امریکا کے ایران میں 140 اہداف پر حملے، آبنائے ہرمز بند

امریکا کی ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیاں امن کی کوششوں کو مشکل تر بناتی جا رہی ہیں اور ان کی وجہ سے پاکستان سمیت ثالثی اور قیامِ امن کی کوششیں کرنے والے تمام ممالک کی مشکلات میں بھی اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف تین روز کے دوران حملوں کے تیسرے مرحلے میں تقریباً 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کے مطابق، یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کی گئیں۔ سینٹ کام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران زمینی اور بحری اڈوں سے پرواز کرنے والے جنگی طیاروں، ڈرونز اور امریکی بحری جہازوں سے جدید اور انتہائی درست ہتھیار استعمال کیے گئے۔ بیان کے مطابق، حملوں میں ایران کے میزائل اور ڈرون تنصیبات، بحری اثاثے، اسلحہ گودام، مواصلاتی مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ تین راتوں پر مشتمل ان کارروائیوں میں مجموعی طور پر 300 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق، ان حملوں کا مقصد ایران کی اس صلاحیت کو کمزور کرنا ہے جس کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
دوسری جانب، امریکی حملوں کے ردعمل میں ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر جوابی میزائل حملے کیے اور آبنائے ہرمز تاحکم ثانی بندکردی۔ ایران کے پارلیمانی سپیکر و ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ یکطرفہ معاہدوں کا دور اب ختم ہو چکا ہے، اب قیمت چکانا پڑے گی۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ اپنا وعدہ پورا کرو ورنہ اس کی قیمت چکانا پڑے گی، حقیقت اب تمھارے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ابھی تک یہ سبق نہیں سیکھا کہ دھونس، طاقت کے زور اور وعدہ خلافی کی اب کوئی قیمت ادا کیے بغیر گنجائش نہیں رہی، صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ اگر حملہ کرو گے تو جواب بھی ملے گا۔ باقر قالیباف نے امریکا سے کہا کہ بے سود ہاتھ پاؤں نہ مارو، ورنہ مزید دلدل میں دھنس جاؤگے، آبنائے ہرمز صرف ایرانی انتظامات کے تحت ہی کھل سکتی ہے، امریکی دھمکیوں کے ذریعے نہیں۔
سوشل میڈیا پر اپنے بیان کے ساتھ باقر قالیباف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا ایک عکس بھی لگایا جس میں لکھا ہے کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہونے کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران اپنی بھرپور کوششوں کے ذریعے اس بات کے انتظامات کرے گا کہ خلیج فارس سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج فارس جانے والے تجارتی جہاز صرف 60 دن تک بغیر کسی فیس یا چارج کے محفوظ طریقے سے آمدورفت کر سکیں گے۔
ادھر، پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو اگلے حکم تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ بحریہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز میں غیر ملکی مداخلت اور جہاز رانی کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی راستہ مقرر کرنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔ متعدد بحری جہازوں نے انتباہ کے باوجود اپنا رخ درست نہیں کیا اور منظور شدہ بحری راستے پر منتقل ہونے کی ہدایات نظر انداز کیں، ایک بحری جہاز نے اپنے شناختی اور نگرانی کے نظام بند کر دیے تھے جس سے سمندری سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا، انتباہی فائرنگ کے بعد اس جہاز کو روک لیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، جب تک علاقے میں امریکی مداخلت ختم نہیں ہوتی کسی بھی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر ایران کے خلاف نیا حملہ یا خلاف ورزی کی گئی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس میں خطے میں موجود دشمن کے نئے اڈوں کو نشانہ بنانا بھی شامل ہو سکتا ہے۔
واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ یہ صورتحال امریکا کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے جن کے بارے میں ایرانی قیادت کی جانب سے پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا تھا۔ امریکا طاقت کے نشے میں ہے اور ہر معاملے کو طاقت سے حل کرنا چاہتا ہے لیکن زمینی حالات اور حقائق سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدلی ہوئی دنیا میں امریکا کے لیے یہ ممکن نہیں ہو سکتا کہ وہ طاقت کے زور پر اپنی ہر بات منوا لے۔ یہ بات امریکی انتظامیہ کو جتنی جلد سمجھ آ جائے اتنا ہی بہتر ہو گا ورنہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ امریکا کے لیے بھی بہت سے مسائل پیدا ہوں گے اور عالمی سطح پر پھیلنے والی بد امنی، مہنگائی اور کساد بازاری کی ذمہ داری بھی امریکا کے کھاتے میں ہی پڑے گی کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی امریکا کی طرف سے کی گئی ہے اور یہ سلسلہ جلد رکتا نظر نہیں آ رہا۔
ایران نے ردعمل کے طور پر امریکی مفادات اور اڈوں کو نقصان پہنچانے کے لیے جو حملے کیے ہیں ان پر خلیجی ممالک سعودی عرب، عمان اور کویت نے شدید مذمت کرتے ہوئے انھیں علاقائی سلامتی، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کا رویہ خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملے اور بحری راستوں کو نشانہ بنانا اقوام متحدہ کے چارٹر، اسلامی تعاون تنظیم کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ عما ن نے بھی اپنے علاقے پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔ ادھر، کویت کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایرانی حملوں کو ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس صورتحال میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی اور تحمل کا راستہ اختیار کیا جائے، خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتکاری مؤثر راستہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔علاوہ ازیں اسحاق ڈار سے سعودی سفیر نواف بن سعید احمد المالکی نے ملاقات کی جس میں تازہ ترین علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار یقیناً بہت اہمیت کا حامل ہے لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک امریکا طاقت کے زعم سے نکل کر مذاکرات کی میز پر نہیں آتا تب تک مسائل پوری طرح حل نہیں ہو سکتے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران کی طرف سے مشرقِ وسطیٰ میں موجود ممالک کو نشانہ نہیں بنایا جا رہا بلکہ وہاں موجود امریکی مفادات اور اڈوں پر ردعمل میں حملے کیے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک جامع مشاورتی عمل کا تقاضا کرتی ہے جس کے لیے پاکستان، ایران اور ترکیہ کے علاوہ تمام خلیجی ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر بات کرنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ قیامِ امن کے لیے کیا امکانات موجود ہیں جنھیں فوری طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں