پٹرولیم نرخوں کے روزانہ تعین سے اٹھتے مہنگائی کے نئے سونامی۔

حکومت کی جانب سے اوگرا کے ذریعے پٹرولیم نرخوں کے روزانہ تعین کے باعث جہاں عوام کو اپنے گھریلو اخراجات کا بجٹ بنانے میں پریشانی لاحق ہو رہی ہے وہیں ناجائز منافع خور تاجر طبقات کو عوام کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹنے کا نادر موقع بھی مل گیا ہے۔ دو روز قبل پٹرولیم نرخوں کے نئے حکومتی فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی نجی ٹرانسپورٹروں نے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی فوری اضافہ ہو گیا۔ اسی طرح مارکیٹوں میں بھی تاجروں دکانداروں نے اپنی اشیاء کے من مانے نرخ مقرر کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹنا شروع کردیا۔ عوام ابھی تک اسی شش و پنج میں ہیں کہ آج انہوں نے جن نرخوں پر اشیائے خورد و نوش خریدی ہیں کل انہیں یہی اشیاء کن نرخوں پر ملیں گی۔ اس صورت حال میں عوام میں اضطراب پیدا ہونا لازمی امر ہے۔ حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا روزانہ تعین کرنے کی نئی پالیسی ایسے وقت میں لاگو کی گئی ہے جب مہنگائی نے پہلے ہی عوام کو زندہ درگور کر رکھا ہے۔ حکومت اس پالیسی کے جواز میں جو بھی تاویلیں پیش کرے، عوام ان سے مطمئن نہیں ہو سکتے کیونکہ اس نظام نے فی الحقیقت ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے لیے لوٹ مار کے نئے دروازے کھول دئیے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ قیمتوں میں معمولی اضافے کو بھی جواز بنا کر اشیائے ضروریہ کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں جبکہ عالمی یا مقامی سطح پر قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام شہری تک بروقت نہیں پہنچ پاتا۔ پٹرولیم نرخوں کے روزانہ تعین کے فیصلہ کے ساتھ ہی حکومت نےٹرانسپورٹر حضرات کو مطمئن کرنے کے لئے انہیں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں آٹھ فیصد اضافے کی از خود اجازت دے دی جس سے عوام کی اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس سے روزگار، تعلیم اور علاج کی غرض سے سفر کرنے والے لاکھوں افراد براہ راست متاثر ہوں گے۔ یہ امر واقع ہے کہ پٹرولیم نرخوں میں اضافہ کے فوری اثرات اشیائے خورد و نوش، سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری سامان کے نرخوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں مارکیٹوں میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لیتی ہے۔اس وقت تشویش ناک صورت حال یہ ہے کہ اب تاجر حضرات بھی پٹرولیم نرخوں کو بنیاد بنا کر روزانہ اشیائے ضروریہ کے نرخ مقرر کرنے لگے ہیں جس کے باعث صارفین کے لیے کسی چیز کی حقیقی قیمت کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے جبکہ انتظامی نگرانی کمزور ہونے کے باعث ناجائز منافع خوروں کو عملاً کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ بے شک آج مہنگائی ایک سماجی اور نفسیاتی مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ جب عام آدمی کی آمدنی میں کوئی اضافہ نہ ہو رہا ہو اور روزمرہ اخراجات مسلسل بڑھتے چلے جائیں تو اس کے اندر مایوسی، بے چینی اور ریاستی نظام پر عدم اعتماد پیدا ہونا فطری امر ہے جبکہ عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی کسی بھی حکومت کے لیے لمحۂ فکریہ ہونی چاہیے۔اندریں حالات ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت قیمتوں کے تعین کے نئے نظام کے ساتھ ساتھ سخت اور مؤثر نگرانی کا نظام بھی قائم کرے۔ مصنوعی مہنگائی روکنے کے لئے ضلعی انتظامیہ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اور متعلقہ ادارے فعال کردار ادا کریں تاکہ ناجائز منافع خوری کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ اسی طرح پٹرولیم نرخوں میں کمی کی صورت میں ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی فوری کمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔آج عوام کو سب سے زیادہ ضرورت بہتر طرزِ حکمرانی کی ہے۔ ایسی پالیسیاں جو عوامی مشکلات میں اضافہ کا باعث بنیں یا جن سے لوٹ مار کے امکانات بڑھ جائیں، وہ عوام کے لئے قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔ حکومت اگر عوام کو دیوار سے لگانے کے بجائے اپنی گورننس بہتر بنانے اور عام آدمی کو حقیقی ریلیف دینے پر توجہ دے تو اس سے نہ صرف مہنگائی کے منفی اثرات میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ عوام کا ریاستی نظام پر اعتماد بھی بحال کیا جا سکتا ہے۔ بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں