دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آبنائے ہرمز کا بحران اور عالمی امن کا امتحان
No image امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کے محافظ کے نام سے جانا جائے گا۔ ناکہ بندی صرف ایرانی بحری جہازوں اور ان کے گاہکوں کو روکے گی۔ ایران کے سوا دیگر ملکوں کو آبنائے ہرمز آزادانہ استعمال کرنے کی مکمل اجازت ہو گی۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگوز پر 20 فیصد کی شرح سے فیس لیں گے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور نئے طریقہ کار کا عمل فوری شروع کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے ’فاکس اینڈ فرینڈز‘ کو انٹرویو میں کہا کہ جلد آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ ہم آبنائے ہرمز کے سرپرست بنیں گے۔ ہمیں آبنائے ہرمز کی نگرانی کے عوض دنیا سے بھی معاوضہ ملے گا۔ ہم اپنے لوگوں کو خطرے میں ڈالنے کا معاوضہ چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہمارا ایران سے معاہدہ ہوا جو اس نے توڑ دیا۔ ایرانی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ برے لوگوں کا ایک گروپ ہے۔ وہ ہمیشہ معاہدہ توڑ دیتے ہیں اس لیے اب ہم انھیں سخت نشانہ بنائیں گے۔ ہم آبنائے ہرمز کو اپنے پاس رکھیں گے اور شاید اسے ہم ہی چلائیں۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکی ہے۔ واضح رہے کہ 17 جون کو صدر ٹرمپ اور ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے درمیان جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جسے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے سے دنیا بھر میں یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خلیج کا یہ اہم ترین آبی راستہ، جہاں سے دنیا کے تیل کی رسد کا خاصا بڑا حصہ گزرتا ہے، دوبارہ معمول پر آ جائے گا مگر یہ امید زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ رپورٹس کے مطابق، ایک ہفتہ قبل خلیج میں تجارتی جہازوں پر حملے دوبارہ شروع ہوئے جس کے بعد امریکا نے ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں دوبارہ عائد کیں اور امریکی فوجی مرکز نے ایرانی فوجی تنصیبات پر حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا۔ نتیجتاً وہ جنگ بندی جو کچھ عرصہ قبل خطے میں سکون کی نوید بنی تھی عملاً ختم ہو گئی۔
امریکی صدر جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ طاقت کے نشے میں یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں۔ ان کے ان بیانات پر اور تازہ پیش رفت پر ایران کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی فوجی ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت امریکا کو آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں ہونے دے گا۔ ایران کا موقف یہ ہے کہ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور یکطرفہ طور پر ایسے اقدامات کیے ہیں جو باہمی اعتماد کی بنیادوں کو مجروح کرتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے امریکی صدر کی طرف سے تجویز کردہ بیس فیصد فیس کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کی نگہبانی کی ذمہ داری ایران کی ہے، امریکا کی نہیں، اور اگر کسی کو اس کا معاوضہ ملنا ہے تو وہ ایران کا حق ہے، امریکا کا نہیں۔ عالمی سطح پر بھی امریکی اقدام کو قانونی جواز سے محروم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی بحری تنظیم نے واضح کیا کہ بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں سے گزرنے پر کسی بھی قسم کی جبری فیس عائد کرنے کی کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں اور یہ اصول امریکی وزیر خارجہ کے اپنے پہلے دیے گئے بیانات سے بھی مطابقت رکھتا ہے کہ کوئی ملک بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹیکس یا فیس عائد نہیں کر سکتا۔
اس حوالے سے ترجمان چینی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کے معاملے کو مناسب طریقے سے نمٹایا جانا چاہیے۔ آبنائے ہرمز بین الاقوامی بحری آمد و رفت کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور اس میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کی بحالی تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔
اطلاعات کے مطابق، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی ٹریفک پانچ ہفتوں کی کم ترین سطح پر آگئی۔ میرین ٹریفک ویب سائٹ کے مطابق 24 گھنٹوں میں صرف 5 کمرشل جہاز آبنائے ہرمز عبور کرپائے جن میں دو بڑے خام تیل بردار جہاز شامل ہیں، تین خالی ٹینکر بھی خلیج میں داخل ہوئے۔ زیادہ تر بحری جہازوں نے عمان کی بجائے ایرانی راستے کو ترجیح دی۔
ادھر، خلیجی ممالک میں امریکا کے اڈوں پر حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی اڈوں پر حملے حق دفاع کے تحت کیے گئے۔ ایران کو دفاع پر موردِ الزام ٹھہرانا سراسر غلط ہے۔ امریکا کے حالیہ حملوں نے چند ماہ کی تمام سفارتی کوششوں کو بے معنی اور ناکام بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو اڈے دینے والے ممالک کو جواب دینا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ مسلسل ایران کے موقف کو نظر انداز کررہا ہے۔ عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اصل ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ امریکا نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیاں کیں۔ امریکا کے خلاف جوابی کارروائیاں ایران کا جائز حق ہے۔ امریکا مفاہمتی یادداشت میں واضح کی گئیں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا۔ ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر عمان کے ساتھ مشترکہ طریقۂ کار تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا کا عمان پر دباؤ اس عمل میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ خطے کو کشیدگی سے بچانے کے لیے پاکستان، قطر اور عمان سے رابطے میں ہیں۔
اس پورے تنازعہ میں پاکستان کا کردار پہلے بھی کم اہم نہیں تھا لیکن نئی صورتحال میں پاکستان کے کردار کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے باکو میں ایک عالمی میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازعہ کو ختم کرانے کی صلاحیت صرف اور صرف پاکستان کے پاس ہے۔ انھوں نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی عسکری قیادت کی امن کاوشوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام میں کامیاب ہو گا۔ یہ بیان اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان ابتدا سے ہی اس تنازعہ میں غیر جانبدارانہ مگر فعال ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس صورتحال میں ایران کے پاکستان سے رابطے اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پاکستان پر اعتماد کرتا ہے اور اس کی قیادت کو یقین ہے کہ پاکستان اس مشکل صورتحال میں سے نکلنے کی کوئی سبیل پیدا کر سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر کا جارحانہ انداز اور بیانات اس بحران کو مزید گھمبیر بنانے کا باعث بن رہے ہیں۔ ایرانی ردعمل بھی بہت سخت ہے لیکن وہ بہرطور ردعمل ہے۔ اس صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا فریقین اس تباہ کن روش سے واپس آنے کو تیار ہیں یا نہیں۔ اگر امریکا اور ایران دونوں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کریں اور اس معاہدے کی روح کے مطابق آبنائے ہرمز کو غیر مشروط طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلا رکھیں تو خطہ عدم استحکام کی دلدل سے نکل کر امن کی جانب لوٹ سکتا ہے۔ لیکن اگر کشیدگی جاری رہی تو اس خطے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بحری تجارت میں تعطل اور سرمایہ کاری کی غیر یقینی صورتحال یہ سب اس بحران کے فوری اثرات ہیں جن کی جھلک عالمی منڈیوں میں نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں