ہم پاکستانی کیوں نہ بن سکے؟ ریاست، قوم اور ہمارے ادھورے خواب ۔ ظفر اللہ خان

یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔ بلوچستان میں ریاست مخالف سرگرمیاں جاری ہیں، خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، اور آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کی تحریک کے تناظر میں ایک نئی کشیدگی جنم لے چکی ہے۔ کراچی یونیورسٹی جیسے تعلیمی اداروں میں بھی ایسے نعرے سنائی دیتے ہیں جو قومی وحدت کے لیے تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہر خطہ اپنی الگ شناخت کی آواز بلند کر رہا ہے، جبکہ قومی شناخت پس منظر میں چلی گئی ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ہم یہاں تک کیسے پہنچے؟
اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے ہمیں تحریکِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے تاریخی پس منظر کا غیر جذباتی جائزہ لینا ہوگا۔ 1940ء میں قراردادِ لاہور پیش ہوئی اور برصغیر کے مسلمانوں نے پہلی مرتبہ ایک الگ وطن کا واضح تصور اختیار کیا۔ محض سات برس بعد پاکستان وجود میں آ گیا۔ عالمی جنگ کے بعد برطانوی حکومت کی بدلتی ہوئی سیاسی اور عسکری ترجیحات بھی برصغیر سے انخلا کے اہم عوامل میں شامل تھیں۔
پاکستان کو آزادی تو مل گئی، مگر ایک ایسی حالت میں کہ نہ مضبوط معاشی ڈھانچہ موجود تھا، نہ انتظامی تیاری، نہ تجربہ کار افرادی قوت، اور نہ ہی نئے ملک کے لیے جامع منصوبہ بندی۔ تقسیمِ ہند کا طریقۂ کار بھی کئی مستقل مسائل چھوڑ گیا۔ پھر اس نوزائیدہ ریاست کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح جلد ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ میری ذاتی رائے میں اگر پاکستان کو مضبوط ادارے قائم کرنے اور قائداعظم کی قیادت مزید کچھ برس میسر آتی تو شاید ہماری قومی سمت مختلف ہوتی۔
ایک اور بڑا المیہ یہ تھا کہ ملک کو اپنا پہلا آئین بنانے میں تقریباً نو برس لگ گئے۔ 1956ء کا آئین بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ بعد ازاں آئین شکنی، بار بار غیر آئینی مداخلت، کمزور جمہوری روایات، ناقص طرزِ حکمرانی، کرپشن، اقربا پروری اور ادارہ جاتی عدم توازن نے ریاست کو مسلسل کمزور کیا۔
سب سے بڑھ کر ہم ایک مضبوط پاکستانی قوم نہ بن سکے۔ ہم سندھی، بلوچی، پختون، پنجابی، سرائیکی، ہزارہ، مہاجر اور بنگالی تو رہے؛ ہم شیعہ، سنی، دیوبندی اور بریلوی بھی رہے؛ لیکن ہماری مشترکہ پاکستانی شناخت ان تمام شناختوں پر غالب نہ آ سکی۔ یہی وہ خلا تھا جس سے اندرونی تقسیم نے جنم لیا اور بیرونی قوتوں کو مداخلت کے مواقع ملتے گئے۔
آج بھی وقت ہاتھ سے مکمل طور پر نہیں نکلا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین کی بالادستی کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے، اقتدار حقیقی معنوں میں عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس ہو، ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے، اور ریاست و عوام کے درمیان ایک نئے عمرانی معاہدے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ خارجہ پالیسی قومی مفاد، خودمختاری اور طویل المدتی حکمتِ عملی کی بنیاد پر استوار کی جائے، جبکہ نظریۂ پاکستان اور قیامِ پاکستان کے بنیادی مقاصد پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔
قومیں صرف سرحدوں سے نہیں، انصاف، قانون کی حکمرانی، مشترکہ شناخت اور عوام کے باہمی اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔
اگر ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا تو شاید آنے والی نسلیں بھی یہی سوال پوچھتی رہیں گی کہ پاکستان تو بن گیا تھا، مگر کیا ہم کبھی پاکستانی بن سکے؟
واپس کریں