خالد خان کی نئی تصنیف " افغان پنڈت " سے انتخاب ۔ خالد خان

پشتون شناخت کی بنیاد ۔ کسی بھی قوم کی شناخت صرف اس کے جغرافیے یا سیاسی حالات سے نہیں بنتی بلکہ صدیوں پر پھیلے ہوئے تاریخی تجربات، زبان، روایات، سماجی اقدار اور اجتماعی یادداشت سے تشکیل پاتی ہے۔ پشتون شناخت بھی اسی طویل تاریخی عمل کا نتیجہ ہے۔ پشتون صرف ایک سیاسی اصطلاح نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیبی، لسانی اور سماجی شناخت کا نام ہے جس نے ہزاروں برس کے نشیب و فراز کے باوجود اپنی بنیادی خصوصیات کو محفوظ رکھا ہے۔
پشتونوں کی سب سے نمایاں شناخت ان کی زبان پشتو ہے۔ زبان صرف رابطے کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ ایک قوم کی اجتماعی یادداشت، شاعری، لوک دانش، روایات اور تاریخی شعور کی محافظ ہوتی ہے۔ پشتو زبان میں صدیوں پر مشتمل شعری، ادبی اور ثقافتی سرمایہ موجود ہے۔ خوشحال خان خٹک، رحمان بابا اور دیگر شعرا نے پشتون معاشرے کے اخلاقی تصورات، محبت، بہادری، روحانیت اور انسانی اقدار کو الفاظ دیے۔ یہی ادبی روایت پشتون شناخت کا ایک بنیادی ستون ہے۔
پشتون معاشرت میں خاندان، قبیلہ اور برادری کے تعلقات کو تاریخی طور پر بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ جرگہ نظام، جس میں اجتماعی مشاورت کے ذریعے فیصلے کیے جاتے رہے، پشتون سماجی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ اگرچہ جدید ریاستی نظام میں بہت سی روایات تبدیل ہو رہی ہیں، لیکن جرگہ، مشاورت اور اجتماعی ذمہ داری کا تصور آج بھی کئی علاقوں میں موجود ہے۔
پشتونولی پشتون سماجی اخلاقیات کا وہ تصور ہے جس نے پشتون معاشرے کو ایک مخصوص شناخت دی۔ اس میں مہمان نوازی، پناہ دینا، عزت، وعدہ نبھانا اور آزادی پسندی جیسے تصورات شامل ہیں۔ ہر معاشرے کی طرح پشتون معاشرہ بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوا ہے، لیکن یہ اقدار اب بھی اس کی ثقافتی شناخت کا حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
پشتون تاریخ کو سمجھنے کے لیے اس خطے کے جغرافیے کو سمجھنا ضروری ہے۔ افغانستان، خیبر پختونخوا، بلوچستان کے بعض علاقے اور سابق قبائلی علاقے صدیوں سے تہذیبی اور تجارتی راستوں کا مرکز رہے ہیں۔ یہ خطہ وسطی ایشیا، ایران اور برصغیر کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اسی جغرافیائی اہمیت نے یہاں مختلف تہذیبوں، لشکروں اور سیاسی طاقتوں کے آنے جانے کا سلسلہ جاری رکھا۔
پشتون تاریخ میں مختلف ادوار آئے۔ کبھی مقامی قبائلی طاقتیں مضبوط رہیں، کبھی بڑی سلطنتوں نے یہاں اثر و رسوخ قائم کیا۔ لودھی اور سوری خاندانوں سمیت کئی پشتون حکمرانوں نے برصغیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ احمد شاہ درانی نے اٹھارہویں صدی میں افغانستان میں ایک بڑی سیاسی قوت قائم کی جسے جدید افغان ریاست کے قیام کے اہم مراحل میں شمار کیا جاتا ہے۔
لیکن تاریخ کا مطالعہ صرف فتوحات اور جنگوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اقوام کی اصل پہچان صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ انہوں نے کہاں حکومت کی، بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی زبان، ثقافت اور اجتماعی شعور کو کس طرح محفوظ رکھا۔ پشتونوں کی تاریخ میں مزاحمت، آزادی پسندی اور اپنی شناخت کے تحفظ کا عنصر نمایاں رہا ہے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ پشتون شناخت کو صرف مذہب کے ذریعے سمجھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ پشتون معاشرہ اسلام سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور صدیوں سے مسلمان ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی علاقائی، لسانی اور ثقافتی خصوصیات بھی موجود ہیں۔ کسی بھی قوم کی شناخت کئی عناصر کے مجموعے سے بنتی ہے، صرف ایک عنصر سے نہیں۔
اسی طرح برصغیر کے ہندو معاشروں کی بھی اپنی الگ تاریخی تشکیل ہے۔ برصغیر میں ہندو تہذیب ہزاروں برس کے مذہبی، فلسفیانہ، سماجی اور ثقافتی ارتقا کا نتیجہ ہے۔ مختلف زبانیں، علاقے، روایات اور تاریخی تجربات اس تہذیب کا حصہ ہیں۔ اس لیے دنیا کی بڑی تہذیبوں کو صرف سیاسی نعروں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔
افغان وزیر برائے زراعت، آبپاشی اور لائیو سٹاک مولوی عطااللہ عمری کا ہندوستان میں یہ بیان کہ " پشتونوں اور ہندوؤں کا ڈی این اے ایک ہے" سنجیدہ سیاسی اور تاریخی بحث کو جنم دیتا ہے۔ اگر مقصد صرف تاریخی روابط کا ذکر تھا تو یہ کہنا زیادہ درست ہوتا کہ خطے کے لوگوں کے درمیان صدیوں سے روابط رہے ہیں۔ لیکن "ڈی این اے" جیسی اصطلاح استعمال کرنے سے ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے جیسے پیچیدہ تاریخی اور ثقافتی شناختوں کو ایک سادہ جملے میں تبدیل کیا جا رہا ہو۔
قوموں کے درمیان تعلقات ہمیشہ پیچیدہ ہوتے ہیں۔ ایک ہی خطے میں رہنے والے معاشروں کے درمیان تجارت بھی ہو سکتی ہے، جنگیں بھی ہو سکتی ہیں، ثقافتی تبادلہ بھی ہو سکتا ہے اور سیاسی اختلافات بھی۔ تاریخ کی خوبصورتی یہی ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں قربت اور اختلاف دونوں کو بیان کرتی ہے۔
پشتون ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کسی دوسرے معاشرے سے نفرت کی جائے۔ اپنی شناخت پر فخر اور دوسروں کی شناخت کا احترام ایک ساتھ ممکن ہے۔ لیکن کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت کو سیاسی ضرورت کے تحت ایک ایسے نعرے میں تبدیل کرنا جس سے تاریخی حقیقتیں دھندلا جائیں، اس پر سوال اٹھانا ضروری ہے۔
واپس کریں