دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
19 جولائی 1947 کی قراردار الحاق پاکستان ۔ جسٹس مجید ملک کی کتاب "خودنوشت" میں تبصرہ
No image قرار داد الحاق پاکستان ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ء ۔ مسلم کانفرنس اگر چہ الحاق پاکستان کے نظریہ کی حامل رہی ہے اور اس کا دعوئی رہا ہے کہ جنرل کونسل کے سرینگر میں منعقد کیے گئے اجلاس میں ، ۱۹ جولائی ۱۹۴۷ء کو کثرت رائے سے پاس ہونے والی ، قرارداد میں مہاراجہ سے مطالبہ کیا گیا تھا، کہ ریاست کا پاکستان سے الحاق کیا جائے اور مہاراجہ ریاست کا حکمران رہے۔ اس کا اظہار سردار ابراہیم خان نے اپنی کتاب ”کشمیر ساگا میں صفحہ ۳۴ پر کیا ہے۔ اس قرارداد کی نقول مہا راجہ اور مسلم لیگ کے صدر کو ارسال کی گئی تھیں، مگر اس کا کیا جواب ملا ، اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ خواجہ یوسف صراف صاحب نے کشمیر ریز فائٹ فار فریڈم اور چند دیگر مصنفین نے بھی اس قرارداد کا حوالہ دیا ہے ۔ بادی النظر میں اس سے، اختلاف کرنا شاید مناسب نہ ہو، مگر چند واقعات اس کی تردید کا باعث ہیں ۔ ان کے حوالہ کے بعد نتیجہ مستقبل کے، بے لاگ مؤرخ پر چھوڑ دینا مناسب ہوگا ۔ اول اس قرارداد کے منظور نہ ہونے کا اظہار مسلم کا نفرنس کے سیکریٹری جنرل پروفیسر اسحاق قریشی نے اپنے انٹرویو انگریزی ماہنامہ ہیرلڈ کراچی ماہ مارچ ۱۹۹۳ء میں کیا ہے۔ دوئم ، ۴ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو قائم کی جانے والی عبوری حکومت اور مہا راجہ کی حکومت کے معزول کیے جانے والے مسلم کا نفرنس کے لیڈروں کی طرف سے جاری ہونے والے اور ریڈیو پاکستان کی نیوز بلیٹن میں نشر ہونے اور انگریزی روز نامہ سول ملٹری گزٹ لاہور میں نے راکتو بر کو شائع ہونے والے اعلان میں اس قرارداد کا ذکر نہیں ہے، سوئم ۲۴۰ اکتوبر کو عبوری حکومت کا اعلامیہ، جو سردار ابراہیم کی کتاب ”کشمیر ساگا کے صفحہ ۱۱۸ میں درج ہے، اس میں اس کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس کے قطعی برعکس، ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں سے، ریاست کی آزادی کی جدو جہد کی حمایت کرنے کی اپیل کی گئی تھی ۔ اور آخر میں کہا گیا کہ جب ریاست مکمل آزاد ہو جائے گی ، تب رائے شماری میں فیصلہ کیا جائے گا، کہ آیا الحاق ہندوستان سے کرنا ہے یا پاکستان کے ساتھ ۔ یہ اعلامیہ، سردار ابراہیم صدر عبوری حکومت اور اس کی مسلم کا نفرنس کی کا بینہ نے جاری کیا تھا ، جو اب تک جوں کا توں ہے۔ بالفرض ۱۹ جولائی کی سفارشی قرارداد منظور کی گئی تھی، تو عبوری حکومت ، جس کو بقول سردار ابراہیم مسلم کانفرنس کی مکمل حمایت حاصل تھی ، اس کے اعلامیہ ہے، اس کی حیثیت اور اہمیت ختم ہوگئی۔ علاوہ ازیں جب ہندوستان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کیم جنوری ۱۹۴۸ء میں، پاکستان کے خلاف پیش کیا، تو پاکستان کی طرف سے ۱۵ جنوری کو پیش کردہ مفصل جواب میں ، پوری تحریک آزادی اور مسلم کانفرنس کے کردار کا تذکرہ ہے۔ لیکن ۱۹ جولائی کی قرارداد کا کوئی ذکر نہیں ہے اور نہ ہی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کی طویل ترین تقریر میں ، اور ہندوستان پاکستان کے درمیان، کشمیر سے متعلق خط و کتابت اور ٹیلی گراموں میں اس کا حوالہ ملتا ہے۔ جب مہاراجہ کے ہندوستان کے ساتھ ریاست کے عبوری الحاق کا دعوی کیا گیا، تو بقول صدر عبوری حکومت سردار ابراہیم ، وہ بھاگتے ہوئے کراچی پہنچے اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو، ریاست کا پاکستان سے الحاق کرنے کی پیشکش کی مگر ان کی تجویز کو پذیرائی نہ ملی۔ اگر یہ بات صحیح ہے، تو اس سے پتا چلتا ہے کہ عبوری حکومت کے صدر اور مسلم کا نفرنس کی کیا وقعت تھی ۔ حقیقت یہ تھی کہ ان دنوں قائد اعظم اور لیاقت علی خان لاہور میں تھے اور سردار ابراہیم کشمیر سا گا، میں شکایت کرتے ہیں کہ بسیار کوشش کے باوجود، ان کی قائد اعظم سے ملاقات نہ ہو سکی۔ مگر پروفیسر اسحاق قریشی کا کہنا تھا، کہ عبوری حکومت کے اعلان اور مظفر آباد پر قبائلیوں کے حملہ کے بعد، چوہدری حمید اللہ اور وہ لاہور میں قائد اعظم سے ملے تو قبائلی حملہ اور عبوری حکومت کے قیام پر، وہ سخت غصہ میں تھے اور حمید اللہ سے ناراض ہوئے اور کہا، کہ اس غلطی کا خمیازہ تمہیں بھگتا ہوگا ، جس پر حمید اللہ کے اپنی ڈائری میں، میٹنگ میں حکومت بنانے کی ان کو جو پیشکش ہوئی ، اس کو ٹھکرانے اور انکار کرنے کی تفصیل بتانے پر ، قائد اعظم خاموش ہو گئے۔ اپنے انٹرویو سے قبل اسحاق قریشی نے ان ملاقاتوں اور قائداعظم کے اس وقت کے رد عمل کا اظہار، ہمارے ساتھ میر پور میں بھی کیا بلکہ ایک دفعہ، میر پور ہوٹل جبیر میں، مجید نظامی روزنامہ نوائے وقت کی موجودگی میں بھی ذکر کیا۔ نوائے وقت میں ان کے مضامین اور انٹرویو بھی شائع ہوئے تھے، ان کے مطالعہ سے معلومات حاصل ہو سکتی ہیں، کہ عبوری حکومت کیسے اور کیوں بنائی گئی تھی؟ اور یہ کہ اس کے بعد ، مطلوبہ مقاصد حاصل ہوئے کہ نہیں ۔ ایک رائے ، غلط یا درست یہ بھی ہے، کہ مہاراجہ نے سر جون کے اعلان آزادی اور ۱۵ اگست کو نفاذ قانون آزادی ہند کے تحت، انتقال اقتدار کبق ہندوستان و پاکستان منتقل ہونے سے لے کر مظفر آباد اور بارہمولہ پر ۲۲ اکتوبر سے ۲۶ اکتوبر کے قبائلی حملہ تک، با وصف وائسرائے ماؤنٹ بیٹن ، مہاتما گاندی اور کانگریسی لیڈروں کے دباؤ کے، ہندوستان سے الحاق نہ کیا تھا۔ اگر قائلی حملہ نہ کیا جاتا تو ہندوستان کو کشمیر میں فوج داخل کرنے کی جوازیت نہ ملتی اور جموں کشمیر کی پوزیشن مختلف ہوتی لیکن سردار پٹیل کی نو جلدوں پر محیط ، خط و کتابت اور پروفیسر السٹر لیب کی کتاب سپونڈ لیگیسی کی دستاویزی تحقیق سے پہلی رائے کی تردید ہوتی ہے اور اس بات کو تقویت ملتی ہے، کہ اندرون خانہ مہاراجہ ، ہندوستان سے الحاق کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس کا صرف یہ پہلو تشنہ تھا، کہ قبائلی غیر منظم تھے۔ ان کی دلچسپی کشمیر پر تسلط قائم کرنے کی بجائے لوٹ کھسوٹ میں زیادہ تھی ، ان کی مہم غیر سنجیدہ ثابت ہوئی ، اس کے برعکس . ریاست کے مقامی سابق فوجیوں نے ، بہترین فوجی مہارت اور حکمت سے محدود وسائل اور مقامی ساخت کے قدیم اسلحہ کے استعمال سے، آزاد خطہ حاصل کیا اور جواں مردی سے اس کا دفاع کیا ۔ ہندوستان کی کثیر تعداد ، با قاعدہ جدید اور بھاری اسلحہ سے لیس ، ٹینکوں ، توپ خانہ اور ہوائی فوج کے بھر پور حملہ کا مقابلہ ، اس دور کا تاریخ ساز کارنامہ تھا۔ اگر وہ اسلحہ اور ہوائی مدد، آزاد کشمیر کی فوج کے پاس ہوتی تو تاریخ مختلف ہوتی ۔
واپس کریں