دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
طالبان اور در بدر افغان مہاجرین ۔ خالد خان
No image خالد خان کی نئی تصنیف " افغان پنڈت " سے انتخاب
افغانستان کی جدید تاریخ جنگ، سیاسی عدم استحکام اور مسلسل ہجرت کی تاریخ بھی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں میں لاکھوں افغان شہری اپنے گھروں، علاقوں اور ملک کو چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ سوویت جنگ، مجاہدین کی خانہ جنگی، طالبان کے پہلے دورِ حکومت، 2001ء کے بعد کی جنگ اور 2021ء میں طالبان کی واپسی، ہر دور میں افغان مہاجرین کا مسئلہ افغانستان کے سب سے بڑے انسانی بحرانوں میں شامل رہا ہے۔
کسی بھی حکومت کی ذمہ داری صرف اپنے دارالحکومت اور سرحدوں کے اندر رہنے والے شہریوں تک محدود نہیں ہوتی بلکہ بیرون ملک موجود اپنے شہریوں کے تحفظ، عزت، قانونی مدد، واپسی اور بحالی کی ذمہ داری بھی ریاستی فرائض کا حصہ ہوتی ہے۔ افغان مہاجرین کے معاملے میں اصل سوال یہی ہے کہ طالبان کے دونوں ادوار میں ریاست نے اپنے بے گھر شہریوں کے لیے کیا کردار ادا کیا؟
1996ء میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے افغانستان ایک طویل جنگ اور خانہ جنگی سے گزر چکا تھا۔ لاکھوں افغان شہری پہلے ہی پاکستان، ایران اور دیگر ممالک میں پناہ لے چکے تھے۔ طالبان حکومت کو ایک ایسے ملک کا انتظام ملا جو اندرونی طور پر تباہ حال اور بیرونی طور پر لاکھوں مہاجرین کے مسئلے سے دوچار تھا۔
طالبان کے پہلے دور میں افغانستان کے باہر موجود افغان مہاجرین کی بڑی تعداد پاکستان اور ایران میں مقیم تھی۔ ان ممالک نے کئی دہائیوں تک لاکھوں افغان شہریوں کو پناہ دی، لیکن طالبان حکومت کی جانب سے مہاجرین کی منظم واپسی، بحالی اور آباد کاری کے لیے کوئی ایسا جامع ریاستی منصوبہ سامنے نہیں آیا جو اس بڑے انسانی مسئلے کو حل کر سکتا۔
اس دور میں افغانستان کی کمزور معیشت، عالمی تنہائی اور محدود ریاستی صلاحیتیں بھی بڑی رکاوٹ تھیں۔ تاہم ایک حکومت کی حیثیت سے طالبان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ بیرون ملک موجود افغان شہریوں کے لیے سفارتی، انتظامی اور انسانی رابطوں کا مضبوط نظام قائم کرتے۔
2001ء میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں نئی سیاسی ترتیب قائم ہوئی، لیکن جنگ ختم نہ ہو سکی۔ بیس سالہ جنگ کے دوران بھی افغان شہری مسلسل بے گھر ہوتے رہے۔
2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں افغان شہری ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ان میں سابق حکومت کے اہلکار، فوجی و سکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد، صحافی، انسانی حقوق کے کارکن، خواتین کارکن، تعلیم یافتہ نوجوان اور عام شہری شامل تھے۔
بہت سے افغان شہریوں کو خدشہ تھا کہ سابقہ سیاسی وابستگیوں یا غیر طالبان اداروں کے ساتھ کام کرنے کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا، لیکن اس اعلان پر عمل درآمد، شکایات کے ازالے اور اعتماد سازی کے حوالے سے عالمی سطح پر سوالات اٹھائے گئے۔
طالبان نے 2021ء میں سابق حکومت سے وابستہ افراد کے لیے عام معافی کا اعلان کیا اور کہا کہ کسی سے انتقام نہیں لیا جائے گا۔ یہ اعلان افغانستان میں امن اور مفاہمت کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر پیش کیا گیا۔
لیکن بعض سابق اہلکاروں، کارکنوں اور خاندانوں کی جانب سے تحفظات اور شکایات سامنے آئیں۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے افغان شہریوں نے بیرون ملک رہنے کو زیادہ محفوظ سمجھا۔
کسی بھی عام معافی کی کامیابی صرف اعلان سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ شہریوں کو قانونی تحفظ، آزادانہ نقل و حرکت، روزگار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کا یقین ہو۔
