دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تقسیم کرو اور حکومت کرو ۔ شیردل ملک
No image انگریز سرکار (1858ء تا 1947ء) عرصہ کے دوران انگریزوں کا رویہ مقامی لوگوں کے ساتھ بڑا دوستانہ اور مشفقانہ تھا۔ اپنی پچھلی پوسٹ پر ایک دو کمنٹس کی وجہ سے ڈر کر دوستانہ اور مشفقانہ لکھنا پڑا۔
ملک برطانیہ کے گزشتہ دورہ پاکستان میں ہماری پارلیمان کے وزٹ کے دوران اسوقت کے اسپیکر اور نمائندگان کا مؤدبانہ رویہ دیکھنے کے قابل تھا جو کہ انگریز سرکاری کے ان ممبران کے اجداد کو دیئے گئے وظائف و جاگیروں کا جواب تھا۔
برٹش راج دور کے چند اہم ترین مشفقانہ رویئے درج ذیل ہیں۔
1۔ نسلی تعصب اور سماجی تفریق (Racial Discrimination)
انگریز خود کو "عالی نسب" اور مقامی لوگوں کو "وحشی" یا کم تر مخلوق سمجھتے تھے۔
سفید فاموں کی برتری کا خبط: انگریزوں کے رہائشی علاقوں سول لائنز اور مارکیٹوں میں مقامی لوگوں کا داخلہ ممنوع یا سخت قوانین کے تابع تھا۔
توہین آمیز رویے: کلبوں، پارکوں اور ریلوے کے فرسٹ کلاس ڈبوں کے باہر واضح طور پر لکھا ہوتا تھا: "Dogs and Indians not allowed" (کتوں اور ہندوستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے)۔
سرکاری ملازمتوں میں تفریق: طویل عرصے تک اعلیٰ انتظامی اور عسکری عہدے (جیسے آئی سی ایس اور کمیشنڈ افسران) صرف برطانوی شہریوں کے لیے مخصوص تھے، جبکہ مقامی لوگوں کو صرف کلرک یا چھوٹے ملازمین کے طور پر رکھا جاتا تھا۔
2۔ معاشی استحصال اور قحط (Economic Exploitation)
برصغیر کو برطانوی معیشت کے فائدے کے لیے ایک خام مال فراہم کرنے والی منڈی بنا دیا گیا:
مقامی صنعتوں کی تباہی: ہندوستان کی قدیم اور مشہور کپڑے (ململ وغیرہ) کی صنعت کو بھاری ٹیکسوں کے ذریعے جان بوجھ کر تباہ کیا گیا تاکہ مانچسٹر کی ملوں کا کپڑا یہاں بیچا جا سکے۔
ظالمانہ لگان (ٹیکس): کسانوں پر لگان کے سخت قوانین لاگو کیے گئے، جس کی وجہ سے لاکھوں کسان اپنی ہی زمینوں سے محروم ہو کر کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔
مصنوعی قحط: برطانوی پالیسیوں (جیسے اناج کی زبردستی برآمد) کے نتیجے میں برصغیر میں کئی ہولناک قحط پڑے۔ ان میں سب سے بدنام 1943ء کا قحطِ بنگال تھا، جس میں ونسٹن چرچل کی حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث لگ بھگ 30 لاکھ لوگ بھوک سے مر گئے، جبکہ اناج برطانوی فوجیوں کے لیے ذخیرہ کیا جا رہا تھا۔
3۔ عدالتی اور قانونی ناانصافی (Judicial Injustice)
برٹش راج کا قانونی نظام بظاہر "قانون کی حکمرانی" کا دعویٰ کرتا تھا، لیکن عمل میں یہ انتہائی جانبدار تھا:
گوروں کے لیے الگ قانون: اگر کوئی انگریز کسی ہندوستانی کو قتل بھی کر دیتا، تو اسے معمولی سزا یا محض جرمانہ کر کے چھوڑ دیا جاتا تھا، جبکہ مقامی لوگوں کو معمولی جرائم پر بھی سخت ترین سزائیں دی جاتی تھیں۔
کالے قوانین: حریت پسندوں اور سیاسی آوازوں کو دبانے کے لیے رولٹ ایکٹ (Rowlatt Act) جیسے قوانین بنائے گئے، جس کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو بغیر مقدمہ چلائے جیل میں ڈال سکتی تھی۔
4۔ بے رحمانہ فوجی اور پولیس تشدد
سیاسی بیداری اور آزادی کی تحریکوں کو کچلنے کے لیے انگریز سرکار نے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کیں:
جلیانوالہ باغ کا سانحہ (1919ء): امرتسر کے جلیانوالہ باغ میں پرامن احتجاج کرنے والے نہتے مردوں، عورتوں اور بچوں پر جنرل ڈائر کے حکم پر اندھا دھند گولیاں برسائی گئیں، جس میں سینکڑوں لوگ شہید ہوئے۔
کالے پانی کی سزائیں: آزادی کی بات کرنے والوں کو جزائر انڈیمان (کالے پانی) بھیج دیا جاتا تھا، جہاں قیدیوں کو بدترین جسمانی اذیتیں دی جاتی تھیں۔
5۔ "تقسیم کرو اور حکومت کرو" (Divide and Rule)
انگریزوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے برصغیر کے مختلف مذہبی اور لسانی گروہوں، بالخصوص مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان نفرت اور خلیج کو جان بوجھ کر بڑھایا۔ اس پالیسی نے صدیوں سے ساتھ رہنے والے معاشرے کے سماجی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچایا، جس کے تلخ اثرات آزادی کے وقت (اور بعد میں بھی) نظر آئے، یہ خلیج آج بھی ہمارے معاشرے میں واضع دیکھائی دیتی ہے۔
برٹش راج کی تمدنی ترقی (جیسے ریلوے، نہری نظام اور جدید تعلیم) دراصل ان کے اپنے انتظامی فوائد اور معاشی گرفت مضبوط کرنے کے وسائل تھے، جن کی بھاری قیمت برصغیر کے عوام نے اپنی آزادی، وسائل اور عزتِ نفس کی صورت میں چکائی۔
ایک بات ماننی پڑے گی کہ گورے کو حکومت کرنا بھی آتی ہے اور غیر محسوس طریقے سے قانونی جواز پیدا کر کے تجارت کے نام پر لوٹ مار بھی لیکن ایک فرق ہے اس لوٹ مار میں گوروں کی زیادہ تر لوٹ مار تھی اپنے وطن کے لیئے جبکہ ہماری لٹ ہوتی ہے اپنی ذات اور اپنے خاندان کے لیئے یعنی ہمارے ہاں لچا پن زیادہ ہے۔
واپس کریں