دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
افغانستان، بھارت اور پاکستان کے سلامتی خدشات
No image (خالد خان کی نئی تصنیف "افغان پنڈت" سے انتخاب) افغانستان کی جغرافیائی حیثیت نے اسے ہمیشہ خطے کی سلامتی سیاست کا مرکز بنائے رکھا ہے۔ یہ ملک صرف اپنے داخلی مسائل کی وجہ سے اہم نہیں بلکہ اس کے حالات کا اثر براہ راست پاکستان، بھارت، وسطی ایشیا اور عالمی طاقتوں تک پہنچتا ہے۔ اسی لیے افغانستان کو دنیا کے تمام ممالک اپنی اپنی سلامتی، مفادات اور مستقبل کی حکمت عملی کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے افغانستان سب سے پہلے ایک پڑوسی ملک ہے جس کے ساتھ طویل سرحد، تاریخی تعلقات اور مشترکہ سماجی روابط موجود ہیں۔ لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے تجربات نے پاکستان کے سلامتی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو تحریک طالبان پاکستان اور دیگر مسلح گروہوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان نے متعدد مواقع پر افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
پاکستانی ریاست نے بعض گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی شامل ہیں، کو بیرونی معاونت حاصل ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان کے مطابق ان گروہوں کو مالی، تربیتی اور منصوبہ بندی کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ پاکستان نے ان سرگرمیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ان الزامات پر مختلف فریقوں کے اپنے اپنے مؤقف موجود رہے ہیں، جس نے خطے کی سیاست کو مزید پیچیدہ بنایا۔
بھارت کے سلامتی خدشات کا زاویہ مختلف ہے۔ نئی دہلی طویل عرصے سے افغانستان کو دہشت گردی، انتہا پسندی اور علاقائی رابطوں کے تناظر میں اہم سمجھتا ہے۔ بھارت کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان میں موجود بعض شدت پسند گروہ اس کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں۔ اسی وجہ سے بھارت نے افغانستان میں سیاسی اور ترقیاتی روابط کو اپنی علاقائی حکمت عملی کا حصہ بنایا۔
پاکستان بھارت کی افغانستان میں موجودگی کو اکثر اپنی سلامتی کے تناظر میں دیکھتا رہا ہے۔ خاص طور پر بھارتی سفارتی مراکز، ترقیاتی منصوبوں اور افغانستان کے ساتھ قریبی تعلقات کو پاکستان میں بعض حلقوں نے تزویراتی مقابلے کے طور پر دیکھا۔ پاکستان کا خدشہ رہا کہ افغانستان کی سرزمین کو اس کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، جبکہ بھارت اپنے کردار کو افغان عوام کی مدد اور علاقائی روابط کے فروغ سے جوڑتا رہا ہے۔
افغانستان کا اپنا سب سے بڑا سلامتی مسئلہ یہ ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے بیرونی مقابلوں اور داخلی تنازعات کا شکار رہا ہے۔ مختلف ادوار میں بڑی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے مفادات نے افغانستان کی سیاست کو متاثر کیا، لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان افغان عوام نے اٹھایا۔ ایک مضبوط اور خودمختار افغانستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔
خطے کی موجودہ صورتحال یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا افغانستان ہمیشہ سلامتی کے خطرات کا مرکز رہے گا یا علاقائی تعاون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردی، سرحدی مسائل اور سیاسی عدم اعتماد نے تینوں ممالک کے درمیان فاصلے پیدا کیے، لیکن تجارت، توانائی اور رابطوں کے امکانات بھی اسی جغرافیے میں موجود ہیں۔
سلامتی صرف فوجی طاقت کا نام نہیں بلکہ سیاسی استحکام، معاشی ترقی، مضبوط اداروں اور عوامی اعتماد سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ افغانستان میں اگر داخلی استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے خطے پر مثبت پڑ سکتے ہیں۔ لیکن اگر افغانستان ایک بار پھر علاقائی مقابلے کا میدان بنتا ہے تو عدم استحکام کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔
افغانستان، پاکستان اور بھارت کے سلامتی خدشات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک ملک کی تشویش دوسرے ملک کی پالیسی سے متاثر ہوتی ہے۔ اسی لیے اس خطے کا مستقبل صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہوگا کہ ممالک اپنے خدشات کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور اپنے مفادات کو کس حد تک ذمہ دارانہ انداز میں آگے بڑھاتے ہیں۔
افغانستان کی اصل ضرورت یہ ہے کہ وہ امن، خودمختاری اور علاقائی توازن کے درمیان ایک ایسا راستہ تلاش کرے جہاں اس کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی طاقت کے مقابلے کا میدان بنے۔ یہی راستہ افغانستان اور پورے خطے کے لیے پائیدار استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
واپس کریں