دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کسی کا کوئی مائی کا لال عوام کے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا، مولانا فضل الرحمان
No image اپنے ملک کا تو یہ حال ہے، ہندوستان کے ساتھ پوری سرحد بند، افغانستان کے ساتھ پوری سرحد بند، مغربی سرحدیں بھی بند، مشرقی سرحدیں بھی بند۔ ایران ایسے حالات میں ہے کہ وہ نہ اچھے کا ہے، نہ برے کا۔ چین اپنا اعتماد اٹھا چکا ہے تم لوگوں سے۔ وہ ایک چھوٹا سا کوریڈور ہے جو، اگر تجارت کے لیے کھلتا ہے، تو آپ نے ان کو دھوکے دیے ہیں، ہم نے ان کو دھوکے دیے ہیں، ہم نے ان کی سرمایہ کاری کا راستہ روکا ہے۔ اس وقت پاکستان محصور ہے، حکمرانوں کی پالیسیوں کے ہاتھوں محصور ہے، اور حکمران اس لیے مجبور ہیں کہ وہ بھی تو محصور ہیں۔امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
مولانا فضل الرحمان نے کہا ہم حکمرانوں کی مجبوری کو جانتے ہیں، لیکن یہ کوئی بھی نوزائیدہ نہیں ہیں۔ یہ جتنے اس وقت فیصلہ کن لوگ ہیں، فیصلہ کن قوتیں ہیں، وہ عاقل و بالغ ہیں، سمجھدار ہیں، لیکن ان کے اندر آزادی و حریت کی رمق نہیں ہے۔ وہ غلامانہ ذہنیت کے حامل ہیں، اور وہ کسی طاقتور ملک کے لیے پراکسی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اپنی جنگ نہیں لڑ رہے۔
اگر تم افغانستان پر اعتراضات کرتے ہو، افغانستان سے مجھے بھی شکایت ہے، لیکن کچھ معاملات ہوتے ہیں جو طاقت سے حل نہیں ہوا کرتے، وہ سفارتی عمل سے حل ہوا کرتے ہیں، ڈپلومیسی سے حل ہوا کرتے ہیں۔ میں الیکشن سے پہلے گیا، جمعیۃ علماء کا ایک مؤقر وفد لے کر، ایک ہفتے میں تمام معاملات حل کر کے آ گیا۔ یہاں میں نے رپورٹ کی، میری دادِ تحسین کی گئی کہ آپ نے زبردست کامیابی حاصل کی، لیکن پھر الیکشن میں اسی جماعت کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ہے ان کی رواداریوں کا صلہ۔ ہم ملک کے لیے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ہم ملک کو کس طرح مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں؟
شاید آپ نوجوانوں کو یاد نہ ہو، دو ہزار تین میں، جب مشرف کی حکومت میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات اس حد تک کشیدہ ہو گئے کہ ہمارے زمینی رابطے ختم، فضائی رابطے ختم، ہماری فضاء ان کی پروازوں کے لیے، اور ان کی فضاء ہماری پروازوں کے لیے بند ہو گئی۔ وہاں کا ہمارا ہائی کمیشن، یہاں ان کا ہائی کمیشن، ایک اسٹینوگرافر چلا رہا تھا، مکمل خالی ہو گئے تھے۔
اس وقت جمعیۃ علماء کا چار ارکان پر مشتمل وفد گیا، میں ساتھ تھا۔ ہم نے وہاں دس دن گزارے، تمام پارٹیوں سے ہم نے بات کی، اور دس دن کے بعد واپس ہوئے۔ چار پانچ مہینوں کے بعد تعلقات بحال ہو گئے۔ یہ جمعیۃ علماء کی کارکردگی تھی۔
جب امریکہ نے تمہارے اوپر پابندی لگائی کہ ہم فوجی امداد پاکستان کو نہیں دیں گے، تو میں خارجہ امور کا چیئرمین تھا۔
میں نے نیویارک میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں امریکی وزارتِ خارجہ کے ساتھ بات کی۔ پاکستان کی خاتون سفیر اس وقت موجود تھیں، ہماری میٹنگ میں میرا ترجمہ وہی کیا کرتی تھیں۔
ایک میٹنگ کے اندر اندر ہم نے ان کو وہ قانون واپس لینے پر آمادہ کر لیا۔
امریکی میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، معدنی ذخائر میں۔ ہم نے کہا: سرمایہ کاری سے بے نیاز تو خود امریکہ بھی نہیں ہے، سرمایہ کاری سے بے نیاز تو روس بھی نہیں ہے، چین بھی نہیں ہے۔
ملٹی نیشنل کمپنیاں پوری دنیا میں کام کرتی ہیں، پیسہ لگاتی ہیں۔ اگر پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرے گا تو ہم کیوں روکیں گے؟ لیکن سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق پاکستان اور آپ کے درمیان کھلا معاہدہ ہونا چاہیے، عوام سے خفیہ مت رکھو۔ پھر جس علاقے میں معدنی ذخائر پیدا ہوتے ہیں، وہاں کی مقامی آبادی کے حقوق کا تحفظ کرنا آپ کی بھی ذمہ داری ہوگی، پاکستان کی بھی ذمہ داری ہوگی، اور یہ اصول ہے۔
بظاہر تو وہ مان گئے، لیکن آج قبائلی پہاڑوں میں اگر کوئی جنگ ہے تو وہ اسی بنیاد پر ہو رہی ہے کہ پاکستان کے معدنی ذخائر کو بیچا جا رہا ہے، اور مقامی آبادی کو بے اختیار کر کے اس سے اس کا اختیار چھینا جا رہا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خود ہی یہ کاروبار کر سکتے ہیں۔ نہیں، یہ پاکستان کے بچوں کی ملکیت ہے۔
یہ ان علاقوں کے بچوں کی ملکیت ہے۔ بلوچستان کے عوام اور ان کے بچے وہاں کے وسائل کے مالک ہیں۔ خیبر پختونخوا کے عوام اور ان کے بچے وہاں کے وسائل کے مالک ہیں۔ پنجاب کے عوام اور ان کے بچے پنجاب کے وسائل کے مالک ہیں۔ سندھ کے عوام اور ان کے بچے سندھ کے وسائل کے مالک ہیں۔
کسی کا کوئی مائی کا لال ان کے حقوق پر ڈاکا نہیں ڈال سکتا، اور اگر ڈالا جائے گا تو پھر یہی بے چینیاں آئیں گی جو آج سندھ میں ہیں، وہی بے چینیاں جو آج بلوچستان میں ہیں، وہی بے چینیاں جو آج خیبر پختونخوا میں ہیں، اور یہی بے چینیاں کل پنجاب میں اتر سکتی ہیں۔
واپس کریں