خالد خان کی نئی تصنیف "افغان پنڈت " سے انتخاب ۔ افغان طالبان کے بدلتے نظریات

(پشاور) خالد خان کی خصوصی تحریر۔ افغان وزیر زراعت مولوی عطااللہ عمری کا بھارت میں دیا گیا بیان صرف ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ افغانستان کی موجودہ سیاست میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کا ایک آئینہ بھی ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ بیان ایک ایسی حکومت کے نمائندے کی طرف سے آیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک مخصوص مذہبی اور نظریاتی شناخت کے ساتھ عالمی سیاست میں موجود رہی ہے۔
طالبان کی سیاسی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس تحریک کے نظریاتی پس منظر کو دیکھا جائے۔ طالبان نے 1990 کی دہائی میں افغانستان میں ایک ایسی تحریک کے طور پر جنم لیا جس کا بنیادی نکتہ مذہبی نظم، شریعت کا نفاذ اور ایک مخصوص طرز حکمرانی تھا۔ ان کی سیاست میں مذہبی تشخص کو مرکزی حیثیت حاصل رہی اور انہوں نے خود کو ایک نظریاتی تحریک کے طور پر پیش کیا۔
اسی وجہ سے طالبان کے بیانات اور پالیسیوں کو صرف روایتی سفارت کاری کے پیمانے پر نہیں پرکھا جاتا، بلکہ ان کے نظریاتی پس منظر کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ جب کوئی حکومت برسوں تک ایک مخصوص نظریاتی زبان استعمال کرے اور پھر خارجہ تعلقات کے میدان میں ایسی اصطلاحات اختیار کرے جو اس کے سابقہ بیانیے سے مختلف محسوس ہوں تو سیاسی مبصرین سوال اٹھاتے ہیں۔
بھارت کے ساتھ طالبان کے موجودہ روابط اسی تبدیلی کا حصہ ہیں۔ ماضی میں طالبان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ آسان نہیں رہے۔ افغانستان کی سیاست میں بھارت کا کردار، پاکستان اور بھارت کی علاقائی رقابت، اور افغانستان میں مختلف ادوار کی سیاسی تبدیلیاں اس تعلق کو متاثر کرتی رہی ہیں۔ تاہم موجودہ حالات میں طالبان حکومت نے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی ہے، جس میں بھارت بھی شامل ہے۔
ریاستوں کی خارجہ پالیسی اکثر نظریات کے بجائے مفادات کے مطابق تبدیل ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں کل کے مخالف ممالک بعد میں سفارتی شراکت دار بن گئے۔ لیکن جب کوئی تحریک اپنی شناخت نظریاتی اصولوں پر قائم کرے تو اس کے لیے یہ تبدیلیاں زیادہ سوالات پیدا کرتی ہیں۔
یہاں اصل سوال بھارت سے تعلقات کا نہیں بلکہ بیانیے کے تضاد کا ہے۔ اگر طالبان کا مؤقف یہ ہے کہ ان کی سیاست مذہبی اصولوں اور مخصوص نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے، تو پھر ایسے جملے جن میں ثقافتی یا نسلی یکسانیت کا تاثر دیا جائے، ان کی وضاحت ضروری بن جاتی ہے۔
پشتون شناخت کو بھی اسی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ طالبان کی قیادت میں پشتون افراد کا نمایاں کردار رہا ہے، لیکن پشتون شناخت صرف کسی ایک سیاسی تحریک یا حکومت تک محدود نہیں۔ پشتون معاشرہ مختلف سیاسی، فکری اور مذہبی رجحانات رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ہے۔ تاریخ میں پشتونوں میں بادشاہ بھی گزرے، صوفی بھی، شاعر بھی، سیاسی رہنما بھی اور مختلف نظریات رکھنے والی شخصیات بھی۔
اس لیے کسی ایک سیاسی جماعت یا تحریک کو پوری پشتون قوم کا نمائندہ قرار دینا درست نہیں۔ پشتون ثقافت اپنی جگہ ایک وسیع تاریخی حقیقت ہے، جبکہ طالبان ایک سیاسی و نظریاتی تحریک ہیں۔ دونوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
افغان وزیر کے بیان میں سب سے زیادہ بحث "ڈی این اے" کے لفظ پر ہوئی۔ دراصل سیاسی رہنما اکثر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو جذباتی اثر رکھتے ہیں۔ "ڈی این اے ایک ہے" کا مطلب عموماً حیاتیاتی سائنس نہیں بلکہ قربت، تعلق یا مشترکہ مفاد کا اظہار ہوتا ہے۔ لیکن جب یہی لفظ ایک حساس علاقائی ماحول میں استعمال ہو تو اس کے سیاسی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کئی دہائیوں سے پیچیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، لسانی اور تاریخی قربت موجود ہے، لیکن سرحد، سلامتی اور سیاسی ترجیحات کے معاملات پر اختلافات بھی رہے ہیں۔
پاکستانی عوام کا ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اگر خطے میں تاریخی اور تہذیبی قربت کی بات کی جا رہی ہے تو پھر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں مسلسل کشیدگی کیوں پیدا ہو رہی ہے؟ کیا افغانستان کی نئی سفارت کاری میں پاکستان کے تحفظات کو مناسب اہمیت دی جا رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
طالبان حکومت کو ایک طرف عالمی قبولیت، معاشی تعاون اور علاقائی روابط کی ضرورت ہے، دوسری طرف اسے اپنے نظریاتی تشخص کو بھی برقرار رکھنے کا دعویٰ ہے۔ یہی توازن اس وقت افغان سیاست کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔
افغانستان ایک طویل جنگ سے گزر چکا ہے۔ افغان عوام امن، ترقی اور استحکام چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ خارجہ تعلقات جذباتی نعروں کے بجائے واضح قومی مفادات، باہمی احترام اور حقیقت پسندانہ پالیسیوں پر قائم ہوں۔
پشتون ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی دوسرے معاشرے سے نفرت کی جائے، بلکہ اپنی تاریخی شناخت کو سمجھنا ہے۔ اسی طرح سفارت کاری کا مطلب یہ نہیں کہ تاریخ اور حقیقت کو نظر انداز کر دیا جائے۔ مضبوط قومیں اپنی شناخت کے ساتھ دنیا سے تعلقات قائم کرتی ہیں۔
واپس کریں