میں پشتون ہوں، میری تہذیب، تاریخ، ثقافت اور شناخت ہندوؤں سے مختلف ہے۔قسط اول

(پشاور) خالد خان ۔ تاریخ میں بعض اوقات ایک جملہ سینکڑوں صفحات پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ افغانستان کے وزیر زراعت، آبپاشی و لائیو سٹاک مولوی عطااللہ عمری نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارا اور آپ کا ڈی این اے ایک ہے" اور یہ بھی کہا کہ بھارت میں انہیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ اپنے ہی ملک میں موجود ہوں۔ بظاہر یہ ایک سفارتی جملہ تھا، لیکن جب اسے افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال، طالبان کی نظریاتی سیاست، پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی سفارت کاری کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ محض خیرسگالی کا اظہار نہیں رہتا بلکہ ایک اہم سیاسی پیغام بن جاتا ہے۔
میرا اختلاف اس بات پر نہیں کہ افغانستان بھارت سے تعلقات کیوں استوار کر رہا ہے۔ ہر خودمختار ریاست کو اپنی خارجہ پالیسی بنانے اور اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ پاکستان بھی یہی کرتا ہے، بھارت بھی اور دنیا کی ہر ریاست بھی۔ سوال یہ نہیں کہ کابل اور دہلی قریب کیوں آ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قربت کو ثابت کرنے کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں جو نہ سائنسی اعتبار سے درست ہوں اور نہ تاریخی اعتبار سے؟
"ڈی این اے" حیاتیاتی سائنس کی اصطلاح ہے، سفارت کاری کا نعرہ نہیں۔ اگر کسی وزیر کا مقصد صرف یہ کہنا تھا کہ افغانستان اور بھارت کے درمیان تاریخی روابط موجود ہیں، تو اس کے لیے درجنوں مناسب الفاظ موجود تھے؛ مشترکہ تاریخ، تہذیبی تعلقات، تجارتی روابط یا عوامی دوستی۔ لیکن "ڈی این اے ایک ہے" کہنا ایک ایسا جملہ ہے جو سائنسی حقیقت اور سیاسی استعارے کی حدیں آپس میں ملا دیتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ "پشتون" ایک نسلی، لسانی اور ثقافتی شناخت ہے، جبکہ "ہندو" بنیادی طور پر ایک مذہبی شناخت ہے۔ اس لیے ان دونوں کا تقابل بھی احتیاط سے ہونا چاہیے۔ جدید جینیاتی تحقیق یہ نہیں کہتی کہ کسی ایک مذہب کے ماننے والوں کا الگ اور مکمل مشترک ڈی این اے ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ کسی ایک نسلی گروہ کے تمام افراد جینیاتی طور پر یکساں ہوں۔ انسانی آبادیوں میں ہزاروں برس کے دوران ہجرت، اختلاط اور ارتقا ہوتا رہا ہے۔ اس لیے "ڈی این اے" کو سیاسی نعرہ بنانا نہ سائنس کی خدمت ہے اور نہ سیاست کی۔
لیکن اگر ہم ڈی این اے کی اصطلاح کو ایک طرف رکھ دیں اور شناخت کی بات کریں تو پھر تصویر بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔ قوموں کی اصل شناخت صرف جینز سے نہیں بنتی بلکہ زبان، تاریخ، مذہب، ثقافت، اجتماعی یادداشت، رسم و رواج، ادب، بہادری کے تصورات، خاندانی نظام اور مشترکہ تاریخی تجربات سے تشکیل پاتی ہے۔ اس معیار پر دیکھا جائے تو پشتونوں کی تہذیبی شناخت اپنی ایک الگ اور منفرد حیثیت رکھتی ہے۔
پشتونوں کی شناخت کا بنیادی ستون پشتونولی ہے۔ یہ کوئی تحریری قانون نہیں بلکہ صدیوں سے چلی آنے والی اخلاقی اور سماجی روایت ہے۔ ننواتے، جرگہ، غیرت، وفاداری، مہمان نوازی، وعدے کی پاسداری اور آزادی پسندی اس کے نمایاں اصول ہیں۔ یہی وہ اقدار ہیں جنہوں نے پہاڑوں میں آباد ایک معاشرے کو ہزاروں برس تک اپنی شناخت برقرار رکھنے میں مدد دی۔ یہی وجہ ہے کہ پشتون اپنی زبان، اپنی روایت اور اپنے اجتماعی تشخص پر ہمیشہ فخر کرتے رہے ہیں۔
یہ شناخت کسی دوسرے معاشرے کی نفی پر قائم نہیں، بلکہ اپنی تہذیبی بنیادوں پر قائم ہے۔ اسی لیے ایک پشتون کی پہچان اس کے قبیلے، زبان، روایت اور کردار سے ہوتی ہے، نہ کہ کسی دوسرے ملک سے قربت یا دوری سے۔
افغانستان کی موجودہ قیادت خود کو اسلامی تشخص کی علمبردار قرار دیتی ہے۔ اگر یہی قیادت آج سیاسی ضرورت کے تحت ایسی زبان اختیار کرے جو اس کے ماضی کے بیانیے سے مختلف محسوس ہو، تو اس پر سوال اٹھانا نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی ہے۔ ریاستیں اپنی پالیسیاں بدل سکتی ہیں، لیکن جب تبدیلی کی وضاحت نہ دی جائے تو شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہی جملہ کسی اور ملک کے بارے میں کہا جاتا ہے یا کہا گیا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر بھارت کے لیے ہی ایسی جذباتی زبان کیوں اختیار کی گئی؟ کیا یہ صرف سفارتی آداب تھے یا اس کے پیچھے خطے کی بدلتی ہوئی سیاست، پاکستان پر دباؤ اور نئی صف بندیوں کا کوئی اشارہ بھی موجود ہے؟ ان سوالات کے جواب تلاش کرنا صحافت کا فرض ہے۔
یہ مضمون کسی قوم یا مذہب کے خلاف نہیں۔ نہ ہی اس کا مقصد دشمنی پیدا کرنا ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ سیاسی بیانات کو جذبات کے بجائے تاریخ، سائنس اور سفارت کاری کی روشنی میں پرکھا جائے۔ کیونکہ الفاظ کبھی کبھی صرف الفاظ نہیں ہوتے؛ وہ مستقبل کی پالیسیوں کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔
(جاری ہے...)
واپس کریں