دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اسٹے آرڈرز اور اپیلیں، عدالتوں اور سائلین کا وقت ضائع کرنے کا باعث
No image انصاف کی بروقت فراہمی نہ صرف شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرتی ہے بلکہ معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور سماجی سکون کو یقینی بناتی ہے مگر بدقسمتی سے ہماری عدالتوں میں اسٹے آرڈرز اور اپیلیں (درخواستِ نظرثانی) عدالتی عمل کو اتنا لمبا کھینچ دیتے ہیں کہ انصاف میں تاخیر، انصاف کے قتل کی مثال بن جاتے ہیں۔ یہ دونوں طریقہ کار، جو اصل میں انصاف کے تحفظ کے لیے ہیں، عدالتوں اور انصاف کے طلب گاروں کا وقت ضائع کرنے اور مقدمات کے التواء اور فریقین کی تکلیف کا باعث بنے ہوئے ہیں اور وراثتی جائیداد مقدمات میں اس کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے۔ مقصد اچھا ہے، مگر اس کا غلط استعمال مسئلہ بنا ہوا ہے۔ مقدمات کو طول دینے کے لیئے فریقین میرٹ کے بغیر اسٹے آرڈر حاصل کرتے ہیں اور فیصلے سالوں تک معلق رہ جاتے ہیں۔
قانون و جسٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹس کے مطابق ضلعی عدالتیں اس ضمن میں سب سے زیادہ بوجھ برداشت کر رہی ہیں، جہاں لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہیں اور اسٹے آرڈرز اور اپیلیں ان میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں کیونکہ ایک مرتبہ اسٹے ملنے کے بعد مقدمے کی سماعت آہستہ ہونا معمول کی بات ہے۔قومی جیو ڈیشل پالیسی میں اسٹے آرڈرز پر سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ انہیں 15 دن میں فیصلہ کرنا چاہیے مگر عملی طور پر یہ ہدایات نظر انداز ہو رہی ہیں جس کے نتیجہ میں فریقین سالوں سے عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں۔
نظر ثانی کی اپیلیں بنیادی حق ہے، مگر اس کا بے جا استعمال نظام انصاف کو سست کر رہا ہے۔ ایک مقدمے میں ٹرائل کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد ہائی کورٹ، پھر سپریم کورٹ تک اپیلیں دائر ہو رہی ہیں باالفاظ دیگر بے بنیاد اپیلیں صرف وقت ضائع کرنے کی غرض سے دائر کی جا رہی ہیں۔ اس وقت مختلف عدالتو ں میں لاکھوں اپیلیں زیر التواء ہیں۔ 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق کل زیر التواء کیسز 22 لاکھ سے زائد ہو چکے تھے، جن میں سے 82% ضلعی عدالتوں میں تھے۔ سول مقدمات اس بوجھ کا بڑا حصہ ہیں، ایک مقدمہ دس پندرہ سال یا اس سے بھی زیادہ چلتا ہے۔
اپیلیں اور اسٹے آرڈرز نہ صرف عدالتوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ سائلین کی ذہنی اور مالی طور پر متاثر کر رہے ہیں۔ گواہان کی غیر حاضری، ججوں کی منتقلی اور وکلاء کی delaytaktics انصاف کے عمل کو لمبا اور الجھا رہی ہے جبکہ خوامخواہ کے اسٹے اور اپیلیں روزانہ کی سماعتوں کو متاثر کر رہی ہیں اور نتیجتاً لاکھوں مقدمات التواء کا شکار ہو رہے ہیں۔
پراپرٹی مقدمات میں فریقین کی نسلیں بدل رہی ہیں،سائلین کا نقصان کیسے نہ ہو جو سالوں سے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ یوں انصاف میں تاخیر کرپشن کیوں نہ بڑھائے، قانون کی حکمرانی کیوں نہ کمزور ہو اور عدالتوں پر عوامی اعتماد کیوں نہ ختم ہو۔
بلا وجہ کے اسٹے آرڈرز اور اپیلوں پر سخت پابندیاں لگائی جائیں یا انہیں محدود وقت میں فیصلہ کرنے کا پابند بنایا جائے، غلط استعمال پر بھاری جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی جائیں،اپیلوں کی فلٹرنگ کی جائے اور صرف میرٹ پر مبنی اپیلیں قبول کی جائیں۔
اسٹے آرڈرز اور اپیلیں عدالتی نظام کے اہم ستون ہیں، مگر ان کا غلط استعمال پورے عدالتی نظام کو کمزور کر رہا ہے۔ بروقت انصاف کی فراہمی کے لیئے عدلیہ اور وکلاء برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ''جلد انصاف'' کا آئینی حق حقیقت بن سکے۔ اسٹے آرڈرز اور اپیلوں کے باعث انصاف کی تاخیر معاشرے کی تباہی کا باعث بنی ہوئی ہے۔
واپس کریں