افغان مہاجرین کی تاریخ میں پاکستان، ایران اور دیگر ممالک کا کردار نمایاں رہا ہے۔ ان ممالک نے طویل عرصے تک لاکھوں افغان شہریوں کو پناہ، رہائش، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔
اگرچہ مہاجرین کی بڑی تعداد نے میزبان ممالک پر معاشی، سماجی اور انتظامی دباؤ بھی پیدا کیا، لیکن انسانی بحران کے ادوار میں ان ممالک کی میزبانی ایک اہم حقیقت رہی۔
ریاستی تعلقات کا تقاضا ہوتا ہے کہ افغانستان کی حکومتیں ان ممالک کے تعاون کو تسلیم کریں، سفارتی سطح پر شکریہ ادا کریں اور مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ منصوبے بنائیں۔
مہاجرین کی واپسی صرف لوگوں کو واپس بلانے کا نام نہیں۔ کامیاب واپسی کے لیے کئی بنیادی اقدامات ضروری ہوتے ہیں: واپس آنے والوں کے لیے امن و تحفظ، روزگار کے مواقع، رہائش کا انتظام، تعلیم اور صحت کی سہولیات، زمین اور جائیداد کے مسائل کا حل، اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت۔
افغانستان جیسے جنگ زدہ ملک میں یہ کام ایک مضبوط ریاستی منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر کسی حکومت کے پاس مہاجرین کی واپسی کے لیے واضح حکمت عملی نہ ہو تو واپسی دوبارہ بے روزگاری، غربت اور نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم افغان مہاجرین کے لیے ایک فعال حکومت کو سفارت خانوں، قونصل خانوں اور انسانی اداروں کے ذریعے مسلسل رابطہ رکھنا چاہیے۔ قانونی مدد، دستاویزات کی فراہمی، تعلیم، ہنر مندی، روزگار اور محفوظ واپسی کے لیے عملی اقدامات ریاستی ذمہ داری کا حصہ ہوتے ہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا مختلف افغان حکومتوں نے بیرون ملک موجود اپنے شہریوں کو قومی اثاثہ سمجھا یا صرف ایک وقتی سیاسی مسئلہ؟
حالیہ برسوں میں مختلف ممالک نے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی واپسی کے اقدامات کیے۔ ایسے مواقع پر کسی بھی حکومت کا کردار یہ ہونا چاہیے کہ وہ اپنے شہریوں کی شناخت، قانونی تحفظ، استقبال اور بحالی کے لیے تیار نظام رکھے۔
اگر کسی ملک سے واپس آنے والے افغان شہریوں کو قبول کرنے، رجسٹر کرنے اور بحال کرنے میں مشکلات پیش آئیں تو یہ ریاستی صلاحیت اور انسانی ذمہ داری دونوں کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔
مہاجرین کسی حکومت کے حامی یا مخالف ہونے سے پہلے انسان اور شہری ہوتے ہیں، اور ریاست کی ذمہ داری اپنے تمام شہریوں کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
افغان مہاجرین کا مسئلہ صرف طالبان یا کسی ایک حکومت تک محدود نہیں۔ یہ افغانستان کی مسلسل جنگوں، سیاسی بحرانوں اور کمزور ریاستی اداروں کا نتیجہ ہے۔
لیکن ہر حکومت کا تاریخی جائزہ اس بات سے بھی لیا جاتا ہے کہ اس نے بحرانوں میں اپنے لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔
طالبان کے دونوں ادوار میں مہاجرین کا مسئلہ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ایک حکومت اپنے نظریاتی مقاصد کے ساتھ ساتھ اپنے بکھرے ہوئے شہریوں کے لیے انسانی، سفارتی اور ریاستی ذمہ داریاں بھی پوری کر سکتی ہے؟
افغان مہاجرین افغانستان کا سب سے بڑا انسانی ورثہ اور سب سے بڑا المیہ ہیں۔ لاکھوں خاندان کئی نسلوں سے وطن، شناخت اور مستقبل کے درمیان معلق زندگی گزار رہے ہیں۔
طالبان کے دونوں ادوار کا جائزہ لیتے ہوئے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ افغانستان کو صرف ایک حکومت کی نہیں بلکہ ایک ایسی ریاستی سوچ کی ضرورت ہے جو اپنے تمام شہریوں کو، چاہے وہ ملک کے اندر ہوں یا بیرون ملک، اپنی ذمہ داری سمجھے۔
مہاجرین کی باعزت واپسی، بحالی اور آباد کاری کسی بھی حکومت کی سیاسی کامیابی نہیں بلکہ اس کی انسانی اور ریاستی کامیابی کا اصل پیمانہ ہے۔ تاریخ افغانستان کی حکومتوں سے یہی سوال کرے گی کہ انہوں نے جنگ اور بحران کے دوران اپنے لوگوں کو کتنا سہارا دیا، اور کتنے شہریوں کو بے وطنی کے درد کے ساتھ چھوڑ دیا۔
واپس کریں