ہیں۔ یہی گیسیں نہ صرف گلوبل وارمنگ کو تیز کرتی ہیں بلکہ دمہ، پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور سانس کی متعدد بیماریوں کا بھی باعث بنتی ہیں۔ اس کے برعکس الیکٹرک گاڑیاں براہِ راست ایگزاسٹ گیس خارج نہیں کرتیں، جبکہ ہائبرڈ گاڑیاں پٹرول انجن اور برقی موٹر کے امتزاج سے ایندھن کی کھپت اور آلودگی دونوں میں نمایاں کمی لاتی ہیں۔
ہائبرڈ ٹیکنالوجی دراصل ایک عبوری اور متوازن حل ہے۔ یہ گاڑیاں کم رفتار پر برقی موٹر استعمال کرتی ہیں، جبکہ زیادہ طاقت کی ضرورت کے وقت پٹرول انجن معاونت فراہم کرتا ہے۔ جدید ہائبرڈ نظام بریک لگانے کے دوران پیدا ہونے والی توانائی کو دوبارہ بیٹری میں محفوظ (Regenerative Braking) بھی کر لیتا ہے، جس سے توانائی کا ضیاع کم اور کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں ایندھن کی بچت اور کاربن کے اخراج میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔
دوسری جانب مکمل الیکٹرک گاڑیاں لیتھیم آئن بیٹریوں اور طاقتور برقی موٹروں سے چلتی ہیں۔ ان میں انجن آئل، اسپارک پلگ، گیئر باکس اور متعدد مکینیکل پرزوں کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے دیکھ بھال کے اخراجات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اگر ان گاڑیوں کو شمسی، پن بجلی، ہوا یا دیگر قابلِ تجدید ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی فراہم کی جائے تو ان کا مجموعی کاربن اخراج انتہائی کم ہو جاتا ہے، اور یہی ماحولیاتی پائیداری کی حقیقی منزل ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اس میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ناروے میں نئی فروخت ہونے والی بیشتر گاڑیاں برقی ہیں، جبکہ چین دنیا میں الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں کا سب سے بڑا پیداواری مرکز بن چکا ہے۔ یورپی یونین، جاپان، جنوبی کوریا اور امریکہ بھی روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے استعمال میں مرحلہ وار کمی لانے کے لیے قانون سازی اور مالی مراعات فراہم کر رہے ہیں۔ اس عالمی رجحان کا بنیادی مقصد صرف ایندھن کی بچت نہیں بلکہ کاربن کے اخراج میں کمی، توانائی کے تحفظ اور صحتِ عامہ کو بہتر بنانا ہے۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ہائبرڈ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ملک ہر سال اربوں ڈالر مالیت کا پٹرولیم درآمد کرتا ہے، جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر مسلسل دباؤ رہتا ہے۔ اگر عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ کا ایک بڑا حصہ بتدریج برقی یا ہائبرڈ نظام پر منتقل ہو جائے تو نہ صرف ایندھن کی درآمدات کم ہوں گی بلکہ قومی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں فضائی آلودگی کی شدت کم کرنے میں بھی یہ تبدیلی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم اس انقلاب کی کامیابی کے لیے چند بنیادی شرائط ناگزیر ہیں۔ ملک بھر میں تیز رفتار چارجنگ اسٹیشنز کا قیام، بجلی کے مستحکم نظام کی فراہمی، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری، بیٹری ری سائیکلنگ کا مؤثر انتظام، مقامی سطح پر برقی گاڑیوں کی تیاری اور عوامی آگاہی کی مہمات اس تبدیلی کے بنیادی ستون ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو ٹیکس میں رعایت، آسان مالیاتی سہولیات اور صنعتی پالیسی کے ذریعے مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے تاکہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ عام شہری کی دسترس میں آ سکے۔
یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ الیکٹرک گاڑیاں اس وقت ہی مکمل ماحولیاتی فائدہ دیتی ہیں جب بجلی کی پیداوار بھی نسبتاً صاف ذرائع سے ہو۔ اگر بجلی بڑی حد تک کوئلے یا فرنس آئل سے پیدا کی جائے تو مجموعی کاربن اخراج میں کمی محدود رہ سکتی ہے۔ اس لیے الیکٹرک ٹرانسپورٹ کو شمسی، ہوائی، پن بجلی اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کے ساتھ مربوط کرنا ناگزیر ہے۔
حرفِ آخر یہ ہے کہ ہائبرڈ اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ محض ایک جدید ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ماحولیاتی، معاشی اور سماجی حکمتِ عملی ہے۔ یہ فضائی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور توانائی کے بحران جیسے متعدد مسائل کا بیک وقت حل پیش کرتی ہے۔ اگر پاکستان بروقت منصوبہ بندی، سائنسی تحقیق، صنعتی ترقی اور مؤثر پالیسی سازی کے ذریعے اس عالمی تبدیلی کا حصہ بن جائے تو نہ صرف شہری فضا زیادہ صاف، صحت مند اور محفوظ ہوگی بلکہ قومی معیشت بھی درآمدی ایندھن کے بوجھ سے بڑی حد تک آزاد ہو سکے گی۔ مستقبل کی پائیدار تہذیب کا راستہ دھوئیں سے بھرے انجنوں سے نہیں بلکہ صاف، خاموش اور ماحول دوست برقی توانائی سے روشن ہوگا، اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ، سرسبز اور متوازن زمین کی ضمانت ہے۔
واپس کریں